افغانستان: کامیاب صدارتی انتخاب کی عالمی ستائش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدارتی انتخاب میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں دو سابق وزرائے خارجہ زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ، اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی بھی شامل ہیں

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے کامیاب انعقاد اور بھاری ووٹرز ٹرن آوٹ پر افغان اور مغربی رہنماؤں نے تعریف کی ہے اور اسے ایک کامیابی قرار دیا ہے جبکہ پولنگ کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

افغان صدراتی انتخابات: کون کون میدان میں؟

شورش زدہ قوم میں پہلی مرتبہ بیلٹ باکس کے ذریعے اقتدار منتقل ہو رہا ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صدارتی انتخاب کے انعقاد کو ایک کامیابی قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان عوام نے ساری دنیا کے سامنے جمہوریت کے لیے حمایت ظاہر کر دی ہے۔

’بارش، سرد موسم کو دہشت گردانہ حملوں کے خوف کے باوجود پورے ملک سے ہماری بہنوں اور بھائیوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور ملک کو کامیاب اور باوقار بنایا۔ ‘

پولنگ کے دوران ملک کے کسی حصے سے تشدد اور دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹر میں سے ستر لاکھ سے زائد افغانیوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

تاہم ملک کے کئی حصوں سے بیلٹ پیپر کے ختم ہونے اور اکا دکا تشد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

آٹھ امیداوار صدر حامد کرزئی کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔

وائٹ ہاوس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے کہا ’ہم انتخابات کے لیے ٹرن آوٹ پر افغان عوام، سکیورٹی فورسز، اور الیکشن حکام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔‘

’یہ انتخابات افغانستان کے جمہوری مستقبل کے تحفظ اور بین القوامی حمایت جاری رکھنے کے لیے ضروری تھے۔‘

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا ’یہ افغان عوام کی ایک عظیم کامیابی ہے کہ تشدد کے خطرے کے باوجود بچے بوڑھے، جوان، مرو اور خواتین اتنی بڑی تعداد میں نکلے اور ملک کے مستقبل کے لیے اپنی رائے کا اظہار کیا۔‘

نیٹو کے فوجی اتحاد آنیرس فو راس موسن نے افغانستان کے انتخابات کو تاریخی موقع قرار دیا۔

’میں لاکھوں افغان مرد و خواتین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، کے انہوں نے اس قدر پرجوش انداز میں اتنا بڑا ٹرن آوٹ دیا۔‘

اس سے قبل افغانستان میں صدارتی انتخاب میں ہفتے کو پولنگ کا اہم مرحلہ اکا دکا واقعات کے علاوہ ملک کے بیشتر علاقوں میں پرامن طریقے سے انجام پذیر ہو گیا ہے۔

صدارتی انتخاب کے دوران طالبان کی جانب سے طاقت کے ذریعے انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

ان دھمکیوں اور شدید بارش کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دارالحکومت کابل میں لوگوں نے بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ملک کے دیگر حصوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں بھی پولنگ میں لوگوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے جن میں عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

پولنگ کے موقعے پر ملک بھر میں سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے اور اسے ایک بہت بڑا سیکیورٹی آپریشن قرار دیا جا رہا تھا۔

بھاری ووٹر ٹرن آؤٹ کی بنا پر پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹہ توسیع بھی کر دی گئی تھی اور پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد بھی جو لوگ پولنگ سٹیشنوں کے باہر کھڑے تھے انھیں اپنا ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔

کابل سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شدید بارش اور طالبان کی طرف سے دھمکیوں کے باوجود شہر میں میلے کا سا سماں ہے۔

افغانستان کی انتخابی فہرستوں کے مطابق ملک میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ ووٹروں ہیں۔

ملک بھر میں تقریباً چھ ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

ہفتے کی صبح چیف الیکشن کمشنر احمد یوسف نورستانی نے ووٹ ڈال کر پولنگ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔

ادھر طالبان کی جانب سے انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی دھمکی کو ناکام بنانے کے لیے افغانستان میں ایک بڑا سکیورٹی آپرشن جو پولنگ سے قبل شروع کیا گیا تھا پولنگ کے بعد بھی جاری رہا۔

