آسام: دو حملوں میں دس’بنگالی مسلمان‘ ہلاک

آسام کے مسلمان
Image caption بوڈو قبائلیوں کا الزام ہے کہ سرحد پار بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان غیر قانونی طور پر اس علاقے میں آباد ہوگئے ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں فائرنگ کے دو واقعات میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد بنگالی مسلمان تھے اور مبینہ طور پر انھیں بوڈو قبائلیوں نے نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے گذشتہ رات ریاست کے کوکراجھار اور باسکا اضلاع میں دو مقامات پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

یہ دونوں علاقے بوڈولینڈ علاقائی کونسل (بی ٹی سی) میں شامل ہیں، جہاں دو برس پہلے بھی بوڈو قبائلیوں اور بنگالی مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کےمطابق حکومت نے متاثرہ علاقے میں گشت کے لیے فوج کی مدد حاصل کر لی ہے اور مرکز سے نیم فوجی دستوں کی دس کمپنیاں بھی طلب کی گئی ہیں۔

بوڈو قبائلیوں کا الزام ہے کہ سرحد پار بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان غیر قانونی طور پر اس علاقے میں آباد ہوگئے ہیں۔ یہ علاقہ بھوٹان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

بنگلہ دیش سے آ کر ہندوستان میں بسنے والے لوگوں کا مسئلہ اس الیکشن میں بھی اہم انتخابی موضوع رہا ہے اور وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی نے چند روز قبل مغربی بنگال میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 16 مئی کو انتخابی نتائج کا اعلان ہونے کے بعد غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا جائے گا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد کےان واقعات کا پارلیمانی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس علاقے میں 24 اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے جس میں ایک قبائلی اور ایک غیر قبائلی امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔

آسام پولیس کےسربراہ ایل آر بشنوئی کے مطابق جمعرات کی شام تقریباً سات بجے پہلے واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کوکراجھار میں حملہ آدھی رات کے قریب کیا گیا اور اس میں سات لوگ مارے گئے۔

پولیس کے مطابق دونوں حملوں میں اے کے سیریز کی رائفلیں استعمال کی گئیں اور حملہ آوروں کا تعلق نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ سے بتایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں