بھارت اب ہندوتوا کی طرف گامزن ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY GUPTA
Image caption مودی کو ایک سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے جو مخالفت پسند نہیں کرتے

بھارت کے پارلیمانی انتخابات اب اپنے آخری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ صرف تین مرحلوں کی پولنگ باقی ہے جس کے بعد 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگا۔

بھارت کی تاریخ کا شاید یہ پہلا ایسا الیکشن ہے جس میں کسی ریاست کے وزیراعلیٰ وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں اور ساتھ ہی نریندر مودی غالباً پہلے ایسے رہنما ہیں جن کی شخصیت اور سیاسی نظریات کے بارے میں جس شدت سے بحث و مباحثے ہوئے ہیں شاید ہی کسی دوسرے رہنما کے بارے میں ہوئے ہوں۔

جیسے جیسے انتخابات اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اس بات پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے کہ اگر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو ان کی پالیسی کیا ہو گی۔ مودی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں ایک طویل عرصہ گزار چکے ہیں اور ان کی سیاسی اور ذہنی تربیت آر ایس ایس کے نظریات کے دائرے میں ہی ہوئی ہے۔

انتخابی مہم کے دوران اچانک مختلف مقامات پر الگ الک رہنماؤں کی جانب سے مسلم مخالف بیانات دیے گئے ہیں جس کے بعد یہ سوال کیا جانے لگا ہے کہ کیا یہ آنے والے دنوں کی عکاسی ہے۔

اگر مودی خود اپنی اور ایک دو ہندو قوم پرست جماعتوں کی مدد سے اقتدار میں آجاتے ہیں تو کیا ان کی حکومت ہندوتوا کے اپنے نظریے کو نافذ کرے گی؟

بھارت اور بیرون ملک کے اعتدال پسند اور سیکیولر نظریات کے حامل دانشور اور مبصرین یہ اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت اب ہندوتوا کی طرف گامزن ہوگا۔

ہندوتوا دراصل آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ اس سے مراد ایک ایسے سیاسی سماجی اور اقتصادی نظام سے ہے جس کا محور ہندو اکثریتی برادری ہے اور جس میں اسلام اور عیسائیت جیسے غیر ممالک سے آئے مذاہب کے پیروکار دوسرے درجے کے شہری ہوں گے۔

دوسرے لفظوں میں ہندوتوا کا تصور اسی طرز کا ہے جس طرح بیشتر مسلم ممالک میں مذہبی اقلیتوں کو برابری کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، اظہار کی آزادی نہیں ہوتی اور اعتدال پسند اور ترقی پسند خیالات معاشرے کے لیے خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔

اس طرز کا نظام عموماً شخصی یا مذہبی آمریت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔

بھارت میں آر ایس وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا جیسی تنظیمیں آزادی کے پہلے سے ہی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کے لیے کوشاں رہی ہیں۔ بھارت کی تقریباً 83 فیصد آبادی ہندو ہے لیکن ہندوؤں کی اکثریت نے سنگھ پریوار کے ہندوتوا کے ایجنڈے کو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے۔

نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی ہندوتوا کے نظریے پر یقین رکھتی ہے لیکن ابھی تک پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ملنے کے سبب وہ اپنے نظریے کا اطلاق نہیں کر پائی۔

واجپائی کے دور حکومت میں ملک کے سیکیولر تعلیمی نصاب میں ہندوتوا پر مبنی تبدیلیاں کی گئی تھی۔ تاریخ کی کتابوں کے بہت سے باب تبدیل کیے گئے تھے اور ملک کی نئی تاریخ لکھی جا رہی تھی۔

مودی کو ایک سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے جو مخالفت پسند نہیں کرتے۔ ان کا طریقۂ کار شخصی اور نظریہ ہندوئیت پرمبنی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو سنگھ پریوار کی ساری تنظیمیں حرکت میں آ جائیں گی اور ہندوتوا نئی حکومت کا ایجنڈا ہوگا۔

چونکہ بی جے پی کی حکومت کانگریس کی حکومت کے مقابلے زیادہ کھلی معیشت اور کھلی منڈی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگی جس کا براہ راست فائدہ ملک کے کروڑوں متوسط اور متمول طبقے کو ہوگا اس لیے مودی کی حکومت بننے کی صورت میں ہندوتوا پر مبنی نظام کی قبولیت بھی ماضی کے مقابلے زیادہ اور تیز ہوگی۔

لیکن اگر بی جے پی اس پارلیمانی انتخاب میں شکست کھا گئی تو بی جے پی کو ہندوتوا کے اپنے نظریے کے بارے میں از سر نو سوچنا پڑے گا۔

اسی بارے میں