مسلمان سیکیولر ہیں مگر اب فرقہ پرست ہونا ہوگا: شازیہ علمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شازیہ علمی ریاست اترپردیش میں غازی آباد سیٹ سے عام آدمی پارٹی کی امیدوار ہیں

بھارت کی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی رہنما شازیہ علمی کا ایک متنازع ویڈیو یوٹیوب پر سامنے آیا ہے جس میں بظاہر وہ یہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ مسلمانوں کو پہلے اپنے گھر کو دیکھنا چاہیے۔

شازیہ اس متنازع ویڈیو میں کہتی ہیں: ’مسلمان بہت سیکیولر ہیں، انھیں فرقہ پرست ہونا ہوگا۔ وہ کبھی اپنوں کو ووٹ نہیں دیتے۔‘

سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں دیکھے جانے والے اس ویڈیو میں شازیہ مسلم برادری کے چند لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ شازیہ علمی کے اس ویڈیو میں شازیہ نے کب اور کس موقعے پر یہ باتیں کیں۔

واضح رہے کہ شازیہ علمی اتر پردیش میں غازی آباد پارلیمانی سیٹ سے عام آدمی پارٹی کی امیدوار ہیں۔ اس سے قبل وہ دہلی کے اسمبلی انتخابات میں پانچ سو سے بھی کم ووٹوں سے ہار گئی تھیں۔

متنازع ویڈیو میں شازیہ علمی کہتی ہیں: ’میں تو کہتی ہوں کہ آپ لوگ اتنے سیکیولر نہ بنیے۔ اس بار پہلے اپنے گھر کو دیکھیے۔ مسلمان سیکیولر ہیں۔ دوسروں کو ووٹ دیتے رہتے ہیں۔ باقی پارٹیاں تو یہ نہیں کرتی ہیں۔ ان کا تو ووٹ بندھا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’میں کھل کر کہتی ہوں یہ بہت متنازع بات ہے، لیکن بہت صحیح بات ہے۔‘

ویڈیو میں بات چیت کے دوران ایک شخص نے جب یہ کہا کہ مسلمانوں کے حصے میں صرف دو کام ہیں کہ ڈرو اور ہراؤ، اس پر شازیہ نے کہا: ’اس بار کام بدل دو۔ لڑو اور جیتو۔‘

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شازیہ علمی نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے: ’میں سیکیولر ازم لفظ کا مذاق اڑا رہی تھی کیونکہ ہر وقت اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب صرف اتنا تھا کہ مسلمان کبھی اپنے بارے میں نہیں سوچتے اور ایک سیاسی پارٹی کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔‘

عام آدمی پارٹی نے اس ویڈیو میں کہی گئی باتوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے: ’عام آدمی پارٹی اس طرح کی سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کرتی ہے۔‘

گذشتہ دنوں انتخابی مہم کے دوران متعدد رہنماؤں کی جانب سے فرقہ وارانہ بیان آئے ہیں۔ ان میں بی جے پی کے گری راج سنگھ اور امت شاہ، سماج وادی پارٹی کے اعظم خان اور وشو ہندو پریشد کے پروین توگڑیا شامل ہیں۔

اسی بارے میں