بھارت: پولنگ کا چھٹا مرحلہ مکمل، پرتشدد واقعات میں چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں کشمیر سے کنیا کماری تک ملک کی 12 ریاستوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں جمعرات کو 12 ریاستوں کے 117 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

پولنگ کا عمل زیادہ مقامات پر پرامن رہا لیکن جھارکھنڈ میں انتخابی عملے واپس لانے والی بس کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ کشمیر میں فائرنگ سے ایک اہلکار کی ہلاکت کی خبر ہے۔

مجموعی طور پر ان 117 نشستوں پر 2087 امیدوار میدان میں تھے تاہم جمعرات کو ہونے والے الیکشن میں نگاہیں شاید سب سے زیادہ جنوبی ریاست تمل ناڈو پر ٹکی تھیں جہاں وزیر اعلیٰ جے للتا وفاقی سطح پر حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی تیاری میں ہیں۔

تمل ناڈو میں 39 سیٹیں ہیں اور وہاں دونوں دڑاوڑ پارٹیوں ’انّاڈی ایم کے’ اور ’ڈی ایم کے‘ ریاستی سیاست کو پوری طرح کنٹرول کرتی ہیں۔ بی جے پی کی جنوبی ہندوستان میں موجودگی نہیں ہے لیکن اس مرتبہ اس نے تمل ناڈو میں چھوٹی علاقائی جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جے للتا کی پوزیشن کافی مضبوط ہے اور اگر وہ 39 سیٹوں کا بڑا حصہ جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو حکومت سازی کے عمل میں ان کی اہمیت بڑھ جائے گی۔

جمعرات کو جن دیگر ریاستوں میں پولنگ ہوئی ان میں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، جموں کشمیر، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، مہارشٹر، پونڈوچیری، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال بھی شامل ہیں۔

Image caption بھارت میں مجموعی طور پر 81 کروڑ سے زیادہ ووٹر ہیں

مہاراشٹر میں ممبئی سمیت 19 سیٹوں، اترپردیش میں 12، مدھیہ پردیش میں دس، بہار اور چھتیس گڑھ کی سات سات، آسام اور مغربی بنگال کی چھ چھ، راجستھان کی پانچ، جھارکھنڈ کی چار، پونڈوچیری اور کشمیر کی ایک ایک پارلیمانی سیٹ کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

پولنگ کے اس دور کے ساتھ ہی تقریباً ساڑھے تین سو حلقوں میں انتخابی عمل مکمل ہو گیا ہے۔ اس کے بعد 30 اپریل، سات اور 12 مئی کو تین مراحل اور باقی رہ جائیں گے۔

چھٹے دور کی پولنگ میں جن رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہوگا ان میں وزیر خارجہ سلمان خورشید، لوک سبھا میں حزب اختلاف کی لیڈر سشما سوراج اور اترپردیش کی حکمراں سماج وادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادو بھی شامل ہیں۔

اترپردیش میں مندروں کے شہر متھرا سے ’ڈریم گرل‘ ہیما مالینی بھی میدان میں اتریں جن کا مقابلہ وفاقی وزیر اور جاٹوں کے لیڈر اجیت سنگھ کے بیٹے جینت چودھری سے تھا۔

دوسری جانب راجستھان کے ٹونک حلقے سے سابق کرکٹر محمد اظہرالدین نے کانگریس کے ٹکٹ پر اپنی قسمت آزمائی۔

نکسلی باغیوں کی سرگرمیوں سے متاثرہ ریاست چھتیس گڑھ اور جھاڑکھنڈ میں بھی ووٹ ڈالے گئے اور جھارکھنڈ میں ووٹنگ کے بعد انتخابی عملے کو واپس جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ مرحلوں میں ریکارڈ پولنگ ہوئی ہے

جھارکھنڈ پولیس کے افسر راجیو کمار نے بتایا کہ یہ حملہ دمکا کے شكارپاڑا علاقے میں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کچھ لوگ شدید زخمی بھی ہیں۔

کشمیر کے اننت ناگ حلقے میں بھی پولنگ ہوئی جہاں اصل مقابلہ پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے محمود بیگ کے درمیان تھا۔ اس حلقے میں شوپیاں کے علاقے میں ایک پولنگ سٹیشن سے لوٹتی ہوئی سی آر پی ایف کی وین پر گھات لگا کر نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس میں ایک پولنگ افسر مارا گیا|۔

حملے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

اس الیکشن میں اب تک بظاہر بھاتیہ جنتا پارٹی کا پلڑا بھاری مانا جارہا ہے اور وزارت عظمیٰ کے لیے پارٹی کے امیدوار نریندر مودی پورے ملک میں انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کانگریس کو اس الیکشن میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ووٹوں کی گنتی 16 مئی کو ہوگی اور اسی دن نتائج آ جائیں گے۔

اسی بارے میں