کشمیر: بندوق کے بعد سیاست

Image caption حالیہ دنوں میں پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے نوجوانوں کو پارٹی میں شامل کیا ہے

صحافت کے مختصر کریئر کے دوران ہی 27 سالہ محمد طاہر سعید سیاسی دنیا کی طرف مائل ہوگئے۔ انھوں نے گذشتہ روز صحافت کو الوداع کہا اور ہندنواز سیاسی تنظیم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں شمولیت اختیار کرلی۔

بھارت کے قومی انتخابات سے قبل درجنوں تعلیم یافتہ نوجوان ہندنواز گروپوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کو یہاں کے سیاسی حالات میں نمایاں تبدیلی کا غماز کہا جارہا ہے۔

پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے طاہر سعید اور دوسرے نوجوانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا: ’پارلیمنٹ سے باہر رہ کر ہمارے نوجوان چیختے چلّاتے رہے لیکن ان کی فریاد کو نظرانداز کیا گیا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے نوجوان اپنی بات منوانے کے لیے خود پارلیمنٹ کے اندر جانے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔‘

طاہر سعید کا کہنا ہے : ’کشمیر میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ایک سسٹم کے تحت ہو رہا ہے اور جب تک نوجوان سسٹم کے اندر اپنی آرزؤں کی نمائندگی نہیں کرائیں گے تب تک ان کی ہر فریاد کا ردعمل ملک دشمنی کی تہمت کی صورت میں آئے گا۔‘

صحافی وحید الرحمان پرّہ اور طالب علم محمد سعید آغا نے بھی اسی تنطیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

Image caption جنید عظیم نے عمر عبداللہ کی پارٹی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی ہے

حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں۔ امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وادی لوٹنے والے جُنید عظیم متّو اور تنویر صادق نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کر لیا ہے۔ اسی طرح نئی ٹیکنالوجی کی تمام تر فنی وسعتوں کا علم حاصل کرنے کے بعد سلمان انیس سوز بھی کانگریس کی کشمیر شاخ میں سرگرم ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کل جو نوجوان بندوق، لاٹھی اور پتھر کو مزاحمت کی علامت سمجھتے تھے آج وہی نوجوان سیاست کو مزاحمت کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔ کشمیر میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کے خدوخال کی مختلف حلقوں میں مختلف تعبیریں کی جا رہی ہیں۔

ہندنواز حلقوں کا خیال ہے کہ کشمیریوں نے اب اعتراف کرلیا ہے کہ وہ بندوق یا تشدد سے بھارت کو سیاسی رعایت دینے پر مجبور نہیں کر سکتے، اسی لیے انھوں نے اب سیاست کو مزاحمت کا ہم معنی سمجھ کر اس میں غوطہ زن ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

دوسری طرف علیحدگی پسند حلقے کشمیر میں پولیس اور فوج کی موجودگی اور وسیع پیمانے پر سماجی سرگرمیوں میں ان اداروں کے کردار کا حوالہ دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر گذشتہ 20 برسوں سے مظاہروں، مزاحمت، کرفیو، ہڑتال کا دور دیکھتا آیا ہے

حریت کانفرنس ع کے سربراہ میر واعظ عمرفاروق کہتے ہیں: ’یہاں عملاً فوجی راج ہے۔ ایک لاکھ ایکڑ زمین پر فوج اور سیکورٹی فورسز قابض ہیں۔ ہماری سرگرمیوں پر پابندی ہے۔ ٹیلیفون، ایس ایم ایس اور سوشل نیٹ ورک پر پولیس کا کڑا پہرہ ہے۔ جو لوگ پرامن طور پر کشمیریوں کی خواہشات کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں ان کو پاسپورٹ نہیں دیا جاتا، نوکریوں سے برخاست کیا جاتا ہے اور تعلیمی مواقع سے بھی دور رکھا جاتا ہے۔‘

علیحدگی پسندوں کا استدلال اپنی جگہ، لیکن نوجوانوں کا ایک حلقہ ہندنواز سیاسی تنظیموں میں شامل ہوکر سڑکوں پر محتاط نعرے بازی کرتا نظر آ رہا ہے۔ غیر جانبدار حلقوں کا خیال ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح کم ہونے کے بعد یہ ممکن ہوسکا ہے کہ مختلف نظریاتی دھارے متوازی طور بہنے لگیں۔

تجزیہ نگار طارق علی میر کہتے ہیں: ’پہلے پہل کسی ہندنواز سیاسی تنظیم میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ آپ نے تحریک آزادی کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ اب تو یہ ایک نارمل بات ہے۔ اس کی وجہ مسلح اور غیرمسلح علیحدگی پسندوں کا نظریاتی ارتقا ہے۔ حالیہ دنوں ایک عمررسیدہ سیاستداں پر فائرنگ کی گئی، سید علی گیلانی نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ سیاسی نظریات کا حامل ہونا کوئی جرم نہیں۔‘

لگتا تویہی ہے کہ حالات بدل رہے ہیں، لیکن ہندنواز سیاست کو ملنے والی سماجی مقبولیت کوئی یک طرفہ معاملہ نہیں ہے۔ ہندنواز سیاست کا لہجہ بھی بدل گیا ہے۔ ابھی تک کوئی بھی ہندنواز گروپ یہ کہنے کا متحمل نہیں ہوسکا ہے کہ ’بھارت ایشیا کی بڑی طاقت ہے لہٰذا اس ملک کے ساتھ سیاسی مستقبل وابستہ کرنا گھاٹے کا سودا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption علیحدگی پسند حلقے کشمیر میں پولیس اور فوج کی موجودگی اور وسیع پیمانے پر سماجی سرگرمیوں میں ان اداروں کے کردار کا حوالہ دیتے ہیں

اس کے برعکس ہندنواز سیاسی گروپوں نے گذشتہ برسوں میں جو لہجہ سازی کی ہے اس سے ’مسئلہ کشمیر کو حل کرو،‘ ’عزت و آبرو بحال کرو،‘ ’ظلم و تشدد بند کرو‘ وغیرہ نعرے مین سٹریم سیاست کا حصہ بن گئے ہیں۔

لیکن علیحدگی پسند اس باریک پہلو کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سید علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یسین ملک جیسے رہنما اکثر کہتے ہیں: ’ہندنواز سیاست داں کشمیریوں کا جذباتی استحصال کرتے ہیں۔ وہ اقتدار کے عوض ہمارے وسائل کا سودا کرتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔‘

واضح رہے پولیس ریکارڈ کے مطابق گذشتہ چھ برسوں میں نو ہزار سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، اور تقریباً دو ہزار کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمے درج کیے گئے۔ ابھی بھی علیحدگی پسند رہنماؤں کو عوامی اجتماعات سے خطاب کی اجازت نہیں ہے، یہاں تک کہ مذہبی ضرورتوں پر بھی قدغن ہے۔ لیکن طاہر سعید جیسے نوجوانوں کو امید ہے کہ سیاست کو مزاحمت کا میدان بنانے سے حالات ضرور ان کے حق میں بدلیں گے۔

کیا یہ سب علیحدگی پسند نظریات کی شکست ہے، یا محض علیحدگی پسندوں کی تدبیر کی شکست؟ آئندہ ایام میں شاید اس سوال کا جواب برآمد ہو۔

اسی بارے میں