’ہندو علاقے میں رہنے کی ہمت نہیں ہوتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گجرات کی ریاست میں مسلمانوں کی آبادی جوہا پورہ جہاں بنیادی سہولیات ناپید ہیں

بھارت کی ریاست گجرات میں بسنے والے مسلمانوں کو ریاست کے باہر ہی سکھ کا سانس لینے اور آزادی کا احساس ہوتا ہے۔

جوہا پورہ کے چار لاکھ مسلمانوں کی طرح ہما اور نیاز بی بی کو بھی فسادات، تباہی، خوف و ہراس، ناامیدی اور بدتریں حالات کا سامنا ہے۔

ہما نظامی اور نیاز بی بی کی زندگی بہت مختلف ہے۔ ہما کالج میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا اپنا مکان ہے، گاڑی ہے اور بچے ایک اچھے نجی سکول میں پڑھ رہے ہیں۔

نیاز بی بی ناخواندہ ہیں، بوسیدہ سی عمارت کے ایک کمرے میں رہتی ہیں اور ان کے نواسے محلّے کے ایک معمولی سے سکول میں پڑھتے ہیں۔

لیکن دونوں خواتین میں جو چیز مشترک ہے وہ ہے ’تشدد کا خوف،‘ جس کی وجہ سے دونوں ہی ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد کے جوہا پورہ کے علاقے میں رہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ divya arya
Image caption جوہا پورہ میں رہنے والی ایک خاتون ہما نظامی جو سکول میں پڑھاتی ہیں لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں رہنے پر مجبور ہیں

ایک کا مکان سنہ 1990میں رام جنم بھومی کی تحریک کے دوران جلا دیا گیا تھا اور دوسرے کا سنہ 2002 کے مسلم کش فسادات کے دوران۔ دونوں اپنے تحفظ کی تلاش میں ’اپنے لوگوں‘ کے درمیان جوہا پورہ آئیں اور یہیں کی ہو رہیں۔

ہما کہتی ہیں کہ اس لیے نہیں کہ ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ شہر کے کسی ہندو اکثریت والے علاقے میں رہنے کا ’من نہیں کرتا، ہمت نہیں ہوتی۔‘

جوہا پورہ اب احمد آباد میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ 2002 کے فسادات سے پہلے جوہا پورہ کی آبادی تقریباً 85،000 ہوا کرتی تھی جو اب بڑھ کر تقریباً چار لاکھ ہو گئی ہے۔

تو اتنے برسوں بعد بھی اتنا خوف کیوں ہے، کیا کچھ تبدیلی نہیں آئی؟

ہما کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وقت حملے کا خوف رہتا ہے، تاہم ذہنی تشدد کا سامنا ہمہ وقت رہتا ہے۔

ہما کی بیٹی کے بیشتر ہندو دوست اس کے گھر آنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ آٹو والے علاقے میں آنے سے منع کر دیتے ہیں اور حکومت نے توگویا اپنا راستہ ہی بدل لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIVYA ARYA
Image caption نیاز بی بی بھی اس بستی میں رہتی ہیں جہاں شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں

سٹیٹ ٹرانسپورٹ کے تحت چلنے والی بسیں جوہا پورہ نہیں آتیں، باہر ہی سے واپس ہو جاتی ہیں۔ پینے کا پانی فراہم نہیں ہوتا، اس کے لیے اپنے خرچ پر بورنگ کروانی پڑتی ہے۔ جگہ جگہ نالیوں کا پانی سڑک پر پھیلا رہتا ہے جو پوری طرح سے ٹوٹی ہوئی ہے۔

نہ یہ رہنے کی کوئی اچھی جگہ ہے اور نہ ہی یہاں مختلف طرح کے لوگ ہیں۔ ہاں بول چال یا تہذیب و ثقافت کا رس ضرور ملتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جوہا پورہ ہما کو ہر روز مسلمان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ وہاں اس لیے ہیں کہ شادی کے وقت ان کے خوف زدہ والد کی شرط تھی کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے مسلم اکثریت والے علاقے میں رہیں گی۔

یہ انھیں یاد دلاتا ہے کہ ایک نجی بینک نے یہ کہہ کر انھیں مکان کے لیے قرض دینے سے انکار کر دیا تھا کہ جوہا پورہ میں رہنے والے قرض ادا نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIVYA ARYA
Image caption ایک سیکولر ملک میں یہ بچے ایسے ماحول میں پلتے ہیں جو دوسری مذاہب کے لوگوں سے بالکل کٹا ہوا ہے

اور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جوہا پورہ کے بالکل سامنے بنی وہ تمام سوسائٹیاں، جہاں ہندو رہتے ہیں، وہاں پانی ہے، نقل و حمل کی سہولت ہے، سڑکیں ہیں، نالیاں بنی ہوئی ہیں اور وہاں کسی آٹو والے کو جانے میں بھی کوئی پرہیز نہیں ہے۔

یہ جو بنیادی سہولیات ندارد ہیں ان میں سے کچھ کو تو ہما خرید سکتی ہیں لیکن نیاز بی بی نے تو ان کے بغیر ہی رہنے کی عادت ڈال لی ہے۔

دو منزلہ مکان میں رہنے والی نیاز بی بی کا خاندان چھ افراد پر مشتمل ہے اور اب وہ ایک کمرے میں رہتا ہے۔ اپنے کھیت پر کام کرنے والے ان کے شوہر اب بے روزگار ہیں۔ ایک بیٹا میکینک اور دوسرا سیلز مین ہے۔

گاؤں کے کھلے میدان کی جگہ ان کے نواسوں کا بچپن اب شہری گلیوں میں کٹ رہا ہے۔ وہ مسلم برادری کے بچوں کے ساتھ پڑھتے اور انھی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2002 کے فسادات کے وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور وہ اپنے دور میں گجرات میں ترقی کے بہت دعوے کرتے ہیں

فسادات کے بعد نقل مکانی کرنے والے ان لوگوں کے جو بچے جوہا پورہ میں پیدا ہوئے، ان بچوں کے لیے ہندو بچے ایک پہیلی ہیں۔ خاندان میں جب کبھی پرانی باتوں کے تحت ہندوؤں کا ذکر ہوتا ہے، تو بچے اس میں اپنی پہیلی کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت انھیں سمجھایا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ سچ نہیں ہے۔

انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سچ تو اچھے اور پیار بھرے رشتے کا نام ہے۔ مذہب انسانوں کو تقسیم نہیں کرتا اور ان کے کانوں نے جو پر تشدد واقعات کی باتیں سنی ہیں وہ گویا کبھی ہوئی ہی نہیں تھیں۔

لیکن ان معصوم بچوں کا نادان دل کیا سوچتا ہے، کسی کو کیا معلوم۔

نو اور دس برس کے ان لڑکوں سے جب میں پوچھتی ہوں کہ کیا ان کے ہندو دوست ہیں؟ تو وہ بول پڑتے ہیں: ’نہیں، ہندو تو بڑے برے ہوتے ہیں۔‘

اور جب میں کہتی ہوں کہ میں بھی تو ہندو ہوں تو وہ سر ہلا کر ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

یہ خلیج بڑی گہری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ divya arya
Image caption یہ دیوار گجرات میں ہندو اور مسلم آبادی کو تقسیم کرتی ہے اور دیوار کے دونوں طرف کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے

سنہ 2003 میں فلم ہدایت کار راکیش شرما نے گجرات میں ہوئے فسادات اور اس کے بعد کی انتخابی مہم کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم ’فائنل سلوشن‘ بنائی تھی۔

اس فلم کے آخری منظر میں تقریباً انھی لڑکوں کی عمر کے ایک مسلمان لڑکے نے راکیش شرما سے کچھ اسی طرح کی بات کہی تھی۔

وہ بچہ بھی ہندوؤں سے ناراض تھا۔ لیکن راکیش شرما کو اچھا انسان سمجھتا تھا۔ اس لیے جب انھوں نے بتایا کہ وہ ہندو ہیں تو اس نے بھی ماننے سے انکار کر دیا۔

اس بچے نے فسادات کے دوران تشدد کے مناظر دیکھے تھے اور ان بچوں نے سرحدوں سے کھنچی ہوئی تقسیم کو جیا ہے۔ وقت جیسے رک سا گیا ہو۔ ایسا لگتا ہے جیسے 12 برس بعد بھی اس نئی نسل کو واپس وہیں لا کر کھڑا کر دیا گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم آبادی والے علاقوں میں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے اور لوگوں کو ٹینکروں سے پانی لینے کے لیے دور دور جانا پڑتا ہے

حالات میں تبدیلی کی یہی نااميدي ہما اور نیاز بی بی کو جوہا پورہ کے چار لاکھ مسلمانوں کے ساتھ یکجا کر رکھا ہے۔

اگرچہ نیاز بی بی چاہتی ہیں کہ یہ خلیج ختم ہوجائے لیکن وہ جانتی ہیں کہ اب اسے پاٹا نہیں جا سکتا۔

ہما کے مطابق انھیں کھلی ہوا کی سانس تب محسوس ہوتی ہے جب وہ گجرات سے باہر بھارت سے باہر ہوتی ہیں۔ جب انھیں مسلمان نہیں بلکہ ہندوستانی شہری سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں