بھارتی انتخابات میں ڈیجیٹل انتخابی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیگ کے مطابق جو لوگ ریلی میں نہیں آتے چائے پر بحث کے ذریعے ہم ان کے لیے مودی کو گلی اور نکڑ تک لائے ہیں۔

حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما منی شنکر ایّئر نے ایک مرتبہ ازراہِ مذاق بی جے پی کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کو چائے والا کہہ دیا تھا۔ لیکن شاید انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ بی جے پی مودی کے لیے اس توہین آمیز جملے کو 2014 کے انتخابات کے لیے سب سے بڑی ڈیجیٹل مہم میں تبدیل کر دے گی۔

اس بیان کے بعد ہی مودی کے لیے انتخابی مہم میں مصروف ایک ادارے کیگ یعنی ’سیٹیزن فار اکاونٹیبلٹی اینڈ گورننس‘ نے ملک بھر کے تقریبا 500 شہروں میں بہت سی چائے کی دکانوں پر مودی اور عوام کے درمیان رابطے کے لیے ’چائے پر چرچہ‘ یعنی چائے کے ساتھ بحث کے نام سے ایک ڈیجیٹل مہم شروع کر دی۔

بی جے پی کی یہ ’چائے پہ چرچہ‘ والی ڈیجیٹل مہم شروع ہوتے ہی اس کے ویڈیوز اور تھیم سانگ انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئے۔

پہلے ہی روز تقریبا 20 ہزار لوگوں نے انٹرنیٹ پر اسے دیکھا اور اب تو اس ’چائے پہ چرچہ‘ کی رنگ ٹون بھی ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہیں۔

’چائے پہ چرچہ‘ کو ان انتخابات میں مقبول ترین ڈیجیٹل مہم کہا جارہا ہے اور مارکیٹنگ کے متعلق بعض اداروں نے اس مہم کی مقبولیت پر ریسرچ بھی شروع کردی ہے۔

لیکن کیا آن لائن پر جاری اس طرح کی ڈیجیٹل انتخابی مہم آف لائن بھی اتنی ہی مؤثر ہے؟ اس کے ذریعے جس عام آدمی تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے کیا وہ واقعی انہیں دیکھ پا رہے ہیں؟

انتخابی ماحول میں ٹیکنالوجی کے شہر بنگلور کے سفر کے دوران ان سوالات کے جو جواب موصول ہوئے وہ شاید انٹرنیٹ پر جنگ میں مصروف سیاسی جماعتوں کے لیے اتنے خوشگوار نہ ہوں۔

کیگ کی ویب سائٹ کے مطابق بنگلور میں 400 کارکنان نے تقریبا دو درجن مختلف علاقوں میں ’چائے پہ چرچہ‘ کا انعقاد کیا۔

اشتہار کے طور پر تیار کیےگئے ان چائے والوں کے ویڈیوز اور مختلف کلپز کیگ سمیت یو ٹیوب، فیس بک اور دیگر شوشل میڈیا کی سائٹ پر موجود ہیں۔

لیکن بنگلور شہر میں جب بی بی سی کی ٹیم نے ان میں سے آٹھ مختلف علاقوں کا دورہ کیا تو نہ تو وہ چائے کی دکانیں مل سکیں جہاں زبردست بھیڑ جمع ہونے کے دعوے کیےگئے اور نہ ہی لوگوں کو اس طرح کے کسی اجتماع کے متعلق کوئی معلومات تھی۔

بنگلور کے شیواجی بس سٹاپ کے علاقے میں بار بار پوچھنے پر ایک آدمی جھنجھلا كر کہنے لگا ’ہم تو پہلی بار آپ سے ہی چائے پہ بحث کی بات سن رہے ہیں۔ مودی کا نام تو ہم نے سنا ہے لیکن چائے پہ چرچہ کیا ہے؟‘

شہر کے گاندھی نگر علاقے میں اس طرح کی ایک ویڈیو کانفرنسنگ ضرور ہوئی تھی لیکن کہانی وہاں بھی کچھ اور ہی نکلی۔

چوراہے پر ایک دکان دار نے بتایا ’جس چائے والے کے ٹھیلے کو بحث میں شامل کیا گیا تھا وہ یہاں کا نہیں تھا، اسے تو کہیں اور سے لے کر آئے تھے۔ بھیڑ تو تھی لیکن ہم کوئی سوال نہیں پوچھ پائے۔ پہلے مودی جی بولے پھر کچھ اور لوگ بولے۔ جب تک ہمارے سوال کا نمبر آیا کنکشن کٹ چکا تھا۔‘

عام انتخابات جیتنے کے لیے سرگرم سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی اس بار سوشل میڈیا کو بھی اپنی قسمت کے لیے بڑی اہمیت کا حامل سمجھ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے ایک چھوٹی ڈیجیٹل فوج سے لیس ہیں جو ملک کے کروڑوں انٹرنیٹ صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے میں کوشاں ہیں۔

’انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان انتخابات میں 543 میں سے 160 حلقے ایسے ہیں جن میں فیس بک صارفین کی تعداد انتخابی نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت تقریبا ہر روز ایک نئی ڈیجیٹل مہم سامنے آرہی ہے۔

لیکن کیا انٹرنیٹ پر جو سیاسی آندھی چل رہی ہے وہ محض ایک غبارہ ہے جس کی ہوا زمین تک نہیں پہنچ پاتی؟ یا پھر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی اپنی دنیا ہے جس پر کانٹے کی ٹکر اتنی ہی ضروری ہے جتنی زمینی لڑائی؟

برانڈ كنسلٹینٹ اور ڈیجیٹل مہم کے ماہر ہریش بجور کے مطابق ’مہم ایسی ہونی چاہیے جو زمینی سطح پر مضبوط ہو۔ فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے ڈیجیٹل کیمپین گھر تک تو پہنچتی ہیں لیکن چائے پر بحث کی بات کریں تو یہ زمینی سطح پر بہت پھیکی رہی ہے۔ میرے حساب سے یہ ایک ببل مہم ہے۔‘ تو کیا سوشل میڈیا پر جو زبردست انتخابی مہم کا ماحول ہے وہ عام زندگی میں اتنی موثر نہیں ہے؟

ہریش کہتے ہیں ’انٹرنیٹ پر دو طرح کی انتخابی مہم موجود ہیں ایک وہ جو پیسے دے کر خریدی گئی ہیں اور دوسری وہ جو عام لوگوں کے ذہن سے نکل رہی ہے۔ اس کا کوئی مستند ڈیٹا نہیں لیکن میرے حساب سے فی الحال ’پولیٹکل وار‘ جاری ہے۔ اس میں بی جے پی یا کانگریس کی تقریبا 60 فیصد انتخابی مہم خریدی ہوئی یعنی ’باٹ آؤٹ‘ ہیں۔ صرف 40 فیصد انتخابی مہم ہی اصل یعنی سپانٹینیس لگتی ہے۔ باٹ آؤٹ مہم کا اثر دور تک نہیں ہوتا۔‘

سوال صرف یہ نہیں کہ انٹرنیٹ پر اس لڑائی سے لیڈروں کو کتنا فائدہ ہوگا؟ بلکہ یہ بھی تو ہے کہ انٹرنیٹ کی اس جنگ نے کیا پارٹیوں اور ان کے کارکنان کو کیا زمینی حقیقت سے دور کر دیا ہے؟

کیگ کے رکن ابھیشیک بھاسکر کے مطابق وہ عوام کی نبض سمجھتے ہیں: ’جو لوگ ریلی میں نہیں آتے چائے پر بحث کے ذریعے ہم ان کے لیے مودی کو گلی اور نکڑ تک لائے ہیں۔‘

ہریش بجور کا کہنا ہے کہ 2014 کے انتخابات کا سچ یہ ہے کہ ’ڈیجیٹل ریئلٹي‘ اور ’گراؤنڈ رئیلٹی‘ میں بے حد فرق ہے۔

ان کے مطابق ’سیاسی پارٹیوں کے لیے ’ڈیجیٹل مارکیٹنگ‘ کر نے والے لوگوں کو زمینی سیاست کی سمجھ بوچھ کمزور ہے۔ کئی لیڈروں کو اسی انداز میں فروخت کیا جارہا ہے جیسے چائے اور چینی فروخت ہوتی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ کی آندھی سے عوام کے دل میں گھر کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کمپیوٹر سکرین کے سامنے بیٹھ کر لگتا ہے۔

اسی بارے میں