کس کس کو پاکستان جانا ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مکیش امبانی اور ٹاٹا جیسے بڑے صنعت کار تو کہیں نہیں جائیں گے

پاکستان کے شہر لاہور کی بادشاہی مسجد کے باہر اگر آپ کو مصنفہ اروندھتی رائے اور آرٹسٹ انیش کپور چائے کی پیالی پر انسانی حقوق کی باریکیوں کا جائزہ لیتے ہوئے نظر آئیں، اگر مظفرآباد میں جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ شامیں گزار رہے ہوں اور انھیں گھر لوٹنے کی کوئی جلدی نہ ہو، اگر لالی وڈ کے پروڈیوسروں کے گھروں کے باہر ہندی فلموں کے بڑے ستارے قطار لگا کر کھڑے ہوں، تو پریشان مت ہوئیےگا کیونکہ بِہار میں بی جے پی کے لیڈر گری راج سنگھ نے کہا ہے کہ جو لوگ نریندر مودی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں پاکستان جانا ہوگا۔

بس مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی فہرست بھی ذرا لمبی ہے۔ اگر 80 کروڑ ووٹروں میں سے 40 فیصد مودی کا ساتھ دیتے ہیں تب بھی ایسے 50 کروڑ باقی رہ جائیں گے جو یا تو ان کے خلاف ہیں یا کم سے کم ان کے ساتھ نہیں ہیں۔

’مودی کے مخالفین کو پاکستان چلے جانا چاہیے‘

مکیش امبانی اور ٹاٹا جیسے بڑے صنعت کار تو نہیں جائیں گے لیکن اسلام آْباد میں آپ کی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے، لالو پرساد یادو بھی ضرور ملیں گے اور ہندوستانی سیاست کے نئے سپر سٹار اروند کیجریوال بھی۔

لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا یوں اچانک ہجرت کرنا آسان نہیں ہوگا۔ چونکہ ابھی نتائج آنے میں تین ہفتے باقی ہیں، مسئلے کا سوچ سمجھ کر کوئی حل نکالا جانا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ جن لوگوں سے غلطی ہوگئی ہے، یا پولنگ کے باقی مراحل میں ہونے والی ہے، انھیں عام معافی دے دی جائے۔ لیکن چونکہ یہ نظم و نسق کا سوال ہے، اور مسٹر مودی ایک رحم دل لیکن سخت منتظم ہیں جن کے لیے کوئی چیز قانون کی بالادستی سے اہم نہیں، تو ایک راستہ اور بھی ہے۔ کیوں نہ وہ لوگ پاکستان چلے جائیں جو مودی کے ساتھ ہیں؟ وہ پاکستان کو سدھارنا بھی چاہتےہیں، یہ کام وہاں رہ کر زیادہ آسانی سے کیا جاسکے گا۔

بہرحال، اگر واقعی کسی کے جانے کی نوبت آتی ہے تو ان میں لال کرشن اڈوانی اور جسونت سنگھ جیسے بی جے پی کے سینیئر لیڈر بھی ضرور شامل ہوں گے، جو مودی کے مخالفین میں سب سے نمایاں ہیں۔ ان سے اگر آپ کو ملنا ہو تو کہیں اور ڈھونڈنے میں وقت برباد مت کیجیے گا، دونوں رہنما محمد علی جناح کی محبت میں گرفتار ہیں اور لگتا نہیں ہے کہ مزار قائد کے علاوہ وہ اور کہیں جائیں گے۔

اور اڈوانی کا ذکر آیا تو کیوں نہ ان کے لمبے تجربے سے استفادہ کیا جائے۔ انھوں نے پھر یہ تجویز پیش کی ہے کہ ملک میں ووٹنگ لازمی کر دینی چاہیے اور جو بھی حق رائے دہی کا استعمال نہ کرے، اسے سزا دی جائے۔

اس تجویز سے پورا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، کسی کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ ووٹنگ کےساتھ سب کے لیے مودی کو ووٹ دینا بھی لازمی کردیا جائے۔

اسی بارے میں