سیاسی بازار میں سب کچھ بکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ bluegape
Image caption بازار کسی بھی رجحان سے فائدہ اٹھانا جانتا ہے اور ان دنوں سیاسی ہلچل کا فائدہ اٹھا رہا ہے

بھارتی پارلیمانی انتخابات کے میلے میں سیاسی رجحانات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں کے اثرات بازار میں بھی نظر آرہے ہیں۔ شاپنگ کے لیے ویب سائٹس ہوں یا پڑوس کے دوکاندار، اس وقت سب کے سب سیاسی لیڈروں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں۔

سوشل میڈیا کی طرح اس میدان میں بھی نریندر مودی اور اروند کیجری وال کے درمیان سخت مقابلہ نظر آتا ہے۔

’بلوگیپ ڈاٹ کام‘ نام کی ایک کمپنی سیاسی رہنماؤں سے منسوب چیزیں فروخت کرتی ہے جس میں آرائش کے سامان، سکّے، ٹی شرٹس، پیالیاں، گھڑیاں اور پوسٹرز جیسی دیگر اشیا شامل ہیں۔

بلوگیپ کے مالک انوپم آچاریہ کہتے ہیں: ’اب تک ہم نے نریندر مودی سے منسوب چیزوں کی سب سے زیادہ مانگ دیکھی ہے۔ ممبئی، حیدرآباد میں مودی سے متعلق چیزوں کی فروخت زیادہ ہے۔ دہلی اور بنگلور میں عام آدمی پارٹی سے وابستہ چیزیں زیادہ فروخت رہی ہیں۔ لیکن اس وقت مودی سے متعلق چیزوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

انوپم کا کہنا تھا کہ ’سب سے زیادہ لوگ نریندر مودی کے مگ اور دیوارگھڑیاں خریدتے ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی کے شیدائی پوسٹر اور لیپ ٹاپ سکن خریدتے ہیں۔‘

بلوگیپ ڈاٹ کام ہر روز کم سے کم 500 آرڈر پورا کرتی ہے جن میں اس وقت تقریباً 30 فیصد سیاستدانوں سے متعلق چیزیں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bluegape
Image caption بلوگیپ ڈاٹ کام ہر روز کم سے کم 500 آرڈرز پورا کرتی ہے

لیکن سیاسی جماعتوں سے وابستہ چیزوں کی اس فروخت میں کانگریس بہت پیچھے ہے۔ انوپم آچاریہ بتاتے ہیں: ’راہل گاندھی کا کلیکشن ہم نے تاخیر سے شروع کیا تھا اور ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ بھی نہیں تھا۔ ان کی چیزیں زیادہ فروخت نہیں ہوئی ہیں۔‘

نریندر مودی کے مداحوں کی ایک خاص ویب سائٹ ’نموسٹور‘ بھی ہے۔ اس ویب سائٹ پر ان کی تصویر والے مگ، ٹی شرٹس اور سٹیشنری فروخت کی جا رہی ہیں۔ یہ ویب سائٹ ہر ماہ تقریبا دس سے 15 لاکھ روپے تک کا سامان فروخت کر رہی ہے۔

کمپنی سے منسلک ایک رضاکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا کہ زیادہ تر مانگ دہلی، مہاراشٹر، گجرات اور کرناٹک سے ہو رہی ہیں، اور خریدار 20 سے 35 برس کے لوگ ہیں۔

لیکن انتخابات کے موسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش صرف آن لائن پر ہی نہیں ہو رہی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے مشہور شہر بنگلور میں ’نموستے‘ نام کی ایک دکان آئی ٹی کمپنیوں کے نوجوان ملازمین کی پسندیدہ جگہ بن گئی ہے۔

اس دکان کو حال ہی میں وسنت نامی ایک شخص نے کھولا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مودی کے شیدائی ہیں اور ان کے پیغام سے متعلق چیزیں فروخت کر رہے ہیں۔

وسنت کہتے ہیں: ’میں گذشتہ برس گجرات کے انتخابات سے ان کا پرستار ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ وزیر اعظم بنیں۔ جنوبی ہندوستان میں ان کی تشہیر کے لیے مجھ سے جو ہو سکتا ہے میں کروں گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ smartnamo facebook
Image caption مودی کے پرستاروں نے ان کے نام سے ایک سمارٹ فون بھی شروع کیا ہے

وسنت ’نموستے‘ میں ایک روپے کے سٹکر سے لے کر 500 روپے کے مودی کُرتے بیچ رہے ہیں۔

نریندر مودی کے پرستاروں نے ان کے نام سے ایک سمارٹ فون بھی شروع کیا ہے۔ ’نمو سیفرن‘ نامی یہ فون شاپنگ کی بعض ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ فون نریندر مودی کے اعزاز میں ان کے مداحوں نے تیار کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا سامان فروخت ہونے سے لیڈران یا پارٹیوں کو کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ کم سے کم عام آدمی پارٹی کے حوا لے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں