بھارتی انتخابات: ووٹنگ مشین کا پوسٹ مارٹم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مشین کا استعمال کئی انتخابات سے جاری ہے لیکن پہلی بار سنہ 2000 میں پہلی بار پورے ملک میں اسے استعمال کیا گيا

بھارت کے انتخابی عمل میں جہاں الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کے دیگر ارکان اور سکیورٹی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں وہیں ووٹ ڈالنے کی الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے جس نے انتخابی عمل کو قدرے آسان بنا دیا ہے۔

انتخابات کے دوران جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی اور متنازع بیان بازی کا بازار گرم رہتا ہے وہیں اس مشین کے بھی تذکرے رہتے ہیں۔

ای وی ایم یوں تو کبھی تنازعات سے آزاد نہیں رہی لیکن بھارتی انتخابی کمیشن نے اسے ہمیشہ محفوظ اور صحیح مانا ہے۔

ہندوستان کی عوام کو بھی الیکشن کمیشن سے اتفاق ہے۔ کبھی کبھی بعض سیاستدان انتخابات میں ای وی ایم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن کسی بڑی قومی پارٹی نے کبھی اس کے خلاف کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا ہے۔

اس الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ بیلٹنگ یونٹ کا ہے جو ووٹروں کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرا کنٹرول یونٹ ہے جو پولنگ افسروں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

ای وی ایم کے دونوں حصے ایک پانچ میٹر لمبے تار سے منسلک رہتے ہیں۔ بیلٹ یونٹ ایسے مقام پر رکھی جاتی ہے جہاں رائے دہندہ کو ووٹ ڈالتے وقت کوئی بھی دیکھ نہ سکے۔

حساس علاقے کے پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل براہ راست نشر کیا جاتا ہے جسے کسی بھی مقام سے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس مشین پر زیادہ سے زیادہ 64 امیدواروں کے علامتی نشان دکھائے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی انتخابی حلقے میں 64 سے زیادہ امیدوار میدان میں ہوں تو پھر انتخابی کمیشن کاغذ کے بیلٹ کا استعمال کرنے کے لیے پابند ہے۔

ای وی ایم: کچھ دلچسپ حقائق

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس مشین کے لیے الیکشن کمیشن اساتذہ اور دوسرے سرکاری اہلکاروں کا استعمال کرتا ہے

سنہ 2000 کے انتخابات میں پہلی بار پورے بھارت کے رائے دہندگان نے ای وی ایم کے ذریعے ووٹ ڈالے تھے۔

ای وی ایم اس طرح سے بنائی گئی ہے کہ ناخواندہ ووٹرز بھی انتخابی نشان کے سامنے لگے بٹن کو دبا کر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔

ہر ای وی ایم کے اندر ایک چھ وولٹ کی الكلائن بیٹری ہوتی ہے جو بجلی نہ ہونے پر بھی مشین کو آن رکھتی ہے۔

ایک ای وی ایم زیادہ سے زیادہ 3840 ووٹ درج کر سکتی ہے۔ عام طور پر کسی بھی پولنگ مرکز پر 1500 سے زیادہ ووٹر نہیں ہوتے۔

ای وی ایم پر زیادہ سے زیادہ 64 امیدوار دکھائے جا سکتے ہیں۔

ان انتخابات میں پہلی بار ہر ای وی ایم میں آخری بٹن ’نوٹا ' یعنی ’اوپر درج ناموں میں سے کوئی بھی نہیں' کا ہوگا۔

ای وی ایم کے اندر 10 سالوں تک کے نتائج کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اندر سے ای وی ایم مشین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ای وی ایم میں دو یونٹ ہوتے ہیں

1- مشین کے ووٹر والے حصہ پر امیدواروں کے نام اور ان کا نمبر یا سیریل نمبر لکھا ہوتا ہے۔

نام ایک دو یا تین زبانوں میں لکھے جاتے ہیں اور جس علاقے میں جو زبان رائج ہے اس زبان کا استعمال ہوتا ہے۔ نام کے ساتھ ہی امیدوار کا انتخابی نشان بھی ہوتا ہے۔ انتخابی نشان بھی ان رائے دہندگان کو ذہن میں رکھ کر بنائے گئے ہیں جو لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ انتخابی علامات کے تعلق سے الیکشن کمیشن کے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ مثلا کوئی بھی امیدوار یا پارٹی ’خنزیر (سور) یا ’نوٹ کی گڈی ' کے نشان پر انتخاب نہیں لڑ سکتا۔

اگر اتفاق سے ایک حلقے میں ایک نام کے ایک سے زیادہ امیدوار ہوئے تو ان کے نام کے آگے بریکٹ میں امیدوار کے گھر یا پیشے کے بارے میں درج کیا جاتا ہے تاكہ ووٹر کو کوئی ابہام نہ ہوں۔ اس مرتبہ پہلی بار ہر ای وی ایم میں آخری بٹن نہیں کا دیا گيا ہے۔ یعنی اگر ووٹر کو کوئی بھی امیدوار پسند نہ آئے تو وہ اوپر درج ناموں میں سے کوئی بھی یعنی نہیں کا آپشن اپنا سکتا ہے۔

