کس کی ٹوپی کس کے سر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الٹی کشتی کی شکل والی ٹوپی کی سیاست میں واپسی

بھارت کی کانگریس پارٹی اقتدار میں واپس آنے کے لیے انتخابات کے دوران سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے اور اسے گاندھی گھرانے کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، لیکن گاندھی جی اور نہرو کی مشہور ٹوپی کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر کسی اور سر پر سج گئی ہے۔

الٹی کشتی کی شکل جیسی یہ سفید ٹوپی بھارت میں جاری انتخابی مہم میں ایک مرتبہ پھر سیاسی علامت کے طور پر واپس آ گئی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ جب یہ ٹوپی قدامت پسندی اور گئے دنوں کی دقیانوسی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر اب سیاسی دنیا میں واپسی کے بعد اسے جدید دور کی علامت اور پہننے والے کو قدامت پسند کی بجائے بدعنوانی کے خلاف بر سر پیکار انڈیا کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت، عام آدمی پارٹی کے حامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس سادہ سی ٹوپی کو سیاسی میدان میں مقبول بنانے والے مہاتما گاندھی تھے جو بذات خود معاشرتی انصاف اور خود انحصاری کے علم بردار تھے۔

اس ٹوپی کو سیاسی حوالے سے سب سے پہلے نہرو گاندھی خاندان نے اپنایا اور یہ اس خاندان اور کانگریس پارٹی کی علامت بن گئی۔

اگرچہ عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان ’جھاڑو‘ ہے جو یہ پارٹی کانگریس سمیت ان تمام سیاسی جماعتوں پر پھیرنا چاہتی ہے جو اس کے بقول گذشتہ دہائیوں میں انڈیا کے بدعنوان سیاسی نظام کا حصہ رہی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے سستے کپڑے کی ہزارہا ٹوپیاں بنوا رکھی ہیں جو پارٹی کے کارکن اپنے جلسوں اور جلوسوں میں آنے والے لوگوں میں دھڑا دھڑ تقسیم کرتے ہیں۔

جوابِ دعویٰ

حالیہ مہم میں گاندھی کیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اس ٹوپی کا آغاز کیسے ہوا تھا۔

تاریخ دانوں کا دعویٰ ہے کہ اس ٹوپی کا آغاز جنگ عظیم اوًل سے بھی پہلے اس وقت ہوا جب مہاتما گاندھی نے جنوبی افریقہ آنا جانا شروع کیا جہاں وہ تشدد سے پاک احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے رہے تھے۔ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے دیگر انڈین مظاہرین کی طرح مہاتما گاندھی کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ قید کے دوران سیاہ فام قیدیوں جیسے کپڑے پہنیں اور سر پر ٹوپی بھی رکھیں۔ باقی قیدیوں کے برعکس قید کے دوران مہاتما گاندھی نے اپنے لیے سفید کپڑے کی ٹوپی خود بنا کر پہن لی۔

انڈیا واپس آنے پر مہاتما گاندھی نے خود انحصاری کی علامت کے طور پر اپنے کپڑے خود کھڈًی پر بنانا شروع کر دیے اور اس دوران ان کی سادہ سفید ٹوپی بھی خود انحصاری کی علامت بن گئی۔ سنہ 1920 تک یہ ٹوپی باقاعدہ سیاسی علامت بن چکی تھی اور انڈیا کے طول و عرض میں لوگوں نے ایسی ٹوپیاں سیاسی تقریبات میں فروخت کرنا شروع کر دیں، جس پر سامراجی اہلکار بہت سیخ پا ہوتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رایہل گاندھی کے والد راجیو گاندھی بھی عوامی اجتماعات میں یہی ٹوپی پہنتے تھے

تاریخ دان لتا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’برطانوی راج کے اہلکاروں نے گاندھی کیپ پہننے والے سرکاری ملازمین کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جس کے دوران ایسے ملازمین کو سرکاری ملازمت سے برخاست کیا گیا، ان کو جرمانہ ہوا اور کئی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے مہاتماگاندھی کا لباس انڈیا کی قوم پرست تحریک کی مستند سیاسی علامت بن گیا اور یوں یہ ٹوپی بھی کانگریس پارٹی کی علامت کے طور پر مشہور ہو گئی۔ یہاں تک کہ بھارت کے پہلے وزیرِاعظم جواہرلال نہرو، جو اپنی شہری تراش خراش اور لباس کے لیے مشہور تھے، انھوں نے بھی اس ٹوپی کو اپنے لباس کا لازمی جزو بنا لیا۔

لیکن اس کے بعد کے برسوں میں یہ ٹوپی متروک ہو گئی۔

اور پھر دہائیوں بعد یہ ٹوپی سیاسی علامت کے طور پر سنہ 2011 میں ایک مرتبہ پھر منظر عام پر اس وقت آئی جب انًا ہزارے نے اسے پہننا شروع کیا اور بدعنوانی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔

انًا ہزارے نے نہ صرف گاندھی کیپ کی علامت استعمال کی بلکہ انھوں نے مہاتما گاندھی کی سیاسی تحریک کی دوسری علامات کو بھی استعمال کیا جن میں گاندھی کی مشہور بھوک ہڑتال کی روایت بھی شامل تھی۔ یوں انًا ہزارے نے خود کو بھارت کے بابائے قوم یعنی ’باپُو‘ کے روپ میں پیش کیا۔

سیاسی فیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب یہ ٹوپی نوجوان سیاسی جیالوں کے فیشن کا حصہ بن گئی ہے

جب نومبر 2012 میں اروند کیجریوال نے بھی بدعنوانی سے پاک سیاسی نظام کا نعرہ بلند کیا اور اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی تو انھوں نے بھی نہرو اور انًا ہزارے کی طرح یقینی بنایا کہ وہ جب بھی عوام میں جائیں، سفید ٹوپی پہن کر جائیں۔ اور یوں بھارت میں ایک نئے سیاسی فیشن کا آغاز ہو گیا۔

دلی کے سیاسی منظر نامے پر کیجریوال کی آمد نے کئی سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا اور جب وہ دہلی اسمبلی کے وزیِراعلیٰ بن گئے تو عموماً سیاست سے بیزار رہنے والے متوسط گھرانوں کے لوگوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی سفید ٹوپی کو فخریہ انداز میں پہننا شروع کر دیا۔

بائیں بازو کے ایک ہفت روزے کے مطابق عام آدمی کے عروج کے ساتھ ساتھ اس ٹوپی کو بھی ’نوجوان سیاسی جیالوں نے اپنے فیشن کا حصہ بنا لیا‘ جسے نہ صرف بالی وڈ کے فلمی ستاروں نے اپنایا بلکہ فیشن ڈیزائینروں نے بھی ایسی ٹوپیاں بنانا شروع کر دی ہیں۔

یوں ماضی کی سادگی کی یہ علامت ایک طویل سفر کے بعد امیر طبقے کا فیشن بن چکی ہے اور کبھی جو ٹوپی محض ایک سیاسی شناخت ہوا کرتی تھی، آج کے بھارت میں وہ سٹائل کی دنیا میں داخل ہو گئی ہے۔