وزیر اعظم من موہن سنگھ کا اقتدار میں آخر دن

Image caption من موہن سنگھ کے دورِ اقتدار میں ان پر تنقید کی جاتی رہی کہ اصل اقتدار سونیا گاندھی کے ہاتھوں میں تھا

پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زبردست فتح کی پیش گوئیوں کے درمیان وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کل اپنے دفتر کے عملے کو الوداع کہا۔ اطلاع کے مطابق جمعرات کو وہ نئی رہائش گاہ پر منتقل ہو رہے ہیں۔

منگل کو انھوں نے کابینہ کے اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بعض تجاویز کی منظوری دی اور بی جے پی کی شدید مخالفت کے باوجود ملک کی بری فوج کے نئے سربراہ کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔

بدھ کی رات کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ان کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا ہے۔

ووٹوں کی گنتی 16 مئی یعنی جمعے کی صبح شروع ہو گی اور دوپہر تک ہار اور جیت کے رحجانات واضح ہو جانے کی توقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز کابینہ کی آخری میٹنگ ہو گی جس میں کابینہ کے رفقا وزیر اعظم کا باضابطہ طور پر شکریہ ادا کریں گے۔ تکنیکی اعتبار سے یہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی آخری میٹنگ کابینہ ہو گی۔ اس کے بعد وہ صدر مملکت پرنب مکھرجی کو اپنا استعفیٰ دینے کے لیے ایوان صدر جائیں گے۔ اسی شام وہ آخری بار بھارتی قوم سے خطاب کریں گے۔

ووٹوں کی گنتی سے قبل سبھی ایگزٹ پولز میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ دلی میں بی جے پی کے رہنماؤں نے حکومت سازی کے لیے صلاح و مشورے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آر ایس ایس نے پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ سے کہا ہے کہ وہ نتیجہ آنے سے پہلے ہی وزارتوں کا فیصلہ کر لیں تاکہ آخری لمحات میں کوئی ابہام نہ رہے۔

بی جے پی نے کہا ہے کہ اسے پوری امید ہے کہ وہ واضح اکثریت کے ساتھ فتح یاب ہوگی، لیکن اگر کوئی دوسری جماعت اس کا ساتھ دینا چاہے تو وہ اس کا خیر مقدم کرے گی۔

بی جے پی کے وزارت عظمٰی کے امیدوار نریندر مودی گجرات کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی جیت کی صورت میں وہ وزیر اعظم ہوں گے اور ان کی جگہ گجرات میں کسی اور کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا جائے گا۔

احمد آباد میں یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ مودی نے کل ریاستی بی جے پی کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی۔ توقع ہے کہ وہ جمعے کی دوپہر تک یا اس سے پہلے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں