تلوار سب کے سر پر لٹک رہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کی انتخابی مہم ترقی کے اپنے نعرے پر مرکوز رہی

بالآخر ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے جاری بھارت کے پارلیمانی انتخابات اب اختتام کے قریب ہیں۔12 مئی کے آخری مرحلے کی پولنگ کے لیے سنیچر کی شام انتخابی مہم ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ دو مہینے سے جاری انتخابی سرگرمیاں اختتام کو پہنچیں گے۔

سیاسی رہنما کئی مہینوں سے اپنی اپنی جماعتوں کے لیے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔اب انہیں بھی چند دنوں کا آرام ملے گا۔

پیر کو آخری مرحلے کی ووٹنگ کے بعد پولنگ کا عمل پورا ہو جائےگا۔ ووٹوں کی گنتی 16 مئی یعنی جمعہ کے روز ہوگی۔

پیر کو ووٹنگ ختم ہونے کے بعد بھارت کے درجنوں ٹی وی چینل ایگزٹ پولز پیش کریں گے ۔ آخری مرحلے سے پہلے ہی مودی اور ان کی پارٹی کی جیت کی امید میں ملک کا حصص بازار ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ یہاں بزنس کے حلقوں میں ایک خوشی کا ماحول ہے ۔ اگر ایگزٹ پولز میں مودی اور ان کے اتحاد کی برتری دکھائی جاتی ہے تو منگل کا حصص بازار بہت اوپر جا سکتا ہے ۔

یہ پارلیمانی انتخابات ایک ایسے ماحول میں ہوئے جب منموہن سنگھ کی حکومت کے خلاف پورے ملک میں بیزاری پائی جاتی تھی، اس پر بدعنوانی کے الزامات تھے، مہنگائی عروج پر تھی اور حکومت کچھ کرتی ہوئی نہیں محسوس ہو رہی تھی ۔

دوسری طرف مودی نے ترقی، مضبوط قیادت اور شفاف حکومت کے نعرے پر انتخاب لڑا۔ ہندوئیت کے پرانے ایجنڈے اور کچھ نفرت انگیز تقریروں سے ماحول کچھ دنوں کے لیے خراب بھی رہا لیکن عمومی طور پر مودی کی مہم ترقی کے اپنے نعرے پر مرکوز رہی۔

نئی جماعت عام آدمی پارٹی بھی انتخاب میں اتری۔ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایک نئی جماعت کسی طرح کے وسائل کے بغیر لوک سبھا کی چار سو زیادہ سیٹوں پر محض اپنے زور پر انتخاب لڑ رہی ہے ۔بی جے پی کانگریس، تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی زبردست مخالفت کے باوجود عام آدمی پارٹی اپنا وجود قائم کرنے میں بظاہر کامیاب ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں وہ ایک ملک گیر سطح کی قومی جماعت کی شکل اختیار کرسکتی ہے ۔

گزشتہ کئی عشروں کا یہ مشکل ترین انتخاب کہا جائےگا ۔ کئی جانب سے فتح کی پیشنگوئیوں کے باوجود مودی کی منزل اتنی آسان نہیں لگتی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مودی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ 272 سیٹوں میں سے صرف 230 کے آس پاس رہ گئے تو خود ان کی پارٹی میں ان کی اپنی قیادت کے لیے مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں اور اگر وہ 240 پار کر گئے تو ان کے لیے نئے اتحادی پانا ایک انتہائی مشکل کام ہوگا۔

اس وقت صرف کانگریس ہی ایک ایسی جماعت ہے جو دبے لفظوں میں تسلیم کرتی ہے کہ وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی ۔

اس صورت میں ممتا بینر جی، جیہ للتا ،مایا وتی چندر شیکھر ریڈی، ملایم سنگ یادو ، لالو یادو اور نتیش جیسے رہنماؤں کی اہمیت بڑھ جائےگی۔ سبھی علاقائی جماعتیں ایک منتشر مینڈیٹ کی توقع کر رہی ہیں۔ کئی رہنما تو اسی کنفیوژن کے حالات میں وزیر اعظم تک بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

ایک ہفتے میں نئی حکومت کا فیصلہ ہو جائےگا ۔ لیکن فی الوقت سبھی جماعتوں کے سر پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔

یہ انتخاب بھارتی میڈیا کے لیےبھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔ تقریباً سبھی چینلوں نے بی جے پی کی جیت کی پہلے ہی پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔ غیر بی جے پی جماعتیں ان پر دانستہ طور پر جانبداری کا الزام لگا تی رہی ہیں ۔ 16 مئی کے نتیجے میں ان چینلوں کی ساکھ کا بھی فیصلہ ہوگا ۔ ماضی میں کئی بار ٹی وی چینلوں کی پیش گوئیاں اور ایگزٹ پولز غلط نکلے ہیں ۔

اسی بارے میں