ورون گاندھی اور پرنیکا گاندھی میں نوک جھونک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption راہل کے چچازاد بھائي ورون گاندھی اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں

بھارتی سیاست کے اہم ستون اور ملک کی اشرافیہ میں شامل خاندانوں میں سے ایک گاندھی فیملی کی اندرونی چپقلش یا کھلے عام نوک جھونک کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن اس انتخابی ماحول میں نئی گاندھی نسل کے درمیان سیاسی بحث زبان درازی کی حد تک جا پہنچی۔

پرینکا گاندھی کے مطابق ورون گاندھی غلط راستے پر چل پڑے ہیں، جبکہ ورون کا کہنا ہے کہ پرینکا نے شائستگی کی حدیں پار کر دی ہیں۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، پارٹی کے نائب صدر اور ان کے صاحبزادے راہل گاندھی اگر آس پاس کے حلقے رائے بریلی اور امیٹھی سے انتخابی میدان میں ہیں تو پڑو‎سی ضلع سلطان پور سے ہی راہل کے چچازاد بھائي ورون گاندھی اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔

ورون گاندھی بی جے پی کے نوجوان رہنما ہیں جواپنے والد آنجہانی سنجے گاندھی کی سیٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔ اسی علاقے میں راہل گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی آج کل اپنی ماں اور بھائی راہل کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران پرینکا کے ایک بیان سے ورون اور پرینکا میں بیان بازی کا دور شروع ہوا۔

پرینکا کے بیان پر ورون گاندھی نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پرینکا نے سعادت مندی کی ’لکشمن ریکھا‘ یعنی حد پار کر دی ہے اور میری شائستگی اور دریا دلی کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

34 سالہ ورون نے کہا: ’اتنے برسوں میں میں نے کبھی بھی اپنی تقریروں میں سعادت مندی کی حد پار نہیں کی، چاہے یہ میرے خاندان کا معاملہ ہو یا کسی سیاسی پارٹی کے سینیئر لیڈر کا معاملہ ہو۔‘

پرینکا گاندھی نے کانگریس کارکنان سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے ہندوتوا کے نظریے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ورون گاندھی پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ’غلط راستے پر چل پڑے ہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ خاندان کے ساتھ غدّاری ہے۔‘

ورون گاندھی نے اس بیان پر اپنے سخت رد عمل میں کہا کہ ’میرے راستے کے بارے میں باتیں کی جارہی ہیں۔ میں نے ہمیشہ اپنے آپ سے زیادہ قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ اگر میں ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہوا تو میں اپنی زندگی کو بھی معنی دے سکوں گا۔‘

ورون گاندھی کی ماں اور سونیا گاندھی کی دیورانی مینکا گاندھی نے بھی اپنی بھتیجی پرینکا کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: ’اگر ملک کی خدمت کرنا غلط راستہ ہے تو اس کا فیصلہ ملک ہی کرے گا۔‘

اس کے جواب میں پرینکا نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات ’نظریاتی جنگ ہے، کسی کی فیملی چائے پارٹی نہیں۔ اور اگر ان کے بچے نے ایسا کیا ہوتا تو وہ کبھی معاف نہ کرتیں۔‘

گاندھی خاندان میں سیاسی اختلافات سب پر عیاں ہیں لیکن ایک دوسرے کے خلاف اس طرح کیچڑ اچھالنے کی باتیں منظر عام پر بہت کم آتی ہیں۔

پرینکا نے امیٹھی میں ایک تقریر کے دوران ورون گاندھی کو شکست دینے کے لیے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا: ’وہ یقینا ہمارے خاندان کے ہیں، وہ میرے بھائی ہیں۔ لیکن وہ غلط راستے پر چلے گئے ہیں۔ جب کوئی خاندان میں نوجوان غلط راستہ منتخب کرتا ہے تو بڑے، بزرگ صحیح طریقے سے درست راستہ دکھاتے ہیں۔ میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ میرے بھائی کو صحیح راستہ دکھائیں۔‘

ورون گاندھی نے سلطان پور سے نامزدگی کا فارم بھرتے وقت کہا: ’ذاتی الزام لگانے کی بجائے ہمیں بے روزگاری، بدعنوانی، غربت اور ناخواندگی جیسے اشوز پر بحث کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں بحث کی سطح کو گرانے کی بجائے اوپر اٹھانا چاہیے۔ جب ہم ذاتیات پر بات کرتے ہیں تو ہم اہم مسائل سے بھٹک جاتے ہیں۔‘

سلطان پور کی لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی تین بار جیت چکی ہے، لیکن گذشتہ تین انتخابات میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس حلقے سے کسی زمانے میں ورون کے والد سنجے گاندھی انتخاب لڑا کرتے تھے۔ بی جے پی کو امید ہے کہ ورون گاندھی کے آنے سے اس بار یہ سیٹ اس کی جھولی میں جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں