پاکستان افغانستان تعلقات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کبھی بھی سو فیصد دوستانہ نہیں رہے لیکن اس مرتبہ کابل میں حکومتی اور دانشور طبقے سے بات کر کے اندازہ ہوا کہ فی الحال اعتماد کی کمی کی وجہ سے یہ انتہائی پست سطح پر ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ شاید پاکستانی حکمرانوں کا افغان صدر حامد کرزئی سے کسی قسم کی مفید بات کرنے سے انکار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے نئے صدر کے تقرر تک انھوں نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔

دوسری جانب موجودہ افغان حکمرانوں نے پاکستان مخالف بیانات دے کر وہ یہ تاثر راسخ کر دیا ہے کہ اسلام آباد کبھی بھی ان کی بھلائی کا کوئی کام کرنا تو درکنار اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

افغان وزیر داخلہ عمر داؤدزئی نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں پاکستان پر پرانا الزام دُہرایا کہ اس کے قول اور فعل میں تضاد موجود ہے: ’پاکستان آج بھی جو کہتا ہے وہ کرتا نہیں ہے۔ یہ فرق ختم ہونا چاہیے۔‘

وزارت داخلہ کا چارج سنبھالنے سے قبل پاکستان میں افغان سفیر کے اہم فرائض سرانجام دینے والے عمر داؤدزئی نے کہا کہ پاکستان کا بیان کہ وہ اس قضیے میں غیرجانبدار ہے درست نہیں: ’پاکستان کہتا ہے کہ اس کا افغانستان میں اب کوئی پسندیدہ امیدوار نہیں ہے ۔ یہ مناسب موقف نہیں ہے کیونکہ ایک جانب انتہا پسند ہیں اور دوسری جانب منتخب حکومت۔ آپ دونوں کو کیسے ایک لاٹھی سے ہانک سکتے ہیں؟‘

عمر داؤدزئی پاکستان کے اس موقف سے بھی متفق نہیں کہ اس کا طالبان پر اثر ہے لیکن کنٹرول نہیں: ’یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ان پر اثرانداز ہوں لیکن کنٹرول نہ رکھتے ہوں۔‘

دوسری جانب پاکستان اس تاثر کو رد کرتا ہے کہ اس نے افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مصالحتی عمل میں تاخیر کی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پیش رفت کی گنجائش موجود ہے: ’وہ کس طرح شریکِ اقتدار ہوں گے اس پر مزید بات ہوسکتی ہے۔ اگر وہ انتخابات میں حصہ لے لیتے تو اچھا ہوتا لیکن صدر کرزئی نے کہا ہے کہ انھیں غیر منتخب عہدے، مثلاً گورنر اور اس جیسے دیگر انتظامی عہدے دیے جاسکتے ہیں۔‘

سرتاج عزیز اس تاثر سے متفق نہیں کہ کرزئی طالبان مذاکرات میں کوئی بات ابھی بنے لگی ہے: ’اگر نئی افغان حکومت وہیں سے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھاتی ہے جہاں اس وقت کرزئی کے ساتھ ہے کہ انھیں کوئی نہ کوئی اشتراک اقتدار کا موقع ملتا ہے تو طالبان شاید رضامند ہو جائیں۔ کیونکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ جو چیز انھیں میدان جنگ میں نہیں ملی سکتی تو ظاہر ہے وہ پھر اسے قبول کریں گے۔‘

یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سرتاج عزیز طالبان کی سوچ سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کی جگہ بول رہے ہیں۔ اس قسم کے بیانات کہ جیسے وہ طالبان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں، شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔

پاکستان افغانستان کی طالبان کے ساتھ بات بنانے میں مدد کر سکتا ہے یا نہیں، پاکستانی فوج افغانستان کو بطور ’سٹرٹیجک ڈیپتھ‘ اب بھی دیکھتی ہے یا نہیں، اور سب سے اہم یہ کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار قیام امن کا کتنا خواہاں ہے؟ یہ خدشات کابل کے گلی کوچے میں گھومنے والے ہر عام افغان کو آج بھی لاحق ہیں۔

گذشتہ دس بارہ برسوں کے دوران مجھے کئی بار کابل آنے کا موقع ملا لیکن اس مرتبہ اس پاکستان مخالف رائے کو زیادہ راسخ پایا۔

پاکستان کا ماضی میں افغانستان میں کردار اس کے آج کی ’مخلصانہ خواہشات اور کوششوں‘ کو گرہن لگا رہا ہے۔ قصور ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن موجودہ افغان حکمران اپنے آخری دنوں میں بظاہر اپنی کمزوریوں کا ملبہ پاکستان پر بھرپور انداز میں ڈال رہے ہیں۔

