چھتیس گڑھ:ایک حلقے میں 11 ہم نام امیدوار

Image caption چندو لال ساہو بی جے پی کے امیدوار ہیں اور اس حلقے سے گذشتہ بار کامیاب بھی ہوئے تھے

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے سرائے پالي بس سٹینڈ کے پاس سے لاؤڈ سپیکر سے لیس ایک جیپ گزرتی ہے اور آواز آتی ہے ’چندو بھیّا کو ووٹ دو۔ قابل اور محنتی امیدوار چندو ساہو۔۔۔۔۔‘

جیپ دھول اڑاتی ہوئی سامنے سے گزر جاتی ہے تو اس کی سمت دیکھتے ہوئے سرائے پالی کے بزرگ منوہر چندراكر اپنے پاس کھڑے ایک نوجوان سے پوچھتے ہیں ’ارے کون سے چندو؟‘

نوجوان بھی اپنا سر ہلاتا ہے ’کون جانے۔‘

دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور پھر قہقہ لگا کر ہنسنے لگتے ہیں۔

در اصل ریاست کے مہاسمند پارلیمانی حلقے سے اس بار ایک ہی ساتھ چندو لال ساہو نامی جہاں آٹھ امیدوار میدان میں ہیں وہیں چندو رام ساہو کے نام کے مزید تین امید وار اسی حلقے سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

یعنی اگر ’رام‘ اور ’لال‘ کے فرق کو ختم کر دیں تو اس بار اس حلقے سے چندو ساہو نام کے گيارہ امیدوار انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے امید وار چندو لال ساہو نے گذشتہ انتخابات میں یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس بار اتنے سارے چندو ساہوؤں کے آنے سے وہ حیران و پریشان ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ سب اپوزیشن جماعتوں کی سازش ہے۔

وہ کہتے ہیں ’کانگریس پارٹی نے ہی ان سب کو کھڑا کیا ہے۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑنے والا ہے۔ مجھے علاقے کے کی عوام بہتر طور پر جانتی ہے کیونکہ میں ان کے درمیان کا آدمی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اجیت جوگی کانگریس کے اہم رہنما ہیں اور اس سے قبل جب وہ یہاں سے انتخابات میں اترے تھے تو میدان ان کے ہاتھ تھا

اسی سیٹ سے ریاست کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ ریاست کے قیام کے بعد سے اجیت جوگی کا جو انتخابی ریکارڈ رہا ہے اس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کا پلڑا بھاری ہے۔

اجیت جوگی نے 2004 میں یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی اور چونکہ دو ہزار نو میں انھوں نے انتخاب میں حصہ نہیں لیا تھا اس لیے بی جے پی کے چندو لال ساہو کامیاب ہوئے تھے۔

اس بار اس حلقے سے چونکہ ساہو نام کے مزید دس امیدوار میدان میں ہیں اس لیے بی جے پی کے چندو ساہو مشکل میں ہیں۔

بی جے پی کے ریاستی ترجمان شیورتن شرما کا کہنا ہے کہ ’ایک ساتھ اتنے چندو ساہو کو لانے کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہے لیکن ووٹرز نریندر مودی کو جانتا ہے، رمن سنگھ کو جانتا ہے اور کمل نشان کو تو جانتا ہی ہے۔

لیکن کانگریس پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیر اعلی اجیت جوگی اس معاملے پرلاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔

کانگریس کا کہنا ہے ’کیا بی جے پی نے اگر کسی چندولال ساہو کو اپنا امیدوار بنایا ہے تو اس سے چندو لال ساہو نام کے کسی دوسرے شخص کے الیکشن لڑنے کا حق ختم ہو جاتا ہے؟ یہ ایک سطحی سوچ ہے اور قابل اعتراض بھی۔‘

بی جے پی اور کانگریس کی اس کے پیچھے ممکن ہے کوئی حکمت عملی ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ اس حلقے کے ووٹرز سے جب بھی چندو لال ساہو سے متعلق بات کی جاتی ہے تو وہ یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ کون سے چندولال ساہو؟

اسی بارے میں