امیدوار انتخابات کے نتائج تسلیم کر لیں گے: کرزئی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حامد کرزئی نے عالمی مبصروں سے کہا ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ طور پر انتخابات کی نگرانی کریں

افغان صدر حامد کرزئی نے امید ظاہر کی ہے کہ صدارتی امیدوار انتخابات میں لوگوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے انتخابات کے نتائج تسلیم کریں گے اور انتخابی مہم کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی تلخیوں کو انتخابات کے بعد ختم کر دیں گے۔

پانچ اپریل کے صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات سے پہلے مقامی ٹیلی ویژن چینلوں سے پشتو اور دری زبانوں میں نشر ہونے والے ایک پیغام میں صدر کرزئی نے کہا کہ سنیچر کو ہونے والے انتخابات میں رائے دینا افغان عوام کے لیے اس لیے اہم ہے کہ وہ اپنا نیا صدر منتخب کریں گے جس سے ملک میں جمہوری نظام مزید مستحکم ہوگا.

انھوں نے کہا کہ ہمارے امن کے دشمن اور غیرملکی خفیہ ایجنسیاں جتنی تخریبی کارروائیاں کر رہی ہیں افغانوں کا ان انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ اتنا ہی مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

کرزئی کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ لوگ آئین پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینا عوام کی طرف سے ان لوگوں کو موثر جواب ہوگا جو عوام کا جمہوری حق سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے پرامن انتخابات کے انعقاد کی کوششوں میں مدد کریں۔ انہوں نے عالمی مبصروں سے بھی کہا ہے کہ وہ غیرجانبدارانہ طور پر انتخابات کی نگرانی کریں۔

صدر کرزئی کے پیغام کے علاوہ مختلف افغان چینل پیغامات اور اشتہارات کے ذریعے افغان ووٹروں کی تربیت اور ترغیب کر رہے ہیں۔

پشتو زبان کے ایک اشتہار میں باپ اور بیٹے کے درمیان گفتگو میں اس تاثر کی نفی کی گئی ہے کہ انتخابات میں ووٹ ڈالنا مذہبی طور پر حرام ہے۔

چینل قومی ترانے اور گیت بھی نشر کر رہے ہیں جس سے افغانوں میں جذبۂ حب الوطنی اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ خطرات کو ایک انب رکھتے ہوئے پولنگ میں بڑی تعداد میں حصہ لیں۔

افغان میڈیا کی توجہ تین پہلوں پر سب سے زیادہ ہے۔ پہلے نمبر پر سکیورٹی خدشات، دوسرا افغانوں کا حق رائے دہی کا جذبہ اور تیسرا ہے انتخابات میں دھاندلی کا خدشہ۔

پشتو زبان کے اخبار ’سرنوشِت‘کا کہنا ہے کہ مخالفین انتخابات کے خلاف سامنے آ رہے ہیں لیکن یہ اخبار کے مطابق اتنے موثر نہیں کہ لوگوں کو پولنگ بوتھ سے دور رکھ سکیں۔

دری زبان کے اخبار ’ہشت صبح‘ انتخابی حکام سے تقاضہ کر رہا ہے کہ وہ فراڈ سے انتخابات کو بچانے کی پوری کوشش کریں کیونکہ یہ انتخابات ہی ان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

اسی بارے میں