2۔ نام کے آگے ہی ایک نیلا بٹن ہوتا ہے جو ووٹ دینے کے لیے دبایا جاتا ہے۔ جس اکاؤنٹ میں ووٹ درج ہو گا اس نام کے سامنے نصب ایک چھوٹی سی لائٹ بھی چمک اٹھتی ہے۔ اس مرتبہ پہلی بار ہر ای وی ایم پر بریل میں نیلے بٹن کے ہی اگلے بریلر معروف رسم الخط میں امیدوار کا سیریل نمبر لکھا گیا ہے۔ جو نابینا امیدوار بریل نہیں جانتے وہ اپنے ساتھ مدد کے لیے کسی کو لے جا سکتے ہیں۔

3۔ کنٹرول یونٹ جہاں دراصل ووٹ درج ہوتے ہیں۔ ای وی ایم کا یہ حصہ پولنگ افسر کے پاس ہوتا ہے۔ کسی بھی ووٹر کے ووٹ دینے کے پہلے پولنگ افسر بیلٹ بٹن دبا کر مشین کو ووٹ درج کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ بیلٹ بٹن کے اوپر ایک ڈھکن کے اندر تین بٹن بند ہوتے ہیں۔ پہلا ہوتا ہے ’کلوز‘ بٹن جس کو دبانے کے بعد مشین نئے ووٹ درج کرنا مکمل طور پر بند کر دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bhaskar Solanki
Image caption سکیورٹی کے بہت سارے انتظامات میں ایک یہ کاغذ بھی ہے جو اسی کے لیے مخصوص طور پر تیار کیا جاتا ہے

یہ بٹن صرف ایک ہی بار دبایا جا سکتا ہے۔ اس بٹن کو یا تو ووٹنگ ختم ہونے کے بعد شام کو یا پھر پولنگ مرکز پر قبضہ کرنے کی صورت حالت میں دبایا جا سکتا ہے۔

کلوز بٹن کے ساتھ ہی ایک الگ خانے میں دو بٹن ہوتے ہیں جو ووٹوں کی گنتی کے وقت ہر امیدوار کو ملے ووٹوں کی تعداد بتاتے ہے۔ ان نتائج کا پرنٹ آؤٹ بھی لیا جاتا ہے اور اس نتیجے کو بیلٹ یونٹ کے اوپر لگی ایک سکرین پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

بیلٹ یونٹ میں بٹن والے حصّے کے اوپر ڈھکن کے اندر چھ وولٹ کی الكلائن بیٹری بند ہوتی ہے جس کی مدد سے ای وی ایم ان علاقوں میں بھی کام کرتی ہیں جہاں بجلی نہیں ہوتی۔

ہر بیلٹ بٹن کے پاس ایک سپیکر بھی ہوتا ہے جو کہ ووٹ کے صحیح طریقے سے درج ہونے کے بعد تیز آواز کرتا ہے۔

4۔ بھارتی الیکشن کمیشن کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کی اس مشین کے اندر موجود سافٹ ویئر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔ لیکن الیکشن کمیشن یہ دعویٰ ضرور کرتا ہے کہ چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے الیکٹرونک مشین کسی کے ہاتھ میں لگ ہی نہیں سکتی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس مشین کا جامع نظام اسے محفوظ بناتا ہے نہ کہ اس کا کوئی ایک پرزہ۔

سیکورٹی کے انتظامات

Image caption اس مشین میں زیادہ سے زیادہ 3840 درج ہو سکتے ہیں

ووٹنگ سے پہلے اور ووٹنگ کے بعد میں ہر مشین کو سخت نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ ووٹ ڈلنے کے بعد شام کو کئی لوگوں کی موجودگی میں پولنگ افسر اس مشین کو مہر بند کرتا ہے۔ ہر ووٹنگ مشین کو ایک خاص کاغذ سے سیل کیا جاتا ہے۔ یہ کاغذ کرنسی نوٹ کی طرح ہی خاص طور پر بنائے جاتے ہیں۔ کرنسی نوٹ کی ہی طرح ہر کاغذ کے اوپر ایک خاص نمبر ہوتا ہے۔

کئی لوگ سوال کرتے ہیں کہ جب کرنسی نوٹ جعلی بن سکتے ہیں تو یہ کاغذ کیوں نہیں؟ لیکن یہ خاص کاغذ ہی سکیورٹی کی آخری کڑی نہیں ہوتے۔ کاغذ سے سیل کرنے کے بعد بھی اس مشین کو سینکڑوں سال پرانے طریقے سے سیل کیا جاتا ہے۔ ہر مشین کے نتائج والے حصے میں ایک سوراخ ہوتا ہے جسے دھاگے کے مدد سے بند کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے کاغذ اور گرم لاکھ سے ایک خاص پیتل کی مہر لگا کر بند کیا جاتا ہے۔

مہر بند کرنے کے بعد ہر پولنگ مشین کو کسی وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے درجہ کی سکیورٹی کے محاصرے میں ووٹوں کی گنتی کے مرکز تک لایا جاتا ہے۔

اس بار ووٹوں کی گنتی کے مراکز پر ہر مشین 16 مئی تک سخت پہرے میں رہے گی۔16 مئی کو ایک ہی ساتھ صبح چھ بجے پورے ملک میں ووٹوں کی گنتی شروع ہو گی۔

اسی بارے میں