مودی کی امید میں بازارِ حصص لڑھک نہ جائے

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مودی بھارت کی سستی کا شکار معیشت کو پھر سے پٹری پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے

بھارتی عام انتخابات کے تمام ایگزٹ پولز میں بی جے پی کو بھاری کامیابی ملنے کے امکان سے بھارتی بازارِ حصص میں کافی جوش و خروش اور اچھال دیکھنے کو مل رہا ہے، لیکن اگر نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو اکثریت نہیں مل پائی تو بازار بہت بُری طرح گِر بھی سکتا ہے۔

ان خدشات کے پیش نظر بھارتی ریزرو بینک کے گورنر رگھورام راجن نے کہا ہے: ’ہم گذشتہ کچھ ہفتوں سے بازار کے مالیاتی نظام پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ہم کئی طرح کے معیار اپنا رہے ہیں اور اگلے کچھ دنوں میں ہونے والی کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

رگھو رام راجن نے میڈیا کو یہ معلومات وزیرِخزانہ پی چدم برم سے ملاقات کرنے کے بعد دی ہیں۔

چوکس رہنے کی ہدایت

پی چدم برم نے بھارتی ریزرو بینک سمیت تمام مالیاتی اداروں کو چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ بازار میں ممکنہ عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

وزیر خزانہ کی ہدایات کے بعد سیبی کے چیئرمین یو کے سنہا نے کہا کہ بازار پر مکمل طور پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی کو فکر کی ضرورت نہیں ہے۔

Image caption سٹاک ایکسچینج میں بی جے پی کے حوالے سے امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی

یو کے سنہا کے مطابق کسی بھی طرح کی رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایگزٹ پولز میں بی جے پی کو اکثریت ملنے کے امکانات کے بعد سنسیکس ریکارڈ 24،068.94 پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔

عام انتخابات کے نتائج 16 مئی کو آنے والے ہیں۔ گذشتہ دو عام انتخابات کے دوران ایگزٹ پولز کے غلط ثابت ہونے کی وجہ سے خدشات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سرمایہ کار ابھی انتظار کرنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔

انتظار کی حکمت عملی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اگر نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اکثریت حاصل نہیں کر پائی انڈیکس نیچے جا سکتا ہے

اگر بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی اور مودی وزیر اعظم نہیں بنتے ہیں تو کچھ تجزیہ کاروں کے اندازے کے مطابق حصص بازار میں آٹھ سے دس فیصد کی کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وہیں کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق بازار 20 فیصد تک نیچے جا سکتا ہے۔

2004 کے عام انتخابات کے نتائج کے وقت بھی ایسا ہو چکا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہارنے کے سبب نتائج کے دن ہی نیشنل اسٹاک ایكسچینج 12.2 فیصد گرگیا تھا اور اگلے دن یہ کمی 19 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

اس وقت بازار کو امید ہے کہ مودی گذشتہ ایک دہائی سے جاری معیشت کی سست رفتار کو پھر سے پٹری پر لانے میں کامیاب ہوں گے، لیکن یہی امیدیں خدشات بھی پیدا کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں