اچھے دن آئے رے بھیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابات کے بعد ملک کے تمام ایکزٹ پول نے مودی کو آگے دکھایا ہے

انڈیا میں وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کی انتخابی مہم کا ایک واضح پیغام یہ تھا کہ اچھے دن آنے والے ہیں، یعنی مودی جیتیں گے تبھی خوشحالی آئے گی۔

ایگزٹ پول ماضی میں غلط بھی ثابت ہوئے ہیں، لیکن اب لگتا نہیں کہ اچھے دن آنے میں زیادہ شبہے کی گنجائش ہے۔ اگرچہ اب بھی اچھے دنوں سے خوفزدہ بہت سے لوگ منتیں مانگ رہے ہیں کہ برے دن بھی اتنے برے نہیں تھے، لیکن اگر آپ نے اندھیرے میں ہی زندگی گزاری ہو تو سورج کی روشنی کا لطف آپ کیا جانیں۔

16 تاریخ سے ملک کے سوا ارب باشندوں کے دن پھر جائیں گے۔ لیکن جو لوگ خوش نہیں ہیں ان کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ اچھے دنوں کے ساتھ مودی بھی آئیں گے۔ اس الیکشن میں یہی پیکج ڈیل تھی، اچھے دن چاہییں تو ساتھ میں مودی کو بھی لینا پڑے گا ورنہ پانچ سال راہل گاندھی سے کام چلائیے۔

صاف ظاہر ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ منظور نہیں تھا، ان کے لیے راہل کی تقریر پانچ منٹ برداشت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، پانچ سال تو بہت دور کی بات ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ میں کم سے کم یہ خوبی تو تھی کہ وہ کبھی بولتے نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مودی نے ایک ریلی میں راہل کو نشانہ بناتے ہوئے ٹافی اور غبارے کی بات کی تھی

پوری انتخابی مہم کے دوران اکثر ٹی وی چینل راہل کی تصویر تو دکھاتے تھے لیکن ان کی تقاریر نہیں سنواتے تھے، انھیں بھی اپنی ٹی آر پی کی فکر رہتی ہے جس سے آپ یہ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ راہل کو ابھی کتنا لمبا سفر طے کرنا ہے۔

کانگریس کے بارے میں گذشتہ پانچ برسوں میں یہ تاثر قائم ہوگیا تھا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کچھ نہیں کرتی، لہٰذا لوگوں نے اس مرتبہ ایسے رہنماؤں کا انتخاب کر ڈالا جو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

زیادہ تو نہیں بس کچھ چھوٹے موٹے فرضی مقابلوں کے مقدمات ہیں، ایک لڑکی پر دن رات نگاہ رکھنے کا الزام بھی ہے، کبھی کبھی 2002 کا ذکر بھی ہوتا ہے، لیکن نہیں معلوم کیوں لوگ اتنی پرانی باتوں کو یاد رکھتے ہیں، مستقبل کی فکرنہیں کرتے، ماضی میں ہی الجھے رہتے ہیں۔

اب اچھے دن آنے والے ہیں، بس تین چار دن ہی کی بات ہے، پھر ملک سے بدعنوانی اور بے روزگاری ختم ہو جائے گی۔ غربت تو شاید کانگریس اپنے دور اقتدار کے باقی دو تین دنوں میں ختم کر کے ہی جائے گی، اس الیکشن سے اس نے بھی سبق تو سیکھا ہی ہوگا، ہندوستان پھر سونے کی چڑیا کہلائے گا، ہر گھر میں ٹائلٹ ہوگا، آبادی میں انڈیا چین کو پیچھے چھوڑ دے گا، خوشحالی میں امریکہ کو، ٹیکنالوجی میں جرمنی کو، فٹبال کے جنون میں برازیل اور ارجنٹائنا کو۔۔۔اور میچ فکسنگ میں تو وہ پہلے سے ہی کافی ترقی کر رہا ہے!

اندرون ملک بہت کچھ بدلےگا، لیکن نریندر مودی کی مضبوط قیادت کا اصل اثر بیرون ملک نظر آئے گا۔ چین متنازع سرحد پر اپنا دعویٰ چھوڑ دے گا کیونکہ یہ اطلاع تو چین بھی پہنچی ہوگی کہ ہندوستان میں اچھے دن آنے والے ہیں، اور ان کے ساتھ نریندر مودی بھی!

پاکستانی شدت پسندوں کے لیے مسٹر مودی کے قریبی معتمد امت شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 16 مئی کے بعد وہ خود بہ خود سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے۔

امریکہ اگر مسٹر مودی کو ویزا نہ دینے کے فیصلے پر قائم رہے گا تو ان سے ملاقات کرنے کے لیےصدر اوباما کو شارجہ یا ابو ظہبی آنا پڑے گا، کیونکہ بغیر ویزا کے تو مسٹر مودی امریکہ جائیں گے نہیں اور جب وہ مسٹر مودی کو ویزا نہیں دیں گے تو ان میں ہی ایسی کیا خاص بات ہے کہ انھیں ویزا دیا جائے؟ کشیدہ تعلقات میں ایسی ملاقاتوں کے لیے ’نیوٹرل وینیو‘ ہی ٹھیک رہتے ہیں!

خود بے جے پی کے اندر بھی اچھے دن آئیں گے، لال کرشن اڈوانی آخرکار ریٹائر ہو سکیں گے، اب انھیں کبھی یہ فکر نہیں کرنی پڑے گی کہ کہیں اچانک وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری نہ سنبھالنی پڑ جائے۔ مرلی منوہر جوشی اور سشما سواراج یا تو چڑھتے سورج کو سلام کریں گے یا وقت کاٹنے میں مسٹر اڈوانی کا ساتھ دیں گے!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی کے سینیئر رہنما اڈوانی کو مودی نے پیچھے چھوڑ دیا ہے

کانگریس کی بزرگ قیادت پہلے ہی کہتی رہی ہے کہ اب پارٹی کی کمان نوجوانوں کو سونپنے کا وقت آگیا ہے، یہ ان کی عاقبت اندیشی اور تجربہ ہی تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ پارٹی کا کیا حشر ہونے والا ہے، پھر بھی انھوں نے نریندر مودی کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی، وہ بھی شاید اچھے دنوں کا انتظار کر رہے تھے۔

اب ہندوستانی عوام اور اس کے رہنما دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھیں گے، اس کے لیے مسٹر مودی اپنے ہیرو مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کا دیو قامت مجسمہ تمعیر کرائیں گے، یہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگا جس پر کھڑے ہوکر عام لوگوں کو بھی احساس ہوگا کہ ہندوستان نے باقی دنیا کو اگر بہت پیچھے نہیں تو بہت نیچے ضرور چھوڑ دیا ہے!

اسی بارے میں