غیرملکی صحافی خواتین پر حملہ: ایک ہلاک، دوسری زخمی

افغان صدراتی انتخاب: امیدوار کون ہیں؟

ہفتے کی صبح شمالی افغانستان سے بی بی سی کی کیرن ایلن نے اطلاع دی تھی کہ پولنگ سٹیشنوں کے باہر طویل قطاریں بننا شروع ہو گئی ہیں اور ووٹنگ کے عمل میں تیزی آنا شروع ہو رہی ہے۔

تاہم مغربی صوبے ہیرات اور کابل سے شمال مشرق میں واقع صوبے کپسا میں موسمی حالات اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کچھ پولنگ سٹیشنوں کو بند کرنے کی بھی اطلاعات تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ سٹیشنوں پر بیلٹ پیپر وقت پر نہ پہنچنے کی بھی موصول ہوئی تھیں۔

سنیچر کو ٹی وی پر براہِ راست نشریات میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے الیکشن کمیشن کے چیئرمین احمد یوسف نورستانی نے تمام افغانوں کو ووٹ ڈالنے کی تائید کی۔

کابل میں حفاظتی تدبیر کے طور پر جمعے کی دوپہر سے ٹریفک کو داخل ہونے نہیں دیا جا رہا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مبصرین کی ان انتخابات کے بارے میں توقعات میں بہتری آ رہی ہے۔

افغان صدارتی انتخابات میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے جن میں اشرف غنی احمد زئی، زلمے رسول اور عبداللہ عبداللہ کو اہم امیدوار قرار دیا جا رہا ہے جب کہ دیگر امیدواروں میں محمد داؤد سلطان زئی، قطب الدین جلال، گل آغا شیرزئی اور ہدایت امین ارسلہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدارتی انتخاب کے موقعے پر طالبان کی طرف سے حملے روکنے کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

افغانستان میں سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے موقعے پر طالبان کی طرف سے حملے روکنے کے لیے دو لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

نئے منتخب ہونے والے صدر حامد کرزئی کی جگہ لیں گے جو سنہ 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار میں ہیں تاہم وہ افغان آئین کے تحت مسلسل تیسری بار صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتے۔

لیکن مبصر کہتے ہیں کہ آگے مشکلات بھی ہیں اور افغانستان سے نیٹو کے انخلا کے تناظر میں طالبان کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے ہیں اور طالبان کے حملے روکنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ طالبان نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ایک بہت بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے حالیہ انتخابات کو سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ہر پولنگ سینٹر کے اردگرد سکیورٹی کے حصار بنائے گئے ہیں جس کے پہلے دائرے میں پولیس اور باہر کی طرف سینکڑوں فوجی تعینات ہیں۔

حکام کے مطابق رائے دہندگان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولنگ سٹیشنوں پر پولیس اہل کار تعینات کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق بین الاقوامی مبصرین کو امید ہے کہ سخت حفاظتی انتظامات اور دھوکہ دہی کے خلاف نئی ضمانت کے بعد حالیہ انتخابات گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں شفاف ہوں گے۔

صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

Image caption انتخاب سے پہلے تشدد کے واقعات جاری ہیں اور جمعے کو ایک شخص نے فائرنگ کر کے ایک غیرملکی خاتون صحافی کو ہلاک اور دوسری کو شدید زخمی کر دیا

ان صدارتی انتخاب میں آٹھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں دو سابق وزرائے خارجہ زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ، اور سابق وزیرِ خزانہ اشرف غنی بھی شامل ہیں۔

انتخاب سے پہلے تشدد کے واقعات جاری ہیں اور جمعے کو ایک شخص نے فائرنگ کر کے ایک غیرملکی خاتون صحافی کو ہلاک اور دوسری کو شدید زخمی کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور پولیس کی یونیفارم میں ملبوس تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹر نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس حملے میں اینجا نیدرنگہس ہلاک جب کہ کیتھی گینن شدید زخمی ہوگئیں۔ دونوں صحافی خواتین ایسوسی ایٹیڈ پریس نیوز ایجنسی کے لیے کام کر رہی تھیں۔

اسی بارے میں