کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ڈرتے، الیکشن کمیشن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی کو ذرائع ابلاغ میں سب سے زیادہ حصہ دیا گیا

انڈیا کے انتخابی کمیشن نے وزارتِ عظمٰی کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار نریندر مودی کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ جانبداری سے کام کر رہا ہے، کہا ہے کہ اس کی توجہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے پر ہے اور وہ ’کسی سیاسی جماعت سے خوفزدہ نہیں ہے۔‘

مسٹر مودی ہندوؤں کے مقدس ترین شہر بنارس سے بھی انتخابی میدان میں ہیں جہاں ضلع انتظامیہ کی جانب سے ایک جلسے کی اجازت نہ دیے جانے پر بدھ کو دن بھر ہنگامہ رہا۔ اور اس فیصلے کے خلاف احتجاج میں بی جے پی کی اعلٰی قیادت دن بھر دھرنا دیے بیٹھی رہی۔

انتخابی کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور سیاسی جماعتیں اس پر براہ راست حملہ کرنے سے عام طور پر گریز کرتی ہیں۔ لیکن مسٹر مودی نے کہا کہ ’وہ پوری ذمہ داری سے الیکشن کمیشن پر جانبداری سے کام کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔‘

الیکشن کمیشن نے ایک پریس کانفرنس طلب کرکے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ عام طور پر ذاتی حملوں کا جواب دینے سے گریز کرتا ہے لیکن حالیہ واقعات کے بعد یہ پیغام ضرور دینا چاہتاہے کہ اس کی پوری توجہ آزادانہ اور منصفانہ انداز میں الیکشن کرانے پر ہے۔

بنارس کی ضلع انتظامیہ نے سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے بی جے پی کو ایک مخصوص میدان میں جلسہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

جلسے کی اجازت نہ ملنے کے بعد نریندر مودی نے شہر میں روڈ شو کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔

پارٹی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی بھی دن بھر دھرنے میں شامل رہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ جموں اور کشمیر اور نکسلیوں کے غلبے والے علاقوں میں تو امیدواروں کی انتحابی مہم پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن مسٹر مودی کو بنارس میں، جہاں امن و قانون کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، جلسہ کرنے سے روکا جارہا ہے۔

بنارس سے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال بھی مسٹر مودی کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بنارس میں شکست کے خوف سے بی جے پی گھبرائی ہوئی ہے اور’میڈیا کی توجہ خود پر رکھنے کے لیے یہ ڈرامہ کر رہی ہے۔‘

ملک میں انتخابی مہم کے دوران یہ عام تاثر تھا کہ پرائم ٹائم میں سب سے زیادہ کوریج مسٹر مودی کو ہی ملی ہے۔ اب ایک غیر سرکاری ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مسٹر مودی کی کوریج سونیا گاندھی، راہول اور پرینکا گاندھی اور مسٹر کیجریوال کی مجموعی کوریج سے بھی زیادہ رہی۔

بنارس میں بارہ مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور ووٹوں کی گنتی سولہ مئی کو ہوگی۔

اسی بارے میں