کامیاب الیکشن کے لیے افغان میڈیا بھی لائقِ تحسین

Image caption افغان میڈیا نے 2001 کے بعد غیرملکی امداد سے کافی تیز ترقی کی ہے

افغان انتخابات میں انتظامیہ، انتخابی کمیشن اور عوام تو ہیں ہی شاباش کے مستحق لیکن میڈیا کو بھی تھپکی جائز ہے۔ ایک ایسا میڈیا جو ’بریکنگ نیوز‘ کی بیماری سے پاک ہے، جہاں ٹِکر دل کو ٹُکر ٹُکر نہیں کرتے اور جہاں ہر پانچ منٹ بعد ’دھماکے کی آواز‘ نہیں سنائی دیتی۔

کابل میں دو چار دن کے قیام میں جو افغان نیوز چینل دیکھنے کو ملے انہیں کافی بالغ، سنجیدہ اور ’فوکسڈ‘ پایا۔ نہ پایا تو طالبان کو نہیں پایا۔ نہ ان کا کوئی بیان نہ دعویٰ۔

پاکستان میں تو تحریک طالبان کی عید ہے۔ اب تو انہوں نے باقاعدہ ویب سائٹ بھی بنا دی ہے اور سینکڑوں صحافیوں کو ای میل کے کشٹ سے بھی آزاد کر دیا ہے۔

افغان طالبان کی دھمکیوں کے سائے میں اگر سنیچر کو افغان بڑی تعداد میں ووٹ دینے نکلے تو اس کی بڑی اہم اور کلیدی وجہ میڈیا تھا۔ صبح ووٹنگ کا زور کم تھا لیکن میڈیا نے کوئی خوف پیدا کیے بغیر پولنگ کا عمل، بعض مقامات پر لمبی قطاریں دکھا کر لوگوں کا اعتماد بحال کیا جس کے بعد تو جیسے ووٹروں کا سیلاب سامنے آگیا۔

اس بلوغت کی بڑی وجہ بین الاقوامی ماہرین کی تربیت قرار دی جاتی ہے۔ آج کے اکثر افغان صحافی نوجوان ہیں جنہیں یورپی معیار کی تربیت حاصل ہے۔

آزاد افغان خبررساں ادارے پژواک کے مدیر سید مدثر شاہ کہتے ہیں: ’وہ سنسنی خیزی پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ پھر یہاں کی جمہوریت ان کے لیے ایک رومانس ہے۔ ایک نیا افیئر ہے لہذا وہ جان و من سے دل لگا کر اس کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

انتخابات یہاں ہو چکے لہذا برعکس پاکستانی رجحان کے جو چیچوکی ملیاں کے ایک چھوٹے پولنگ بوتھ کا نتیجہ حاصل کر کے فخر کرتے ہیں یہاں سب سے پہلے نتائج دینے کی کوئی ٹینشن نہیں ہے۔ ہاں امیدواروں کے بیانات ہیں، جیت کے دعوے ہیں لیکن اس کے سوا کچھ نہیں۔ بعض لوگ اس پر ناراض بھی ہیں کہ میڈیا نے نتائج اکٹھے کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔

افغان میڈیا نے 2001 کے بعد غیرملکی امداد سے کافی تیز ترقی کی ہے۔ اسے ایک ’کامیابی کی کہانی‘ مانا جا رہا ہے۔

اس کے ناقدین یقیناً اسے ’فارن ایجنڈا‘ قرار دیں گے کیونکہ اکثر چینلز کی فنڈنگ باہر سے آ رہی ہے لیکن جس ملک کی معیشت کو یو این ڈی پی دنیا کی تیسری غریب ترین کا لقب دے وہاں خودکفیل میڈیا ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

اگر بات فنڈنگ سے ہٹ کر خود مارکیٹ سے اپنی جگہ بنانے کی ہوتی تو شاید پھر ’کٹ تھروٹ‘ مقابلہ یہاں بھی ویسا ہی ہوتا جیسا پاکستان میں ہے۔

سید مدثر علی شاہ بھی اس سے متفق ہیں: ’یہاں بھی یہ خطرہ موجود ہے۔ دیگر کئی اداروں کی طرح افغان میڈیا بھی پوری طرح اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوا ہے۔ اس کے مالی استحکام میں ابھی وقت لگے گا۔ سبسکرپشن سے یہ زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ 2014 کا منفی اثر اس پر بھی ہوگا لیکن جس پیشہ ورانہ طریقے سے بعض ادارے چلائے جا رہے ہیں تو وہ بچ جائیں گے۔‘

میڈیا پر نسلی و قبائلی کنٹرول بھی ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چینل کھولنے کی اجازت ہے۔ ’نور‘ اگر جمعیت اسلامی کا ٹی وی ہے تو ’آئینہ‘ جنرل رشید دوستم چلا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں ان جیسے چینلوں کی شفقت کن کی طرف رہی اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

طالبان کے دور میں ٹی وی پر تو مکمل پابندی تھی لیکن ریڈیو شریعت فعال رہا۔ طالبان کے جانے کے بعد ابتداء میں بین الاقوامی افواج نے اپنا میڈیا قائم کیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ آئیساف اخبار کباب پیک کرنے کے لیے بہترین ہیں۔

انتہائی کم خواندگی والے ملک میں اخبارات کبھی زیادہ اچھے معیار کے دیکھنے میں نہیں آئے لیکن ٹی وی اور ریڈیو نے زبردست پھیلاؤ دیکھا ہے۔ ایک مسئلہ دری زبان والے میڈیا کی اکثریت ہے۔ پشتو میڈیا کی کمی اسی لیے شاید طالبان میڈیا پوری کر رہا ہے۔

ریجنل سٹیڈیز سینٹر آف افغانستان کے عبدالغفور لیوال نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ یقینا افغان میڈیا کے مسائل بہت ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی اہمیت بہت تھی:’زیادہ صحافی ابھی بھی ایمیچور ہیں، بعض میڈیا کے حصہ غیرجانبدار نہیں ہوں گے، معاشی مسائل ہوں گے، بعض چینل بعض امیدواروں کے حامی بھی ہوں گے لیکن اس کے باوجود اس کا کردار اہم رہا ہے۔‘

صحافیوں کو خطرات اور دھونس دھمکی میں افغانستان اور پاکستان میں شاید کوئی زیادہ فرق نہیں۔ یہاں بھی صحافیوں نے اپنے پیشے کی خاطر جانوں کے نذرانے دیے ہیں۔ بی بی سی سے منسلک تین ہلاک ہونے والے صححافیوں کی تصاویر کابل کے دفتر میں آویزاں ہیں۔ یہ اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ صحافت میں تحفظ کا نہ ماضی میں اور نہ اب کوئی امکان ہے۔

ہر ملک کے میڈیا کی طرح افغان میڈیا بھی مسائل سے مبرا نہیں لیکن فی الحال ان کی ساکھ اور جھکاؤ کافی حد تک واضح ہے۔

اسی بارے میں