امیٹھی کے حلقے میں زبردست مقابلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی نے پیر کو گاندھی نہرو خاندان کے گڑھ میں جلسہ کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد امیدوار نریندر مودی نے پیر کو امیٹھی میں جلسہ کر کے سنہ 2014 کے انتخابات کی جنگ کوگاندھی نہرو خاندان کے گڑھ تک پہنچا دیا ہے۔

امیٹھی کو ایک عرصے سے گاندھی نہرو خاندان کا گھریلو انتخابی حلقہ کہا جاتا ہے اور اس خاندان کا کئی دہائیوں سے بھارتی سیاست پر تسلط رہا ہے۔

مودی نے پیر کو وہاں جلسہ کیا اور اس حلقے سے اپنی پارٹی کی امیدوار سابق ٹی وی اداکارہ سمرتی ایرانی کے لیے ووٹ مانگے۔

سمرتی ایرانی وہاں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے مد مقابل ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ دو بار راہل گاندھی وہاں سے رکن پارلیمان منتخب ہو چکے ہیں۔

ہرچند کہ بی جے پی کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملکی سطح پر اس کی کارکردگی بہتر رہے گی، لیکن راہل گاندھی کو امیٹھی میں خاصی سبقت حاصل ہے۔ اس سے قبل سنہ 2009 کے انتخابات میں انھیں 70 فی صد ووٹ ملے تھے، جبکہ بی جے پی کے امیدوار کو صرف دس فی صد ووٹ پڑے تھے اور وہ وہاں تیسرے نمبر پر آئے تھے۔

راہل گاندھی سے قبل ان کی والدہ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی وہاں سے انتخاب میں کامیاب ہوتی رہی ہیں اور ان سے قبل راہل کے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سنہ 1984 اور سنہ 1989 کے انتخابات میں امیٹھی سے کامیابی حاصل کی تھی۔

بہت سے اخباروں نے لکھا ہے کہ نریندر مودی نے غیر تحریر شدہ ضابطے کو توڑا ہے اور اپنے حریف رہنما کے گڑھ پر ہلّہ بول دیا ہے۔

بھارت کے معروف اخبار ہندوستان ٹائمز نے شہ سرخیوں میں یہ خبر شائع کی ہے کہ ’امیٹھی پرجوش مودی طوفان کی زد میں، گاندھیوں پر ان کے گڑھ میں حملہ۔‘

اخبار نے لکھا ہے کہ ’سرکردہ رہنماؤں کے حلقوں میں دخل اندازی نہ کرنے کے غیر تحریر شدہ ضابطے کو توڑتے ہوئے بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نے (انتخابی) جنگ گاندھی نہرو خاندان کے گڑھ امیٹھی میں پہنچا دی ہے۔‘

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی جلی حروف میں لکھا ہے کہ ’مودی نے دشمن کی حد پار کر لی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرینکا گاندھی اپنے بھائی راہل کے لیے امیٹھی میں خیمہ زن ہیں

اخبار نے لکھا ہے: ’سیاسی مبصرین مودی کی پرجوش کوشش کو مسز ایرانی کے لیے زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں۔۔۔ اگر وہ امیٹھی میں ہار بھی جاتی ہیں تو بھی راہل کی جیت کا فاصلہ کم کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ انھوں نے گاندھی کی مقبولیت کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔‘

انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے: ’مودی جنگ کوگاندھی کے گڑھ میں لے آئے۔‘

دریں اثنا ہندوستان ٹائمز کے مطابق راہل گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی نے امیٹھی میں مودی کی انتخابی مہم پر تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’امیٹھی کے ووٹر بی جے پی کی سیاست کو مناسب جواب دیں گے۔‘

اخبار کے مطابق انھوں نے کہا: ’میرے (پولنگ) بوتھ کے رضاکار ان کی سطحی سیاست کا مناسب جواب دیں گے۔ یہ جواب امیٹھی کے ہر ایک بوتھ سے آئے گا۔‘

اسی بارے میں