بھارت: کن پارلیمانی سیٹوں پر نظر رکھیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں نو مرحلوں میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں وہ کون سے حلقے ہیں جن میں سب سے دلچسپ مقابلے ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے؟

واضح رہے کہ بھارت کے پارلیمانی انتخاب نو مرحلوں میں ہو رہے ہیں اور پانچویں مرحلے کی پولنگ جمعرات کو ہو رہی ہے۔

انتخابات کے نتائج کا اعلان آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد 16 مئی کو ہوگا۔

بنارس

ہندوؤں کے لیے مقدس ترین شہر بنارس: یہاں سے وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی خود میدان میں ہیں۔ ان کا مقابلہ عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال اور کانگریس کے اجے رائے سے ہے۔

اس سیٹ کا نتیجہ ملک کا سیاسی مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر بی جے پی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر بھی لے لیکن مودی بنارس سے ہار جائیں تو ان کے لیے وزیر اعظم بننا تقریباً ناممکن ہوجائے گا، حالانکہ وہ گجرات میں ودودرا سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

ایک اخبار کے مطابق یہاں سے پرینکا گاندھی الیکشن لڑنا چاہتی تھیں، اور اگرچہ انھوں نے اس خبر کی تردید کی ہے، لیکن اگر وہ میدان میں اترتیں تو شاید پھر کسی کو اس بات کی پروا نہیں رہتی کہ باقی ملک میں کیا ہو رہا ہے۔

امیٹھی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امیٹھی ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا گڑھ رہا ہے پہلے یہاں سے راجیو گاندھی انتخابات لڑتے تھے

اترپردیش کا ہی ایک حلقہ جو ہمیشہ سے کانگریس پارٹی کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ یہاں سے ہمیشہ یا تو نہرو گاندھی خاندان کا کوئی فرد یا ان کا کوئی وفادار رہنما ہی الیکشن لڑتا ہے۔ اس مرتبہ راہل گاندھی میدان میں ہیں اور مقابلہ عام آدمی پارٹی کے شاعر رہنما کمار وشواس اور بی جے پی کی سمرتی ایرانی سے ہے جو ایک ٹی وی سیریل میں اپنی اداکاری کے لیے مشہور ہیں۔

کمار وشواس کئی مہینے سے امیٹھی میں خیمہ زن ہیں اور عام آدمی پارٹی یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ نریندر مودی اور راہل گاندھی دونوں کو ہرانا چاہتی ہے کیونکہ اس کے بغیر موجودہ سیاسی نظام کو نہیں بدلا جاسکتا۔ اس مرتبہ کانگریس فی الحال حکومت سازی کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے لیکن اگر خود راہل گاندھی ہار جاتے ہیں تو اس کی بے پناہ علامتی اہمیت ہوگی کیونکہ یہ الیکشن انھی کی سپہ سالاری میں لڑا جارہا ہے۔ ان کی انتخابی مہم خود پرینکا گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔

امرتسر

Image caption سکھوں کے اس مقدس شہر میں زبردست مقابلے کی امید کی جا رہی ہے

گولڈن ٹیمپل کا شہر امرتسر جہاں سے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی اپنے لمبے سیاسی کریئر کا پہلا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ سے ہے جو ہار گئے تو زیادہ بڑی خبر نہیں بنے گی، کیونکہ ابتدا میں یہ خبریں تھی کہ امرتسر سے الیکشن لڑنے میں ان کی زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔

لیکن اب اطلاعات کانٹے کے مقابلے کی ہیں اور اگر ارون جیٹلی ہار گئے تو یہ بی جے پی کے لیے بڑا دھچکہ ہوگا کیونکہ اس وقت وہ مودی کے سب سے قریبی ساتھی ہیں اور انھوں نے بی جے پی کی پرانی قیادت کو حاشیے پر دھکیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مسٹر مودی کے بعد انھیں ہی سب سے اہم ذمہ داری ملنے کا امکان ہے۔

باغپت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہو گئے ہیں

یہ مغربی اترپردیش میں جاٹوں کے غلبے والا حلقہ ہے جہاں سے کبھی سابق وزیر اعظم چرن سنگھ منتخب ہوا کرتے تھے۔ اب یہ سیٹ ان کے بیٹے اور وفاقی وزیر اجیت سنگھ کے پاس ہے جو 1989 سے اب تک صرف ایک مرتبہ یہاں سے ہارے ہیں۔

یہ وہی خطہ ہے جہاں گذشتہ ستمبر میں جاٹوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا جس میں 60 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ مسلمان بے گھر ہوگئے تھے۔

اب اس علاقے میں جاٹوں اور مسلمانوں کا اتحاد ختم ہو گیا ہے جس کا خمیازہ خود اجیت سنگھ کو بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے کیونکہ مسلمان ان سے بھی ناراض ہیں۔

مظفرنگر کے فسادات کم سے کم شمالی ہندوستان میں اس الیکشن کا مرکزی پہلو ہیں کیونکہ تجزیہ نگاروں کے مطابق وہاں ہندو اور مسلم ووٹ بہت حد تک مذہبی بنیاد پر تقسیم ہوا ہے۔

بارمیڑ

Image caption جسونت سنگھ کی ریلی میں خواتین

راجستھان کا وہ حلقہ جہاں سے بی جے پی کے باغی امیدوار جسونت سنگھ میدان میں ہیں۔ پارٹی نے انھیں بارمیڑ سے ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا تھا اس لیے وہ آزاد امیدوار کے طور پر لڑ رہے ہیں۔

انڈیا کی انتخابی جنگ میں اب آزاد امیدوار شاذ و نادر ہی کامیاب ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے اس آخری الیکشن میں مسٹر جسونت سنگھ بی جے پی کی قیادت کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ بارمیڑ میں اب بھی اس کے سابق مہاراجہ کی فرماں روائی ہے۔

جسونت سنگھ اور ان کے پرانے قریبی ساتھی لال کرشن اڈوانی دونوں کو بانی پاکستان محمد علی جناح پر ان کے ریمارکس کی وجہ سے بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔ اڈوانی کو پارٹی صدر کا عہدہ اور جسونت سنگھ کو پارٹی چھوڑنا پڑی تھی۔

دیگر اہم امیدوار

Image caption اس سے قبل اظہرالدین مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے

ان کے علاوہ سابق کرکٹر محمد کیف اترپردیش میں پھول پور سے اور محمد اظہر الدین راجستھان میں ٹونک سے کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔

’ڈریم گرل‘ ہیما مالینی مندروں کے شہر متھرا سے بی جے پی کی امیدوار ہیں، لوک سبھا کے لیے یہ ان کا پہلا الیکشن ہے۔

بنگلور جنوبی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی انفوسیز کے بانی نندن نلیکینی بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، انھوں نے 70 ارب روپے سے زیادہ کےاثاثوں کا اعلان کیا ہے۔

ممبئی سے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر سماجی کارکن میدھا پاٹکر بھی پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اتری ہیں۔ ان کے پاس سات لاکھ کے اثاثے بھی نہیں ہیں۔

میدھا پاٹکر نے دریائے نرمدا پر ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی اور اب ان کا شمار ملک کے سرکردہ سماجی کارکنوں میں کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں