’مودی لہر ذات پات میں بندھے ہندو ووٹ کو متحد نہیں کر سکتی‘

بھارت انتخابی ریلی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس الیکشن میں بی جے پی کی جانب سے انتہائی جدید تکنالوجی کے استعمال کیا گیا ہے

بھارت میں چائے خانے ایک ایسی جگہ ہے جہاں عموماً لوگ سیاست پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارت میں بی بی سی کے سابق نامہ نگار سر مارک ٹلی نے ریاست اترپردیش کے چائے خانوں کا دورہ کیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کو اس بات پر بہت فخر ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی شروعات چائے کی ایک دوکان پر کام کر کے کی تھی اور ایسا ہو سکتا ہے کہ سیاست کی سمجھ انہیں وہیں سے آئی ہو۔

اس لیے میں نے اترپردیش کے چار حلقوں میں چائے خانوں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اترپردیش بھارت کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے اور یہاں جس طرح سے ووٹنگ ہوتی ہے وہ اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہے کہ مرکز میں کس کی حکومت بنے گی۔

میں نے ایسے علاقے کا انتخاب کیا جس میں مسٹر مودی کی حریف جماعت گانگریس رہنما سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہل گاندھی کے حلقے شامل ہیں۔

لیکن میں نے ان حلقوں میں نہ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں صورتِ حال روایتی ہوگی اس کے بجائے میں لکھنوؤ سے باہر دیہی علاقے کی سمت چل پڑا جہاں آج بھی بھارت کی اکثریت آباد ہے۔

حالانکہ میدان میں علاقائی جماعتیں بھی ہیں لیکن میڈیا ان پر توجہ نہیں دیتا۔ تمام توجہ گاندھی اور مودی کی لڑائی پر ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مودی کو سبقت حاصل ہے۔

کئی مبصرین انہیں پہلے ہی سے بھارت کا وزیراعظم قرار دے چکے ہیں اور میڈیا ’مودی کی لہر‘ کی باتیں کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں چائے کی دوکانوں پر گرما گرم سیاسی بحث ہوتی ہے

مودی گجرات کے وزیراعلٰی ہیں اور کانگریس کا الزام ہے کہ ’وہ گجرات میں ہونے والے مسلم مخالف دنگوں میں ملوث تھے‘ جبکہ مسٹر مودی ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مسٹر مودی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس سے وابستہ رہ چکے ہیں اور گاندھی خاندان کا کہنا ہے کہ مسٹر مودی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا کر بھارت کو توڑ سکتے ہیں۔

بارہ بنکی حلقے میں چائے کی پہلی دوکان پر جا کر مجھے علم ہوا کہ نہ تو مودی اور نہ گاندھی کوئی معنی رکھتا ہے۔ وہاں اگر کوئی معنی رکھتی ہے تو وہ ہے امیدوار، ذات پات اور عقیدہ۔

وہاں موجود گاہک علاقے میں ترقیاتی کاموں پر بحث کرتے رہے اور ایک بار بھی مودی کا ذکر نہیں کیا اور اس ترقی میں اس ریلوے پُل کا ذکر ہوا جو وہاں کانگریس کے موجودہ رکن پارلیمان نے بنوایا تھا اور لوگ چاہتے تھے کہ وہی امیدوار واپس جیت کر آئے۔

لیکن موہن لال گنج حلقے میں کانگریس کے امیدوار کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اسی چائے خانے میں میں نے پوچھا کہ کیا اس بار نہرو گاندھی خاندان کے ساتھ وفاداری کے نعرے کا کوئی اثر ہے تو ایک شخص نے کہا کہ وہ اس راستے سے کئی مرتبہ اپنے حلقے میں گئے لیکن ایک مرتبہ بھی انہوں نے رک کر یہاں کا حال نہیں پوچھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سر مارک ٹلی نے ریاست اترپردیش کے متعدد چائے خانوں کا دورہ کیا

جب میں نے مودی کے بارے میں پوچھا تو ایک نوجوان نے کہا کہ ہمارا ان سے کیا لینا دینا وہ تو یہاں سے امیدوار نہیں ہیں۔

جب میں نے پوچھا کہ بی جے پی کی جانب سے انتہائی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کیا الیکشن پر کوئی فرق پڑے گا تو جواب نفی میں مِلا۔

فیض آباد میں ایک چائے کی دوکان کے پاس کچھ بی جے پی کے کارکن کامیاب ریلی کا جشن منا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ترقی کے وعدے پر مودی کی تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے اور مذہبی مسئلے کا ذکر ممنوع ہے۔

ایک اور چائے خانے میں لوگوں نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں نے مذہبی مسائل کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

جب میں اُناؤ میں چائے کی آخری دوکان پر پہنچا تو میری ملاقات بی جے پی کے ایک مقامی رہنما باچا واجپئی سے ہوئی جنہوں نے بھگوا رنگ کی دھوتی پہن رکھی تھی۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس بار’مودی کی لہر‘ ہے تو انہوں نے کہا ’لہر تو ہے لیکن اصل مسئلہ ہے ذات پات کا‘۔

باچا واجپئی کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہی ہے کہ بی جے کو لگتا ہے کہ مودی کی لہر ذات پات کے معاملے کو قابو کر کے تمام ہندوؤں کو متحد کر دیگی لیکن اترپردیش کے ان اہم دیہی علاقوں میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اب تو صرف نتائج کا انتظار ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں