افغانستان: مٹی کے تودے گرنے سے255 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہزار کے لگ بھگ گھر تباہ ہو گئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ڈسٹرکٹ گورنر حاجی عبدالودود سعیدی نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا ہے کہ جمعے کو زمین کا تودہ گرنے سے 255 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں جن میں سے دو کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں۔

اس سے قبل مقامی افغان اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مٹی کے تودے کے نیچے دب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

افغان اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کی لاشوں کو نکالنے کا کام روک دیا گیا ہے۔

افغانستان میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ ہزاروں افراد نے قریبی ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ پولیس کی گاڑیاں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لیے خوراک اور پانی لے کر علاقے کی جانب رواں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم بھی علاقے میں نقصان کا جائزہ لینے کے لیے بھیجی گئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ مرنے والوں میں بیشتر افراد وہ ہیں جو پہلے گرنے والے تودے میں دبنے والوں کی مدد کے لیے وہاں گئے تھے کہ ایک بڑا تودہ گر گیا۔

Image caption مقامی لوگ بیلچوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں

شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے گورنر کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث سینکڑوں گھر پہاڑوں سے بہہ کر آنے والی چٹانوں اور کیچڑ میں دب گئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی افغانستان کے بیش تر حصوں میں ان دنوں شدید بارشیں ہو رہی ہیں اور گزشتہ ہفتے سیلاب میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں رو نما ہونے والا سانحہ کہیں زیادہ تباہ کن محسوس ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہزار کے لگ بھگ گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو افغانستان میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں پر رہتی ہے۔

بدخشاں کے پولیس کمانڈر فضل الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 215 خاندانوں کا ہارگو نامی گاؤں تما خاندانوں سمیت مٹی کے تودے تلے دب گیا ہے۔

ان کا کہنا اس بات کے امکان بہت ہی کم ہیں کہ کیچڑ اور تودوں کے اس انبار کے نیچے سے کسی کو بچایا جا سکے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ علاقے کا دور دراز ہونا اور امدادی مشینری کا دستیاب نہ ہونا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بدخشاں سے بی بی سی کے نامہ نگار قربان علی کا کہنا ہے کہ بارش جاری ہے اور مزید تودوں کا خطرہ موجود ہے۔

بدخشاں کے پولیس کمانڈر کا کہنا ہے کہ کسی کو مٹی کے تودوں کے نیچے سے زندہ نکالے جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور افتادہ علاقے میں اگر امدادی مشینری بھی موجود ہوتی تب بھی کسی کو زندہ نکالنا ناممکن تھا۔

بدخشاں افغانستان کا دور افتادہ علاقہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔

بدخشاں کے گورنر شاہ ولی اللہ ادیب نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کے پاس سامان نہیں تھا اور انہوں نے آس پاس کے علاقوں سے بیلچوں لانے کی اپیل کی۔

’کسی کو زندہ نکالنا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے پاس بیلچے کم ہیں اور ہمیں مشینری کی ضرورت ہے۔‘

گورنر نے کہا کہ آس پاس کے علاقوں کو ممکنہ لینڈ سلائیڈ کے خدشے کے باعث خالی کرا لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں