کشمیر: انتخابات سے قبل حملے سر پنچ سمیت تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علیحدگی پسند گروپوں نے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر رکھی ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں پیر کی شب پراسرار حملوں کے دو مختلف واقعات میں ایک 24 سالہ نوجوان اور دو ہند نواز سیاسی کارکن مارے گئے۔

اسی ضلعے میں ایک اور ہند نواز سیاسی کارکن حملہ آوروں کو دھوکا دے کر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

ضلع پلوامہ اننت ناگ پارلیمانی حلقے کا حصہ ہے اور یہاں 24 اپریل کو بھارتی پارلیمانی انتخابات کے تحت ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

پولیس کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران اس ضلع کے ترال اور اونتی پورہ قصبوں میں دو پولیس اہلکار اور دو مسلح شدت پسندوں سمیت آٹھ افراد مارے گئے۔

تازہ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل اے جی میر نے بتایا : ’ترال کے آملر گاوں میں افراد نے انور شیخ نامی ایک سیاسی کارکن کو قتل کردیا اور بعد میں غلام محمد میر نامی سر پنچ پر اس کے گھر میں گولیاں چلائیں جس وہ اور ان کا بیٹا فردوس مارے گئے۔‘

اس سے قبل 17 اپریل کو نزدیکی قصبہ اونتی پورہ میں بھی امین پنڈت نامی سر پنچ کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

گزشتہ ہفتے پلوامہ کے ہی پام پورہ قصبہ میں مسلح افراد نے ایک سیاسی ریلی کے لیے تیاری کررہے سیاسی کارکنوں پر حملہ کیا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملہ آور ان اہلکاروں کا اسلحہ بھی اُڑا لے گئے تاہم بعد میں ایک تصادم کے دوران دونوں مارے گئے۔

اعلی پولیس افسر اے جی میر کا کہنا ہے کہ ’ان ہلاکتوں میں ہند مخالف مسلح گروپوں کا ہی ہاتھ ہے۔‘

لیکن کسی بھی گروپ نے ان ہلاکتوں کی ذاری قبول نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ حکمران نیشنل کانفرنس اور اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ان ہلاکتوں کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ دونوں کے مابین گویا الزامات کی جنگ چھڑ گئی ہو۔

جموں کشمیر پولیس کے سربراہ اشوک پرساد کا کہنا ہے کہ فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر ایک مربوط سیکورٹی بندوبست تشکیل دیا ہے۔

واضح رہے کشمیر میں دس اپریل کو شروع ہوئے مرحلہ وار انتخابات سے قبل ہی شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ایک طویل تصادم کے دوران دو پولیس اہلکار ایک فوجی اور دو شدت پسند مارے گئے۔

مظفرآباد میں مقیم مسلح رہنما سید صلاح الدین اور علیحدگی پسندوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔

علیحدگی پسند گروپوں نے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے لیکن حکام نے بیشتر علیحدگی پسند رہنماؤں کو یا تو گھروں میں محدود کردیا ہے یا تھانوں میں قید کرلیا ہے۔ لیکن ان کے معاونین گاؤں گاؤں جاکر لوگوں کو الیکشن کے بائیکاٹ کی تلقین کررہے ہیں۔

اسی بارے میں