ایران میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ

فوٹو فائل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے

ایران میں پٹرول کی فروخت پر ریاستی رعایت میں کمی بیشی کے بعد پٹرول کی قیمت میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔

اطلاعات کے مطابق ایرانیوں نے کمی لاگو ہونے سے پہلے تیزی سےاپنی گاڑیوں کو بھرنے کی کوشش کی۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی حکومت نے یہ قدم اپنی کمزور معیشت کو بہتر کرنے کے لیے اٹھایا، جو مغربی پابندیوں کے تحت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔

اس اضافہ کے باوجود دنیا بھر میں اب بھی سب سے سستا پٹرول ایران ملتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ایرانیوں کے لیے ناگوار ہو گا۔ ایران کی ایک چوتھائی آبادی بے روزگار یا کم اجرت پر کام کرتی ہے۔

ماضی میں رعایتوں پر یہ تنقید کی گئی تھی کہ ان کی وجہ سے پٹرول کی قیمت ایک پانی کی بوتل سے بھی کم ہے۔

جمعرات کی رات کو پٹرول کی قیمت 16 سینٹ فی لیٹر سے بڑھ کر 28 سینٹ فی لیٹر ہو گئی۔

سنہ 2007 میں جب سستا پٹرول پہلی بار راشن ہوا تو کافی پٹرول سٹیشنز پر فساد ہوا۔ تاہم اس تازہ ترین اضافے کے بعد کسی بھی فساد کی اطلاعات نہیں ملیں۔

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رامانی فضلی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو ایک بیان میں بتایا ’ہم دو مہینوں سے مختلف صوبوں ، شہروں اور دیہی علاقوں میں ان منصوبوں پر عمل در آمد کی تیاری میں ہیں۔‘

اس سال اب تک ایران میں بجلی کے بلوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ پانی کے بلوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

صدر روحانی فی الحال بین الاقوامی حکومتوں کے ساتھ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں تا کہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی لائیں۔

اسی بارے میں