بھارت میں خواجہ سراؤں کو علیحدہ شناخت مل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کے خواجہ سراؤں کو شناخت کا بنیادی حق دے دیا گیا ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ایک دیرینہ مطالبہ مانتے ہوئے حکم دیا ہے کہ انھیں تھرڈ جینڈر یعنی ’تیسری جنس‘ کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو ریزرویشن سمیت وہ تمام سہولیات بھی فراہم کی جائیں جو دستور ہند کے تحت دیگر پسماندہ طبقات کو حاصل ہیں۔

اب سے پہلے سرکاری ریکارڈز میں صرف دو جنسیں تسلیم کی جاتی تھیں، مرد اور عورت اور خواجہ سراؤں کو ان میں سے ایک خانے میں خود کو شامل کرنا پڑتا تھا۔

عدالت میں یہ لڑائی غیر سرکاری ادارے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی نے لڑی۔ ادارے کے وکیل سنجیو بھٹناگر نے اس فیصلےکو تاریخ ساز بتاتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کے ساتھ برتے جانے والے امتیاز کو عدالت نے بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور اب انھیں وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو ملتی ہیں۔

خواجہ سراؤں کی ایک سرکردہ رہنما لکشمی نارائن ترپاٹھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر کار انھیں بھی معاشرے میں برابری کا حق مل گیا ہے جس کی ضمانت دستورِ ہند میں دی گئی ہے۔

’آج تھرڈ جینڈر یا تیسری جنس کو ایک بہت بڑا حق دیا گیا ہے۔۔۔ آج پہلی مربتہ مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘

خواجہ سرا طویل عرصے سے معاشرے کے حاشیے پر رہے ہیں، لیکن ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں کوٹے کی سہولت مل جانے سے ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدلنا شروع ہو سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن اس فیصلے کو ایک تاریخی پیش رفت مانتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے وکیل اے پی سنگھ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں خواجہ سراؤں کی بہت عزت ہوتی تھی، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے انھیں قومی دھارے میں واپس لایا جاسکے گا۔ اب تمام سرکاری ریکارڈوں میں تیسری جنس کے نام سے ایک نیا زمرہ بھی شامل کیا جائے گا۔‘

خواجہ سراؤں کا موقف تھا کہ ملک کا آئین جنس کی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ صرف قانون نہ ہونے کی وجہ سے اب ان کے خلاف امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکے گا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی جنس کا انتخاب خود کرے۔‘

سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ خواجہ سراوں کے لیے نوکریوں اور تعلیم کے میدان میں کوٹا سسٹم اسی طرز پر رکھا جائے جس طرح اقلیتوں کے لیے کوٹا موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 20 لاکھ خواجہ سرا رہتے ہیں۔

ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ اکثر غربت میں زندگی گزارتے ہیں اور انھیں ان کی جنس کی وجہ سے تنگ کیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر گانے یا رقص سے اپنی روزی کماتے ہیں، اور کئی تو بھیک مانگ کر یا عصمت فروشی کر کے زندگی بسر کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں معاشرے میں انتہائی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہاں تک انھیں ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔ مزید یہ کہ انھیں عوامی جگہوں پر زبردستی اپنی جنس کا تعین کرنے کو کہا جاتا ہے۔

پیر کو فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس کے ایس رادھا کریشن نے کہا کہ ’خواجہ سراوں کو تیسری جنس کی حیثیت سے تسلیم کرنا معاشرتی اور میڈیکل مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ خواجہ سرا بھی بھارت کے شہری ہیں اور انھیں بھی زندہ رہنے کے وہی حقوق میسر ہونے چاہیے جو دوسروں کو میسر ہیں۔‘

خواجہ سراؤں نے سپریم کورٹ میں یہ بڑی قانونی لڑائی تو جیت لی ہے، لیکن معاشرے میں عزت و وقار حاصل کرنے کے لیے ابھی لمبی جنگ باقی ہے۔

اسی بارے میں