افغانستان میں نائب وزیر کا اغوا

افغان سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان سکیورٹی فورسز نے اس سلسلے میں متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے سماجی بہبود کے نائب وزیر احمد شاہ وحید کو کابل میں اغوا کر لیا گیا ہے۔

کابل میں وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ چار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دفتر جا رہے تھے اور فائرنگ کے بعد مسٹر وحید کو اغوا کر کے لے گئے۔

اس حملے میں ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو طالبان کی جانب سے شدت پسندی کے بجائے ایک جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کی جانب سے اغوا کے واقعات خاصے عام ہیں۔

سب سے زیادہ خطرہ دولت مند تاجروں کو ہوتا ہے جنہیں تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا ہے اور یہ تاجر اپنے ساتھ سکیورٹی رکھنے پر مجبور ہیں۔

نائب وزراء کو عموماً سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے اور ابھی یہ وضح نہیں ہے کہ مسٹر وحید کے ساتھ ان کے محافظ کیوں نہیں تھے۔

احمد شاہ وحید حالیہ برسوں میں اغوا ہونے والے اعلٰی سرکاری افسران میں سے ایک ہیں۔

یہ واقعہ شمال مغربی کابل کے خیر خانہ ضلع میں پیش آیا ہے وہاں ایک مقامی مکینک نے بی بی سی کو اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ چار سے پانچ لوگوں نے مسٹر وحید کی گاڑی کو گھیرے میں لیکر اس پر فائرنگ کی اور ان کے ڈرائیور کو زخمی کر دیا اس کے بعد انہوں نے نائب وزیر کو کار سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز نے اس سلسلے میں متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔

اسی بارے میں