بھارتی انتخابات سے متعلق بعض دلچسپ حقائق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Hindi
Image caption بھارت میں 16ویں لوک سبھا کے لیے انتخابات جاری ہیں

بھارت میں سات اپریل 2014 کی صبح سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات ایک ماہ سے زیادہ کی مدت میں مکمل ہوں گے۔

نو مراحل میں ہونے والے ان انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ 12 مئی کو ہونی ہے اور ووٹوں کی گنتی کی تاریخ 16 مئی مقرر کی گئی ہے۔

بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کی کل 543 نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں اور انتخابات کے بعد کسی بھی جماعت یا سیاسی اتحاد کو نئی حکومت کے قیام کے لیے 272 ارکان کی ضرورت ہو گی۔

بی بی سی نے اپنے قارئین کے لیے بھارت کے عام انتخابات سے منسلک بعض دلچسپ حقائق پر مبنی اعداد و شمار جمع کیے ہیں۔

2014 میں بھارت کے رائے دہندگان کی تعداد 81 کروڑ 45 لاکھ سے بھی زیادہ ہے جبکہ یورپی یونین کی کل آبادی 50 کروڑ تین لاکھ کے قریب ہے۔

2009 کے عام انتخابات میں بھارتی ووٹروں کی کل تعداد 71 کروڑ 30 لاکھ تھی۔ یعنی گذشتہ پانچ برسوں میں ووٹروں کی تعداد میں دس کروڑ سے بھی زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں سب سے زیادہ ووٹرز جس انتخابی حلقے میں ہیں وہ حلقہ آندھر پردیش میں آتا ہے

گذشتہ عام انتخابات میں پولنگ مراکز کی کل تعداد 830،866 تھی جبکہ اس بار پولنگ مراکز کی کل تعداد نو لاکھ 30 ہزار ہے۔

2009 كے عام انتخابات میں سکیورٹی کے لیے 12 لاکھ پولیس،نیم فوجی اور فوجیوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جبکہ روس کی فوج میں شامل کل فوجیوں کی تعداد 8.45 لاکھ ہے۔

گذشتہ انتخابات میں انتخابی کمیشن نے انتخابی عمل کی تکمیل کے لیے تقریباً 120 ریل گاڑیاں استعمال کی تھیں اور 55 ہیلی کاپٹروں کی مدد لی گئی تھی۔

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ملکاج گری کے لوک سبھا حلقے میں سب سے زیادہ ووٹروں کی تعداد ہے جہاں 53 لاکھ 29 ہزار رائے دہندگان آباد ہیں۔

اس کے برعکس سب سے کم ووٹروں والا لوک سبھا کا حلقہ لکش دیپ ہے جہاں صرف 47972 ووٹرز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں انتخابات کرانے میں اخراجات میں اضافہ ہوا ہے

بھارتی الیکشن کمیشن سے منظور شدہ قومی پارٹیوں کی کل تعداد چھ ہے جبکہ صوبائی سطح کی 45 جماعتوں کو کمیشن نے تسلیم کر رکھا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتوں کی کل تعداد 720 ہے۔

گذشتہ عام انتخابات میں سب سے زیادہ خواتین امیدوار جیت کر آئی تھیں جن کی تعداد 59 تھی اور یہ ایوان کا کل 11 فیصد ہے۔ 1977 کے انتخابات میں سب سے کم 19 خواتین امیدوار جیت کر آئی تھیں۔

1952 میں ہر سیٹ پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی اوسط تعداد 67 . 4 تھی جبکہ 2009 میں ہر سیٹ پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی اوسط تعداد 86.14 تھی۔

1952 کے پہلے عام انتخابات میں ایک ووٹر کے عوض 60 پیسے کا خرچ پڑا تھا جبکہ 2009 کے عام انتخابات میں ایک ووٹر پر انتخاب کرانے کا خرچ 12 روپے ہو گيا تھا اور اس بار اس خرچ میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں