دارالعلوم : ’طالبان نے رہنمائی چاہی تھی‘

دارالعلوم دیوبند
Image caption دارالعلوم دیوبند اسلام کا اہم مرکز مانا جاتا ہے

بھارت کی تاریخی درس گاہ دیوبند جاتے ہی اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ آپ ایک مذہبی مقام پر ہیں جہاں ہر شخص اپنی تاریخ اور تہذیب پر بے حد فخر کرتا ہے۔

یہ دارالعلوم دیوبندی مسلک کے مسلمانوں کا آج بھی اہم روحانی مرکز ہے۔ افغانستان اور پاکستان میں سرگرم طالبان شدت پسند بھی اسی مسلک کے پیروکار ہیں۔ پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے تناظر میں یہ سوال اور بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کیا طالبان دارالعلوم دیوبند اور دیوبندی اسلام کی صحیح عکاسی کر رہے ہیں؟ اور اگر نہیں تو دارالعلوم دیوبند کے علما ان پر اپنی مثبت سوچ کا اثر کیوں نہیں رکھتے؟ یا پھر طالبان کی جانب سے رہنمائی کی درخواست کے باوجود کیا دیوبندی علما نے ان سے کنارہ کر لیا ہے؟

دیوبند میں علما کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف ملک کی آزادی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں دین پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ’دارالعلوم دیوبند ایک مدرسہ نہیں ہے بلکہ ایک تحریک ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کو قائم کیا تھا وہ سنہ 1857 کی تحریک میں بھی شریک تھے اور ان کے نزدیک یہ بات نہیں تھی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان ہے۔‘

Image caption مولانا ارشد مدنی کا کہناہے کہ طالبان کو وہ جانتے بھی نہیں

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سرگرم طالبان کا تعلق بھی تو دیوبندی مسلک سے ہے، اور وہ انہی مدراس کی دین ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف مولانا ارشد مدنی بلکہ دیوبند سے تعلق رہنے والا ہر عالم اور ہر طلب علم فخر محسوس کرتا ہے۔

مولانا ارشد مدنی کہتے ہیں: ’دیکھیے، ان کے حالات نے ان کو متاثر کیا ہے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ہمارا ملک بدامنی کی طرف جا رہا ہے، ہمیں اس میں سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمارا طالبان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ہمارا کوئی سیاسی کردار ہے ہی نہیں۔‘

مولانا ارشد مدنی کے اس جواب کے بعد میں نے جمعیت علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی کے سامنے یہ سوال رکھا کہ انھوں نے شدت پسندی کے خلاف کانفرنسیں کی ہیں اور تشدد کو غیر اسلامی قرار دیا ہے لیکن کبھی واضح الفاظ میں طالبان کی مخالفت یا مذمت کی ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’چاہے تحریک طالبان پاکستان ہو یا ہندوستان میں موجود تنظیمیں ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسائل حل ہوں۔‘

Image caption محمود مدنی کا خیال ہے اگر پاکستان میں علما طالبان کی کھل کر مذمت نہیں کرتے تو اس میں مصلحت ہے

مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے وائس چانسلر مفتی عبدالقاسم نعمانی کا کہنا ہے کہ وہ طالبان شدت پسندوں کی کارروائیوں کی کھل کر مذمت کر چکے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن طالبان آج جو کچھ کر رہے ہیں اس کے لیے 11 ستمبر سنہ 2001 کا واقعہ ذمہ دار ہے۔

’نوگیارہ کے حملے کے بعد جب امریکی اور اتحادی طاقتیں افغانستان میں داخل ہوگئیں اور ان کی ماؤں، بہنوں کی عزتیں لوٹی گئیں تو اب وہ دفاع کے لیے اگر شدت اختیار کرتے ہیں تو ان کا طریقہ ہے اور ان کے داخلی حالات ہیں۔ وہ مسلک اور مشرب کے اعتبار سے دارالعلوم کو اپنا مرکز سمجھتے تھے اور اسلامی نظام حکومت کیا ہونا چاہیے اس بارے میں مدد چاہتے تھے، لیکن یہاں کے حالات کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔‘

میں نے دارالعلوم دیوبند کے طلبہ سے بھی بات کی۔ ان میں سے ایک طالب علم نے کہا کہ پاکستان کے حالات کے پیش نظر وہاں کے علما فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں میں نے مولانا محمود مدنی سے یہ سوال پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام بھی کھل کر طالبان کی مذمت نہیں کرتی۔ محمود مدنی کا کہنا ہے کہ وہ وقت کا تقاضہ ہے: ’ کچھ لوگوں کو بین بین رہنا چاہیے، ایسی پوزیشن میں کہ کل کو طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات کر سکیں۔ سبھی مخالف ہوجائیں گے تو کیسے کام چلے گا۔‘

بھارت میں اسلامی امور کے ماہر اور’ کمشنر فار لنگوسٹک مائنورٹی‘ کے چیئرمین پروفیسر اختر الواسع کا خیال ہے دارالعلوم جیسے ادارے عالمی سیاست کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں۔ ’11 ستمبر سنہ 2001 کے بعد مسلمانوں پر یہ الزام لگنے لگا کہ تمہارے لیڈر ملا عمر ہیں، اسامہ بن لادن ہیں، لیکن مسلمانوں کو کوئی یہ جواب نہیں دیتا ہے کہ ملا عمر کو ہم نے دریافت کیا تھا، ہم نے کابل بھیجا تھا یہ کام تو سارا امریکہ اور اس کی حلیف قوتوں نے کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کا کہنا ہے کہ انھیں بلا وجہ بدنام کیا جاتا ہے

محمود مدنی کا خیال ہے کہ شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی تمام کوششوں کے باوجود ان کی نیت پر شک کیا جاتا ہے: ’ہم اگر مغرب کے خلاف بولیں تو میڈیا والے کہتے ہیں کہ ہم عسکریت پسند ہو رہے ہیں، اور اگر ہم مغرب کی آواز سے آواز ملائیں تو کہا جاتا ہے کہ ہم سچائی کے خلاف ہیں۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی نائن الیون کے حملوں کے بعد مسلمانوں کے ادارے، خاص طور سے مذہبی اداروں کی جانب انگلیاں اٹھیں، اور وہ شک کے سائے میں آئے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارتی علما کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف فتوے جاری کرنے اور اس کی مذمت کرنے کے بعد بھی شدت پسندی کے بارے میں ان کے موقف پر بار بار سوال پوچھے جاتے رہے ہیں۔ اور یہی وجہ کہ دیوبندی علما اس بات کو بار بار دہراتے ہیں کہ شدت پسند چاہے ملک کے اندر ہو یا ملک سے باہر ہو، ان کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