عمر داؤزئی جو مقامی افغان میڈیا پر طویل اخباری کانفرنسیں کرتے نہیں تھکتے، جن میں پاکستان کی کھل کر کلاس لیتے ہیں لیکن پاکستان سے آئے صحافی سے اس پر آن ریکارڈ بات کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے بھی کافی عرصہ ہوا کسی پاکستانی میڈیا کو انٹرویو نہیں دیا، لیکن ہر تقریر میں نام نہ لے کر خارجی خفیہ اداروں پر تباہی و بربادی کا الزام عائد کر دیتے ہیں۔ اشارہ سب کو معلوم ہے کس جانب ہوتا ہے۔ مقصد واضح ہے، اپنی قوم کے سامنے پاکستان کو دشمن بنا کر پیش کرنا افغان حکومت کے لیے فیشن ہے۔ شاید یہی بات انھیں مقبولیت دیتی ہے۔ جو باتیں اور الزامات حکومتی سطح پر ہونے چاہیے تھے وہ اپنے عوام کے جذبات ابھارنے کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔

اس پالیسی کا نتیجہ کافی خطرناک صورت میں سامنے آیا ہے۔ ’پاکستانی ریاست، فوج اور خفیہ اداروں کے دشمن ہونے کی سوچ پر اب افغان عوام متفق ہوچکی ہے۔ پاکستانی عوام کی بات مختلف ہے۔‘ یہ کہنا ہے کابل میں ریاستی تحقیقی ادارے ریجنل سٹیڈیز سینٹر آف افغانستان کے ڈائریکٹر عبدالغفور لیوال کی۔ وہ کہتے ہیں: ’کاش ایسا نہ ہوتا۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں افغان عوام کی بھرپور شرکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمسایہ مالک کے ساتھ محض سفارت کاری کے ذریعے نہیں نمٹ سکتے لہٰذا ان کے خیال میں ان ممالک کا مقابلہ ایک مضبوط افغانستان ریاست ہی کر سکتی ہے۔

ایسے مشکل حالات میں کیا ہے جو تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرسکتا ہے؟ سب سے پہلے تو دونوں ممالک کو مل کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ غیرسرکای عناصر کو تعلقات میں مزید تلخیاں پیدا نہ کرنے دیا جائے۔ مشترکہ سرحدی کمیشن اس بابت ایک اچھی کوشش ہے دونوں ممالک کی فوجوں کو اسے کامیاب بنانا چاہیے۔

Image caption افغانستان میں پاکستان کے سفیر سید ابرار حسین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالیہ پاکستان مخالف فضا انتخابات کی وجہ ہے اور بعد میں حالات معمول پر آ جائیں گے

خوش قسمتی سے دونوں ممالک میں نہ صرف نئے پرعزم سفیر مقرر ہوئے ہیں بلکہ آئندہ چار برسوں کے لیے حکومتیں بھی اقتدار میں ہوں گی تو مخلص تعلقات کا آغاز ہوسکتا ہے۔ عمر داؤدزئی کا کہنا تھا کہ ’اگر ملا عمر پاکستان میں ہیں اور کسی نے انہیں پناہ دی ہوئی ہے تو ہوسکتا ہے، ہو سکتا ہے کسی نے فضل اللہ کو بھی یہاں پناہ دی ہو۔ اگر آپ حوالے نہیں کر سکتے تو ہم بھی نہیں کر سکتے۔‘

وٹے سٹے کی یہ پالیسی کسی کے حق میں نہیں، اگر ہے تو محض شدت پسندوں کے حق میں۔

پاکستان معاشی طور پر بھی افغانستان سے بہت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ 2011 سے پاکستان سے افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں کمی کو نہ صرف روکا سکتا ہے بلکہ اس میں اضافے کی بھی گنجائش بہت ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ مزید زہر پھیلنے سے روکنے کی خاطر ایک دوسرے کے ملک میں ایک دوسرے کے صحافیوں کو مستقل بنیادوں پر تعینات کرنے کا انتظام ہونے سے کم از کم مقامی ’کنزمشن‘ کے لیے بیانات دینا بند ہوں گے، جس سے ایک دوسرے کی پوزیشن سمجھنے میں مدد ملے گی۔ امید کی جاسکتی ہے کہ کابل میں نئی انتظامیہ اور نواز شریف حکومت ماضی والی پالیسی سے ہٹ کر اختلافی معاملات پر بات میڈیا کی بجائے سرکاری چینلوں سے کریں گے۔

اسی بارے میں