کیا نہرو،گاندھی کا سیاسی قلعہ ٹوٹ رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نہرو گاندھی خاندان کی وراثت امیٹھی میں راہل کو پہلی بار سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے

’آپ عموماً کسی رکنِ پارلیمان کو منتخب کرنے کے لیے ووٹ دیتے ہیں، لیکن ہم اگر گاندھی خاندان کے کسی فرد کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ سمجھ کر دیتے ہیں کہ ہم وزیر اعظم کو ووٹ دینے جا رہے ہیں۔‘ امیٹھی کے 25 سالہ ابرار احمد کہتے ہیں کہ امیٹھی میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ گاندھی خاندان کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔

امیٹھی کی نمائندگی گذشتہ 35 برس سے نہرو گاندھی خاندان کے ہاتھ میں رہی ہے۔ راہل گاندھی وہاں سے تیسری مرتبہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ کاغذات داخل کرنے کے بعد راہل نے کہا: ’سنہ 2004 اور 2009 میں بھی کانگریس کی شکست کی پیش گوئیاں کی گئی تھیں اور آپ نے دیکھا کہ کیا ہوا۔ اس بار بھی یہی ہو گا۔‘

امیٹھی میں گذشتہ برسوں میں خاصی ترقی ہوئی ہے۔ یہاں بڑی بڑی فیکٹریاں اور کارخانے لگائے گئے ہیں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے پیشہ ورانہ کورسز کے معیاری تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں۔

65 سالہ اکشے لال ترپاٹھی تقریباً 35 برس پہلے امیٹھی آ کر آباد ہو ئے: ’میں جب آیا تو یہاں نہ کوئی سکول تھا، نہ کالج اور نہ سڑک۔ 15، 15 کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا تھا۔ گاندھی خاندان ہی کی وجہ سے یہاں اتنی ترقی ممکن ہوئی ہے۔‘

19 برس کے محمد معراج خان پہلی بار ووٹ دیں گے: ’آج سے پانچ برس پہلے یہاں صرف پانچ ٹرینیں آتی تھیں، اب 27 ٹرینیں چلتی ہیں۔ پہلے بجلی نہیں ہوتی تھی اب 24 گھنٹے بجلی رہتی ہے۔‘

لیکن یہاں کے دیہات کی حالت اب بھی بہت زیادہ نہیں بدلی۔ اب بھی غربت اور پسماندگی دیہی علاقوں کی اکثریت کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مرکزی حکومت کی بعض فلاحی سکیموں سے غریب آبادی کو فائدہ پہنچا ہے اور بہت سے لوگ پڑھ لکھ کر غربت کی زندگی سے باہر آ رہے ہیں۔

نہرو گاندھی خاندان کی وراثت امیٹھی میں راہل کو پہلی بار سخت سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف ‏عام آدمی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کمار وشواس کھڑے ہوئے ہیں۔ امیٹھی میں ‏آپ پارٹی کی مہم کے سربراہ پردیپ سندریال کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے: ’ابھی تک یہاں الیکشن نہیں سیلیکشن ہوتا آیا ہے۔ عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوتا تھا۔ انھیں پہلی بار ایک عملی متبادل ملا ہے۔‘

پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی بھی امیٹھی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انتخاب میں اب راہل کو رکنِ پارلیمان اور مشہور اداکارہ اسمرتی ایرانی کا بھی سامنا ہے۔ اسمرتی گھر گھر جا کر لوگوں سے مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہیں۔ امیٹھی میں ابھی تک بی جے پی کا کوئی خاص اثر نہیں رہا ہے۔ اسمرتی اس صورتِ حال کو بدلنا چاہتی ہیں۔

راہل گاندھی اور ان کی کانگریس پارٹی کو تو پورے ملک میں سخت چیلنجوں کا سامنا ہے ہی، لیکن مخالف جماعتیں اس انتخابی جنگ کو نہرو گاندھی خاندان کے سیاسی قلعے تک لے آئی ہیں۔

امیٹھی میں سات مئی کو انتخابات ہونے والے ہیں۔ راہل کی بہن پریانکا گاندھی بھی امیٹھی پہنچ چکی ہیں۔ وہ راہل کے لیے امیٹھی کے عوام سے حمایت حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ نہرو گاندھی خاندان کی سیاست میں امیٹھی ایک اہم علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی بارے میں