فینکس کی اُڑان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مودی لگی لپٹی کے قائل نہیں سمجھے جاتے

انڈیا کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی ان انتخابات میں مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں سے ایسے ابھری ہے جیسے تخیلاتی پرندہ (فینکس) برسوں پرانی راکھ سے ابھرنے کے بعد ایک شاندار اڑان بھرتا ہے۔

جمعے کی صبح آنے والے انتخابی نتائج سے بالکل واضح ہوگیا ہے کہ یہ جماعت اپنی 30 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی فتح کی جانب تیزی سےگامزن ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی دو انتخابات میں شکست کے بعد سنہ 2009 میں محض 116 نشستیں جیت پائی تھی۔ لیکن لگتا ہے کہ آج یہی جماعت تنِ تنہا 272 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کر لےگی۔ اب تک کے نتائج کے مطابق بی جے پی کی 28 اتحادی جماعتوں کو تین سو سے زائد نشتسوں پر سبقت حاصل ہے۔

بھارت میں علاقائی دھڑے بندیوں اور چھوٹی جماعتوں کی بہتات کے درمیان بی جے پی جیسی اس عظیم فتح کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ آخری مرتبہ سادہ اکثریت کانگریس پارٹی کے حصے میں اس وقت آئی تھی جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد رائے دہندگان کی ہمدردیوں کی وجہ سے سنہ 1984 کے انتخابات میں اسے 415 نشستیں ملی تھیں۔

آج کے نتائج بی جے پی کے حق میں تو ہیں ہی، لیکن یہ نتائح ایک لحاظ سے جماعت کے کرشماتی اور متنازع رہنما نریندر مودی کی ذات کی بطور رہنما زبردست توثیق ہیں جنھوں نے ان انتخابات کو صدارتی انتخاب بنا دیا اور اپنی اس شہرت کے بل بوتے پر جیتے کہ وہ بھارت میں ترقی اور مضبوط قوم پرست خیالات والے رہنما ہیں جو زیادہ باتیں نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں۔

انتخابی مہم کے آخری روز جب میں وارانسی سے واپس آ رہا تھا تو دورانِ پرواز میں نے بی جے پی کے رہنماؤں سے پوچھا کہ انھیں کتنی نشستیں جیتنے کی امید ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا خیال تھا کہ وہ 240 اور 250 کے درمیان نشستوں پر کامیاب ہوں گے۔

مشہور تـجزیہ کار سواپن داس گپتا کا کہنا ہے کہ اتنی نشستوں پر کامیابی بی جے پی کی اپنی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ہے: ’یہ فتح مسٹر مودی کی فتح ہے۔ وہ مودی جسے بھارت کے انگریزی بولنے والے امیر طبقے نے طرح طرح کے القابات سے نواز کر ٹکٹکی پر چڑھا رکھا تھا کہ جیسے ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی، وہی مودی ان انتخابات میں ایک امید کے طور پر سامنے آئے ہیں۔‘

دوسری جانب کانگریس کو اپنی سب سے بری انتخابی کارکردگی کی سامنا ہے۔ اس کے لیے ان نتائج کے ذریعے عوام نے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مہنگاہی اور بدعنوانی پر قابو پا سکی ہے بلکہ وہ ملک بھر میں ایک نئی نوجوان سیاسی قیادت کو تیار کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔

لگتا ہے کہ آج کے بےصبر اور ترقی کی خواہشات سے بھرپور انڈیا میں نہروگاندھی خاندان کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

اسی بارے میں