افغان فوجی اڈے پر سینکڑوں شدت پسندوں کا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption مقابلے کے دوران افغان فوج کو نیٹو کی فضائی مدد بھی حاصل رہی

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع فوجی اڈے پر ’غیر ملکی‘ شدت پسندوں کا حملہ پسپا کر دیا گیا ہے اور اس دوران لڑائی میں درجنوں شدت پسند اور پانچ افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاکتوں کی اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

حکام کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے بدھ کو صوبہ پکتیکا کے ضلع زرکوک میں واقع اڈے کو نشانہ بنایا۔

یہ علاقہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے صرف 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے حقانی گروپ کے طالبان کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

ایک افغان کمانڈر کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے مسلح حملہ آوروں میں سے زیادہ تر کا تعلق بھی حقانی گروپ سے تھا اور ان کی تعداد تین سو سے زیادہ تھی۔

افغان حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے مقابلے کے دوران افغان فوج کو نیٹو کی فضائی مدد بھی حاصل رہی تاہم افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مقامی افراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس لڑائی میں نیٹو کے طیارے کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔

افغان کمانڈر نے کابل میں بی بی سی کے بلال سروری کو بتایا کہ اس نے اپنے کیریئر میں اتنی ’خونریز‘ لڑائی کم ہی دیکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے حملے کے دوران راکٹ سے داغے جانے والے بم، مشین گن اور مارٹر گولے استعمال کیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جس علاقے میں یہ فوجی اڈہ واقع ہے وہ شدت پسندوں کے لیے افغانستان میں داخلے اور خروج کے لیے سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔

ان کے مطابق طالبان اس علاقے کو وزیرستان سے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی افغانستان منتقلی کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں