بھارت: انتخابات مکمل، ابتدائی جائزوں میں بی جے پی آگے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹنگ مشینوں کو سربمہر کر دیا گیا اور ووٹوں کی گنتی 16 مئی کو ہوگی

بھارت میں تقریباً چھ ہفتوں سے جاری پارلیمانی انتخابات میں آخری مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ کے ایگزیٹ پول یا ابتدائی جائزوں کےمطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی انتحابی مہم میں زیادہ سرگرم تھی تاہم ماہرین کے مطابق ماضی میں مقامی ذرائع ابلاغ کی پیشنگوئیاں اور ایگزٹ پولز کے نتائج کئی بار غلط ثابت ہوئے ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے دوران نو مرحلوں میں کل 543 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان انتخابات میں 66.38 فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا جو بھارتی انتخابات کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے 1984 کے انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ ہوئی تھی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ کے حتمی اعداد و شمار منگل کو جاری کیے جائیں گے۔

پیر کی شام کو مقامی میڈیا کے ایگزٹ پول میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں قائم اتحاد ’این ڈی اے‘ یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو برتری حاصل ہے اور حکمران جماعت کانگرس پیچھے ہے۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’این ڈی اے‘ 261 سے 283 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ ٹائمز ناؤ کے مطابق حزب مخالف کے اتحاد کو 249 نشستیں مل سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ آئی بی این نیوز نیٹ ورک کے مطابق ’این ڈے اے‘ اتحاد کو 270 سے 282 جبکہ اس میں سے بے جے پی 230 سے 242 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اس نیوز نیٹ ورک کے مطابق کانگریس کی سربراہی میں قائم اتحاد ’یو پی اے ‘کو 92 سے 102 نشستیں مل سکتی ہیں۔

اسی طرح سے اے بی پی نیوز نیٹ ورک نے بی جے پت اتحاد کو 281 جبکہ کانگریس کے اتحاد یو پی اے کو 97 نشستیں دی ہیں۔

بھارت میں کسی جماعت یا اتحاد کو حکومت سازی کے لیے 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

پیر کو نویں اور آخری مرحلے میں تین ریاستوں کی 41 نشستوں کے لیے پولنگ ہوئی جن میں اتر پردیش کی 18، مغربی بنگال کی 17 اور بہار کی چھ نشستیں شامل تھیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مغربی بنگال میں پولنگ کی شرح اناسی اعشاریہ تین فیصد پولنگ ہوئی وہیں بہار میں 58 اور اترپردیش میں 55 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رائے عامہ کے تمام جائزوں کے مطابق نریندر مودی کو برتری حاصل ہے

نویں مرحلے میں سب نظریں اترپردیش میں وارانسی یعنی بنارس کی اہم نشست پر مرکوز رہیں، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیرِاعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کا مقابلہ کانگریس کے امیدوار اجے رائے اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال سے تھا۔

واضح رہے کہ کیجریوال نے گذشتہ سال دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اس وقت کی وزیراعلیٰ شیلا دیکشت کے خلاف انتخابات لڑتے ہوئے انھیں واضح فرق سے شکست دی تھی اور جب پارلیمانی انتخابات کا اعلان ہوا تو انھوں نے کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اتریں گے خواہ وہ کہیں سے امیدوار ہوں۔

بنارس میں کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ اس قدر سیاسی گہماگہمی دیکھی گئی اور نریندر مودی کو چیلنج کرنے والے اروند کیجریوال کے سینکڑوں رضاکار گھر گھر جا کر مہم چلاتے رہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس نشست کا نتیجہ ملک کا سیاسی مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر بی جے پی پارلیمان میں اکثریت حاصل کر بھی لے لیکن مودی بنارس سے ہار جائیں تو ان کے لیے وزیراعظم بننا تقریباً ناممکن ہوجائے گا، حالانکہ وہ گجرات میں وڈودرا سے بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اندازہ ہے کہ بھارتی الیکشن میں 55 کروڑ سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالے ہیں

اس کے علاوہ اترپردیش میں برسراقتدار جماعت سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اعظم گڑھ کی نشست سے قسمت آزمائی کی۔

سات اپریل سے شروع ہونے والے ان انتخابات میں 81 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے نام انتخابی فہرستوں میں درج تھے اور اندازہ ہے کہ ان میں سے 55 کروڑ سے زیادہ افراد نے ووٹ ڈالے ہیں۔

ووٹوں کی گنتی 16 مئی کی صبح شروع ہوگی اور امکان ہے کہ دوپہر تک صورتحال واضح ہو جائے گی کہ کون سی پارٹی یا اتحاد حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے.

بھارت کی لوک سبھا کے علاوہ چار ریاستوں، اڑیسہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور سکم کی ریاستی اسمبلیوں کے لیے بھی انتخابات ہوئے ہیں اور ان کے نتائج کا اعلان بھی 16 مئی کو ہی ہوگا۔

اسی بارے میں