شندے کی اپیل اور جیل سے بیوی کی انتخابی مہم

اب سب ٹھیک ہو جائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آسام میں حال ہی میں مسلم کش حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں

آسام میں قبائلی بوڈو انتہا پسندوں نے بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اس حملے میں تیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ بوڈو قبائلیوں کا الزام ہے کہ مسلمان بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پر آکر ان کے علاقوں میں آباد ہوگئے ہیں جو انھیں منظور نہیں۔

یہ تنازع پیچیدہ بھی ہے اور پرانا بھی لیکن اب سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ وفاقی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں سےقیام امن کی اپیل کی ہے۔

اب دونوں مل جل کر رہیں گے، جیسے اچھے ہمسایوں کو رہنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے گلوں میں ہاتھ ڈال کر گھومیں گے اور اپنے تہوار بھی مل کر ہی منائیں گے کیوں کس میں ہمت ہے کہ وزیرداخلہ کی اپیل پر عمل نہ کرے۔

جب انھوں نے حکم صادر کر دیا ہے کہ مل کر رہو تو بوڈو شدت پسندوں کے پاس دوسرا راستہ بھی کیا ہے؟ ان کے رہنما دشورا گزار گھنے جنگلات میں سر جوڑ کے بیٹھے ہوں گے، یہ طے کرنے کے لیے کہ اپنے اسلحے کا اب کیا کریں، اور شاید یہ بھی کہ نادانی میں جن لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوگیا ہے اس کی تلافی کیسے کی جائے؟

دوسرے فریق کے پاس کوئی دوسرا راستہ پہلے بھی نہیں تھا، اب بھی نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے ایک اور غیر معمولی انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد بوڈو علاقوں میں مذہبی منافرت پھیلانا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سشیل کمار شندے نے اپنے کریئر کا آغاز پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا

اس ملک میں بہت سے لوگ بے وجہ سیاسی رہنماؤں کی قابلیت پر شک کرتے ہیں، لیکن وزیر داخلہ کو دیکھیے انھوں نے منٹوں میں پوری سازش بے نقاب کر دی۔ ورنہ کون سوچ سکتا تھا کہ اے کے رائفلوں سے لیس شدت پسند جب عورتوں اور معصوم کم سن بچوں پر فائرنگ کر رہے ہوں تو ان کے اتنے ناپاک ارادے بھی ہوسکتے ہیں۔

آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ مسٹر شندے نے اپنے کریئر کا آغاز پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا، شاید اسی لیے وہ انتی جلدی پیچیدہ سے پیچیدہ سازش کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔

آپ شاید کہیں گے کہ اپیلوں سے کیا ہوتا، جب دو ہزار بارہ میں اس علاقے میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے تب وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی تو امن کی اپیل کی تھی؟

جواب بھی آپ کو معلوم ہی ہوگا۔ جب من موہن سنگھ کی بات کوئی اور نہیں سنتا تو بے چارے بوڈو شدت پسند ہی کیوں سنیں؟ اور مرنے والے تو اپنی خوشی سے مرتے نہیں ہیں، لہٰذا ان سے تو شکایت کرنا بےکار ہے۔

موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کے آخری دو ہفتے کاٹ رہی ہے۔ شندے صاحب اگر مناسب سمجھیں تو ایک اپیل کشمیری علیحدگی پسندوں اور نکسلی باغیوں سے بھی کرتے جائیں تاکہ جو بھی نئی حکومت آئے اسے اندرون ملک امن و قانون کے کسی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔

صرف فون لینے سے بھی کام چل جاتا!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہاب الدین موبائل فون کے ذریعے جیل سے ہی اپنی بیوی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے

بہار کے سیوان لوک سبھا حلقے سے حنا شہاب الدین انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ محمد شہاب الدین کی بیوی ہیں جن کی شجاعت کے قصے اس علاقے میں مشہور ہیں۔

انھیں کچھ چھوٹے موٹے اور کچھ ذرا سنگین الزامات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی عرصے سے جیل میں ہیں۔

اب ریاستی حکومت نے انھیں سیوان کی جیل سے گیا سنٹرل جیل منتقل کردیا ہے کیونکہ سنا ہے کہ وہ موبائل فون کے ذریعے جیل سے ہی اپنی بیوی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور بظاہر اپنے مخصوص انداز میں سیاسی حریفوں سے یہ ’اپیل‘ بھی کر رہے تھے کہ وہ ان کی اہلیہ کی مخالفت نہ کریں!

پولیس ان کی اس اپیل کو دھمکی بتا رہی ہے۔ بہرحال، کیا ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کرنے سے بہتر یہ نہیں ہوتا کہ شہاب الدین سے صرف ان کا موبائل فون لے لیا جاتا؟

اتنی سی بات تو مسٹر شندے پلک جھپکتے ہی بتا دیتے اور ہو سکتا ہے کہ ساتھ ہی شہاب الدین سے یہ اپیل بھی کر دیتے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کریں۔

شہاب الدین بھلے ہی عمر قید کاٹ رہے ہوں لیکن منتخب جمہوری اداروں اور جمہوریت کے تقاضوں میں ان کے یقین کامل کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ وہ پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے اپنی اہلیہ کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔

مودی حکومت کا بلند اقبال

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی درانداز بھارتی سرحد سے تیس کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے:امت شاہ

امت شاہ وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے سب سے قریبی معتمد ہیں۔ وہ گجرات کے وزیر داخلہ بھی تھے لیکن پولیس کے ایک فرضی مقابلے میں ان کا نام آیا اور کئی مہینے جیل میں گزارنے کے بعد اب وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ انھیں کئی سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

جمہوری اداروں اور تقاضوں میں ان کے یقین کو بھی کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، اس لیے نریندر مودی نے انھیں اتر پردیش میں اپنی انتخابی مہم کا انچارج بنا رکھا ہے۔

اب امت شاہ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی درانداز بھارتی سرحد سے تیس کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے۔ یہ ہوتا ہے حکومتوں کا اقبال!

مودی بنگلہ دیش سے آکر ملک میں بسنے والے لوگوں کو پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کہ سولہ مئی کے بعد وہ اپنا بستر باندھ کر رکھیں۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ بھی خود بہ خود بنگلہ دیش واپس چلے جائیں گے اور سرحد سے تیس کلومیٹر دور اپنے نئے گھر بسائیں گے یا آسام میں قیام امن کے بعد خالی بیٹھے ہوئے بوڈو شدت پسند انھیں چھوڑ کر آئیں گے؟

اسی بارے میں