بنارس کو بنارس جیسا ہی لیڈر چاہیے

Image caption بنارس شہر ایک مہذب شہر کے اعزاز کا صحیح حقدار ہے

بنارس جہاں بھارت کے سب سے اہم مذہبی مقامات میں سے ایک ہے وہیں اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں بھی ہوتا ہے۔

یہاں کی ’گنگا، جمنا‘ تہذیب، یا یہ کہیں سیکولر تہذیب بنارس کے عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

بھارت میں تقریباً چھ ہفتوں سے جاری انتخابات کے نویں اور آخری مرحلےمیں 41 نشستوں پر پیر کو ووٹنگ ہونی ہے اور اس مرحلے میں ہر کسی کی نظر بنارس کی نشست پر ہی لگی ہوئی ہیں کیونکہ یہاں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیرِاعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار اجے رائے اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال سے ہے۔

اگر ان امیدواروں کے سیاسی کریئر اور ان کی پارٹی کے نظریات پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہے کہ ان میں سے سب سے ’سخت گیر‘ رہنما کی شبیہ نریندر مودی کی ہے۔

بنارس کے لوگوں سے بات کریں تو اکثریت نریندر مودی کی حامی دکھائی دیتی ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں ان کے شہر میں سب مل جل کر رہیں۔

شیوگری پیشے سے ایک ڈرائیور ہیں اور بنارس کے ہی رہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی سے بےحد متاثر ہیں ’لیکن بنارس سے جیتیں گے تو مودی جی ہی۔‘

اس سوال پر کہ ایسا کیوں کر ہوگا، ان کا کہنا تھا: ’بنارس کو وکاس یعنی ترقی چاہیے اور وہ صرف نریندر مودی ہی دے سکتے ہیں۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیں لیکن سب کہتے ہیں کہ ترقی صرف مودی کروا سکتے ہیں۔‘

یہ بات بالکل صحیح ہے کہ بنارس کو ’ترقی‘ کی بےحد ضرورت ہے۔ یہاں برس دنیا بھر سے لاکھوں سیاح آتے ہیں لیکن یہاں کی سڑکیں اور ٹریفک کا نظام بےحد خراب ہے اور بجلی کی کمی کی وجہ سے یہاں کی مشہور بنارسی ساڑھیاں بنانے والے جولاہے اور دستکار بدحالی کا شکار ہیں۔

یہ تو ہے بنارس کی ضروریات جن کے پورے ہونے سے بنارس کی شکل و صورت سدھر جائے گی لیکن بنارس کی روح یا بنارس کی تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے یہاں کیسے لیڈر کی ضرورت ہے اس سوال کے جواب میں سرکردہ سماجی کارکن لینن رگھونشی کہتے ہیں کہ بنارس کو ایک ایسا لیڈر چاہیے جو یہاں مشہور صوفی سنت کبیر کی دی ہوئی ملی جلی تہذیب کو سنوار کر رکھ سکے اور جو ہندو مسلم تہذیب کی عکاس استاد بسم اللہ خان کی شہنائی سے اٹھنے والی گونج کو برقرار رکھ سکے۔

عالمی شہرت یافتہ ستار نواز پنڈت روی شنکر اور شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کا تعلق بنارس سے ہی ہے اور ان دونوں موسیقاروں کو سیکولر تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور سرکردہ سماجی کارکن ڈاکٹر رجنی کانت کا کہنا ہے کہ ’بنارس کی سب سے بڑی طاقت یہاں کی دستکاری اور بنارس کی ریشمی ساڑھیاں ہیں اور روایتی طور پر یہ کاروبار ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی میل جول کی وجہ سے پھلتا پھولتا رہا ہے اور یہی بنارس کی خوبصورتی ہے کہ یہاں سب مذاہب اور سب ذاتوں کے لوگ مل جل کر رہتے اور کاروبار کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ر بجلی کی کمی کی وجہ سے یہاں کی مشہور بنارسی ساڑھیاں بنانے والے جولاہے اور دستکار بدحالی کا شکار ہیں

بنارس کے بارے میں ایک اور بات بھی مشہور ہے کہ یہ خواتین کا احترم کرنے والوں کا شہر ہے۔ بھارت کے کسی اور شہر کے بارے میں یہ بات کہنا تھوڑا مشکل ہے۔

انسانی حقوق کی کارکن شروتی رگھوونشی کا کہنا ہے کہ ’بنارس شروع سے ہی ایک مہذب شہر رہا ہے، جہاں ہوسکتا ہے معاشی طور پر خواتین اتنے آگے نہ بڑھ سکی ہوں لیکن یہاں خواتین کی عزت بہت کی جاتی ہے اور پھر چاہے وہ یہاں کی بہو بیٹیاں ہوں یا پھر باہر سے آنے والی خواتین۔‘

انڈیا میں فی الوقت اگر کسی شہر میں مختلف مذاہب اور ذات پات کے لوگ مل جل کر رہتے ہوں اور اپنی باہمی دوستی کو شہر کے مستقبل کے لیے اہم مانتے ہوں اور جہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہو واقعی وہ شہر ایک مہذب شہر کے اعزاز کا صحیح حقدار ہے اور اس شہر کو ایسے ہی لیڈر کی ضرورت ہے جو اس جذبے کو ہمیشہ برقرار رکھ سکے۔

اسی بارے میں