انڈیا میں انتخابی جنگ کا پہلا بڑا معرکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں دس اپریل کو تیسرے مرحلے کا انتخاب ہو رہا ہے

انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں ہلکی پھلکی جھڑپوں کے بعد جمعرات کو سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کی پہلی بڑی جنگ ہوگی، داؤ پر 91 نشستیں ہیں جو اس الیکشن کا رخ طے کر سکتی ہیں۔

دس اپریل کو تیسرے مرحلے میں اگرچہ 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے لیکن نگاہیں شاید سب سے زیادہ مغربی اترپردیش پر ٹکی رہیں گی، یہ دیکھنے کے لیے کہ مظفرنگر کے مذہبی فسادات انتخابی عمل پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

مظفرنگر کے آس پاس کے علاقوں میں گذشتہ سال ستمبر میں مسلمانوں اور جاٹوں کے درمیان فساد ہوا تھا جس میں 60 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہوگئے تھے۔ اسی وقت سے یہ الزام گردش کرتا رہا ہے کہ یہ فساد پارلیمانی انتخابات سے قبل ووٹروں کو مذہبی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش تھی اور اب آزمائش کی گھڑی آ پہنچی ہے۔

اگر واقعی لوگ مذہب کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں تو دس سال کے وقفے کے بعد بی جے پی کے لیے دہلی میں اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ لیکن دارومدار اس بات پر بھی ہوگا کہ مسلمان اور سیکولر سوچ رکھنے والے ہندو ووٹر کس کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے ووٹ کس حدتک تقسیم ہوتے ہیں۔

بہت سے مسلمان فسادات کی وجہ سے ریاست کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی سے ناراض ہیں لیکن اکثر ووٹ دیتے وقت وہ فیصلہ اپنی پسند اور ناپسند کے بجائے اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ان کے حلقے میں بی جے پی کے امیدوار کو کون ہرا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Agencies
Image caption ان انتخابات میں کئی نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں

اتر پردیش میں لوک سبھا کی 80 سیٹیں ہیں اور یو پی کو فتح کیے بغیر بی جے پی اقتدار میں واپس نہیں آ سکتی۔ لیکن زیادہ تر حلقوں میں تین یا چار مضبوط امیدوار ہی میدان میں ہیں اور جب انتخابی حلقوں میں 15 سے 20 لاکھ ووٹر ہوں اور سیاسی وابستگیاں کہیں مذہب کی اور کہیں ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہوں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

دہلی اور ہریانہ میں ایک ہی دن میں پولنگ مکمل ہو جائے گی۔ 2009 میں کانگریس نے دہلی کی ساتوں سیٹیں جیت لی تھیں لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، اب عام آدمی پارٹی بھی میدان میں ہے اور ساتوں سیٹوں پر اب سہ رخی مقابلہ ہو رہا ہے۔ نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنائے جانے کےبعد سے بی جے پی کے ورکروں میں ایک نیا جوش و خروش آ گیا ہے۔ لیکن بڑا شہر ہونے کی وجہ سے دہلی میں ذات پات کی سیاست اتنی اہم نہیں ہے جتنی بہار اور اتردیش جیسی ریاستوں میں ہے۔

عام آدمی پارٹی کےلیے بھی یہ بڑی آزمائش ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے الیکشن سے ہی یہ ثابت ہوگا کہ روایتی سیاست سے عاجز آ کر جن ووٹروں نے بڑی تعداد میں دسمبر کے اسمبلی انتخابات میں اس کی حمایت کی تھی، وہ اب بھی پارٹی کے ساتھ ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظفر نگر میں جہاں گذشتہ دنوں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے وہاں بھی جمعرات کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

ہریانہ میں دس سیٹیں ہیں اور وہاں بھی کانگریس کی گرفت اب ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ دہلی کے بعد ہریانہ بھی عام آدمی پارٹی کے نشانے پر ہے کیونکہ وہاں جلد ہی اسمبلی کے انتخابات بھی ہونے ہیں اور اس پارلیمانی الیکشن ہی سے یہ اندازہ ہوگا کہ پارٹی کیا ان دیہی علاقوں میں بھی مقبولیت حاصل کر سکتی ہے جو اب بھی اپنے پرانے طور طریقوں پر ہی چلنا پسند کرتے ہیں۔ ہریانہ میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات عام ہیں اور ایسے معاشرے میں عام آدمی پارٹی کا پیغام کیا رنگ لاتا ہے، اس پر سب کی نگاہیں جمی رہیں گی۔

تیسرے مرحلے میں جن ریاستوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے ان میں انڈومان نکوبار، بہار، چنڈی گڑھ، چھتیس گڑھ، ہریانہ، جموں کشمیر، جھاڑکھنڈ، کیرالہ، لکشدیپ، مدھیہ پردیش، مہارشٹر، دلہلی، اڑیسہ اور اترپردیش شامل ہیں۔

دہلی میں 13 خواتین سمیت ڈیڑھ سو امیدوار میدان میں ہیں۔ سب سے زیادہ 25 امیدوار سب سے چھوٹے حلقے چاندنی چوک سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں جہاں ووٹروں کی تعداد تقریباً ساڑھے 14 لاکھ ہے۔ سب سے بڑا حلقہ شمال مغربی دہلی ہے جہاں تقریباً 22 لاکھ ووٹرز ہیں جو 14 امیدواروں میں سے اپنے نمائندے کا انتخاب کریں گے۔

لوک سبھا کی 543 سیٹوں کے لیے پولنگ نو مراحل میں پوری کرائی جائے گی اور نتائج کا اعلان 16 مئی کو ہوگا۔

اسی بارے میں