افغانستان کا سرحدی چوکیوں پر حملوں کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیر داخلہ عمر داودزئی کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے تو روزانہ رات کو ایک یا دو سرحدی محافظوں کی چوکیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نواز حکومت اور طالبان میں جنگ بندی کے بعد سے افغان سرحدی چوکیوں پر حملوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

وزیر داخلہ عمر داودزئی نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے تو روزانہ رات کو ایک یا دو سرحدی محافظوں کی چوکیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور راتوں رات شکست کے بعد صبح تک پسپا ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم پاکستان سے اُمید تو مدد کی کر رہے تھے ناکہ توپوں کی۔‘

عمر داؤد زئی کا کہنا تھا’خوش قسمتی سے اتنے دباؤ کے باوجود ان حملوں میں جانی نقصان انتہائی کم ہے۔ ایک یا دو اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ لیکن جب ہم ان کا تعاقب کرتے ہیں تو ان کے نقصانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے گزشتہ دنوں خوست کے علاقے میں ایک چوکی پر حملے کا خصوصی ذکر کرتے کہا کہ جب چوکی پر حملہ ہوا تو اس کی مدد میں گولہ باری کی جاتی رہی۔

’یہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان فوج نے انتخابات میں مدد کی خاطر سرحد پر مزید فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تو ایک مسئلہ ہے جس سے ہم نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی ایک ایسے وقت جب ہم ایک قومی کوشش میں مصروف ہیں۔‘

عمر داود زئی جو اس سے قبل پاکستان میں افغان سفیر رہ چکے ہیں نے کہا کہ وہ اب کمزور نہیں اور ایسے چیلینجوں کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ ’وہ سرحد پار کرنے کی کوشش کریں تو ہم جواب دیں گے۔‘

افغان حکام کی جانب سے تازہ الزامات سے محسوس ہوتا ہے کہ تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔

ادھر افغانستان میں پاکستان کے سفیر سید ابرار حسین نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں افغانستان کے الزامات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں انتخابات کے بعد کمی آئے گی۔

ان کے بقول ’شاید ان بیانات کا تعلق انتخابات سے ہے۔ خوش قسمتی سے کسی افغان صدارتی امیدوار نے پاکستان پر الزامات نہیں عائد کیے ہیں۔‘

پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ کسی بھی اپنی کمزوری کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں