انڈیا الیکشن:ووٹنگ کی شرح 57 سے 85 فیصد تک

Image caption پارلیمانی انتخابات کے ساتویں مرحلے میں ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت میدان میں اتری

بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کے ساتویں مرحلے میں سات ریاستوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں پولنگ مکمل ہو گئی ہے۔

اس مرحلے میں کل 89 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے اور الیکشن کمیشن کے مطابق مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کی شرح 57 سے 85 فیصد تک رہی۔

کمیشن کے مطابق گجرات کی تمام 26 نشستوں کے لیے 62 فیصد افراد نے ووٹ دیے جبکہ تلنگانہ میں 17 سیٹوں کے لیے یہ شرح 70 فیصد رہی۔

اس کے علاوہ پنجاب کی 13 سیٹوں کے لیے 73 فیصد ووٹ ڈالے گئے اور اتر پردیش کی 14 سیٹوں کے ووٹنگ کی شرح 57 فیصد تھی۔

بہار کی سات سیٹوں کے لیے 60 فیصد پولنگ تو مغربی بنگال میں نو سیٹوں پر سب سے زیادہ 81 فیصد افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک مرتبہ پھر ووٹنگ کی شرح کم تھی اور سرینگر میں صرف 25.62 فیصد لوگ ووٹ دینے نکلے۔

ساتویں مرحلے میں ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کی قسمت کا فیصلہ ہوا اور پولنگ صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک جاری رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کی قسمت کا فیصلہ بھی اس مرحلے میں ہو رہا ہے

گجرات میں بڑودا کے حلقے سے وزیراعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی بھی میدان میں اترے۔

مودی دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور دوسرا حلقہ ہندوؤں کا مقدس ترین شہر بنارس ہے جہاں 12 مئی کو آخری مرحلے میں پولنگ ہوگی۔ گجرات کے ہی گاندھی نگر حلقے سے بی جے پی کے سابق صدر ایل کے اڈوانی میدان میں ہیں۔

اترپردیش کی جن 14 سیٹوں کے لیے بدھ کو ووٹ ڈالے گئے ان میں رائے بریلی بھی شامل ہے جہاں سے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ایک مرتبہ پھر اپنی قسمت آزمائی جبکہ لکھنؤ سے بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ میدان میں تھے۔

Image caption کانگریس کے سینئر رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت سازی کے لیے کانگریس کسی سیکولر اتحاد کی حمایت کر سکتی ہے

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی کرسی کی دوڑ میں راج ناتھ سنگھ ’ڈارک ہارس‘ ہیں اور اگر حکومت سازی کے لیے بی جے پی کو نئے اتحادیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو سنگھ کے نام پر اتفاق ہوسکتا ہے کیونکہ انھیں پارٹی کا معتدل چہرہ مانا جاتا ہے۔

پنجاب کے امرتسر حلقے سے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی میدان میں تھے۔ اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے اور جیٹلی الیکشن جیت جاتے ہیں تو نئی حکومت میں انھیں انتہائی اہم کردار ملنا طے ہے کیونکہ وہ نریندر مودی کے سب سے قریبی ساتھی مانے جاتے ہیں۔

کشمیر کے سری نگر حلقے سے فاروق عبداللہ دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور مودی کے ساتھ ان کی لفظوں کی جنگ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فاروق عبداللہ کے اس بیان پر بہت تنقید ہوئی ہے کہ اگر انڈیا میں فرقہ پرست حکومت بنتی ہے تو کشمیر اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔

اب پولنگ کے دو مرحلے باقی رہ گئے ہیں جن کے لیے ووٹ سات اور بارہ مئی کو ڈالے جائیں گے۔ نتائج کا اعلان 16 مئی کو کیا جائے گا۔

اسی بارے میں