بھارت: سیاسی بحث کا معیار دن بہ دن زوال پذیر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کانگریس نے مودی پر الزام لگایا کہ ان کے مبینہ طور پر ایک حوالہ آپریٹر سے روابط ہیں

بھارت میں انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، تین مراحل کی پولنگ باقی ہے اور دو سو نشستیں اب بھی داؤ پر ہیں اور اب انتخابی مہم کے دوران سیاسی رہنماؤں پر ذاتی حملوں میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔

اتوار کو بی جے پی نے پرینکا گاندھی کے شوہر اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈرا کے خلاف ایک سی ڈی جاری کی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہریانہ اور راجستھان میں کانگریس کی حکومتوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے زمینوں کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی تھی۔

جواب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے رہنما گھبرائے ہوئے چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اور ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے: ’میں ان سے نہیں ڈرتی، میں خاموش نہیں رہوں گی۔‘

جواب میں بی جے پی کے سینیئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہا کہ ’اگر وہ ہمیں چوہا مانتے ہیں، تو ہمیں نظر انداز کیوں نہیں کرتے، انھیں معلوم ہےکہ نریندر مودی شیر ہیں، اور ان گیدڑوں کو بھاگنا پڑے گا۔‘

پیر کو کانگریس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے نریندر مودی پر الزام لگایا کہ ان کے مبینہ طور پر ایک حوالہ آپریٹر سے روابط ہیں۔ لیکن بی جے پی کی ترجمان نرملا سیتھا رمن نے کہا کہ کانگریس اب کسی بھی طرح مودی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی بحث کا معیار اگرچہ دن بہ دن گرتا جارہا ہے لیکن اس وقت اصل ٹکراؤ نریندر مودی، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی اور جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے درمیان چل رہا ہے۔

نریندر مودی نے مغربی بنگال میں ممتا بینرجی کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر مالی بےضابطگیوں کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کی بنائی ہوئی تصویریں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے میں کیسے بک رہی ہیں؟ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ 16 مئی کے بعد بنگال میں غیر قانونی طور پر رہنے والے بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا جائے گا۔

جواب میں ترنمول کانگریس کے سینیئر لیڈر ڈیرک او برائن نے کہا کہ ممتا بینرجی پر ذاتی حملے کے لیے مودی کو معافی مانگنی پڑے گی یا وہ اس بات کا ثبوت پیش کریں کہ ممتا بینرجی کی تصاویر ایک کروڑ 80 لاکھ روپے میں بکی تھیں۔

خود ممتا بینرجی نے کہا کہ انھیںء ’ایسے شخص سے سرٹیفکییٹ نہیں چاہیے جس نے گجرات میں فسادات کرائے تھے۔‘

اسی طرح نریندر مودی اور فاروق عبداللہ کے درمیان بھی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ جو لوگ مودی کو ووٹ دیتے ہیں انھیں سمندر میں ڈوب جانا چاہیے اور یہ کہ اگر بھارت میں فرقہ پرست حکومت بنتی ہے تو کشمیر اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔

جواب میں مودی نے کہا کہ فاروق عبداللہ، ان کے والد شیخ عبداللہ اور بیٹے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صوفی روایت کی سرزمین کو فرقہ پرستی کے رنگ میں رنگ دیا ہے۔

اسی بارے میں