’یہ مودی کی جیت نہیں بلکہ کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے‘

بھارتی پارلیمان کے نو مراحل میں ہونے والے عام انتخابات کے بیشتر نتائج آ چکے ہیں اور ان انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 282 نشستیں حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ان کی مدِمقابل انڈین نیشنل کانگریس صرف 44 نشستیں ہی جیت پائی ہے۔

’یہ فتح صرف مودی کی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک ملک میں انتخابات کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں تھی جو آزاد ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے:نریندر مودی

بھارتی انتخابات میں واضح برتری لینے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو عام انتخابات میں ملنے والی ’جیت مودی کی جیت نہیں بلکہ پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کی جیت ہے۔‘

انھوں نے یہ بات سنیچر کو نئی دہلی میں جماعت کے صدر دفتر میں موجود حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج آپ نے ایئرپورٹ سے یہاں تک جس گرم جوشی سے استقبال کیا ہے اس کے لیے میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں۔‘

بی جے پی کے حامیوں کے نعروں کی گونج کے درمیان نریندر مودی نے کہا ’یہ فتح مودی کے کھاتے میں نہ ڈالی جائے، یہ بی جے پی کے لاکھوں کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘

نریندر مودی نے دہلی میں بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی جس میں پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔

اجلاس کے بعد راج ناتھ سنگھ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ حلف برداری کی تقریب کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔ اس بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائی ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے 20 مئی کو دوپہر 12 بجے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ بلائی ہے جس میں لیڈر کا انتخاب ہوگا اور اس کے بعد ہی حلف برداری کی تاریخ طے کی جائے گی۔‘

مودی دہلی کے دورے کے بعد اپنے انتخابی حلقے وارانسی (بنارس) بھی گئے جہاں سے انھوں نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو شکست دی تھی۔ وارانسی میں بھی ان کی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔

بی جے پی نے انتخابی مہم میں وارانسی کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور اس تاریخی شہر کے لیے بڑے منصوبوں کا وعدہ کیا ہے۔

یہاں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ’جو بغیر مانگے دے اسے ماں کہتے ہیں۔ مجھے بنارس کے عوام سے مانگنے کا موقع نہیں ملا۔ میرے منہ پر تالا لگا تھا اس لیے میں نے بنارس کے لوگوں سے خاموشی سے بات چیت کی۔‘

خیال رہے کہ شہر کی انتظامیہ نے نریندر مودی کو بنارس میں انتخابی جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

مودی نے کہا کہ بنارس آنے کا تجربہ ان کے لیے ماں کی گود میں آنے جیسا ہے۔

بھارتی پارلیمان میں پارٹی پوزیشن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت میں سات اپریل سے شروع ہو کر 12 مئی کو نو مراحل میں مکمل ہونے والی ووٹنگ کا یہ عمل دنیا کا سب سے بڑا انتخابی عمل تھا جس میں 55 کروڑ سے زیادہ شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جو 2009 کے مقابلے 32 فیصد زیادہ ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں اس مرتبہ 81 کروڑ سے زیادہ افراد کو ووٹ دینے کا حق ملا اور یہ تعداد تھی جو یورپی یونین کی پوری آبادی سے زیادہ ہے۔ اس بار سب سے زیادہ 66.38 فیصد ووٹنگ ہوئی اور 1984 میں اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والی 64 فیصد ووٹنگ کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

بڑی ریاستوں میں اس بار مغربی بنگال (81.8 فیصد)، اوڈیشا (74.4 فیصد) اور آندھر پردیش (74.2 فیصد) میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ تاہم سب سے اہم انتخابی ریاست اتر پردیش اور بہار میں اوسطاً کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ یوپی میں 58.6 فیصد جبکہ بہار میں 56.5 فیصد پولنگ ہوئی۔

اس بار حکومت ہندوستان نے انتخابات پر کل 3426 کروڑ روپے خرچ کیے جو 2009 کے 1483 کروڑ روپے کے مقابلے 131 فیصد زیادہ ہے۔یاد رہے کہ سنہ 1952 میں ہونے والے پہلے لوک سبھا انتخابات میں صرف 10.45 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

فینکس کی اڑان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انتخابی مہم کے آخری روز جب میں وارانسی سے واپس آ رہا تھا تو دورانِ پرواز میں نے بی جے پی کے رہنماؤں سے پوچھا کہ انھیں کتنی نشستیں جیتنے کی امید ہے

انڈیا کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی ان انتخابات میں مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں سے ایسے ابھری ہے جیسے تخیلاتی پرندہ (فینکس) برسوں پرانی راکھ سے ابھرنے کے بعد ایک شاندار اڑان بھرتا ہے۔

جمعے کی صبح آنے والے انتخابی نتائج سے بالکل واضح ہوگیا ہے کہ یہ جماعت اپنی 30 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی فتح کی جانب تیزی سےگامزن ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی دو انتخابات میں شکست کے بعد سنہ 2009 میں محض 116 نشستیں جیت پائی تھی۔ لیکن لگتا ہے کہ آج یہی جماعت تنِ تنہا 272 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کر لےگی۔ اب تک کے نتائج کے مطابق بی جے پی کی 28 اتحادی جماعتوں کو تین سو سے زائد نشتسوں پر سبقت حاصل ہے۔

آج کے نتائج بی جے پی کے حق میں تو ہیں ہی، لیکن یہ نتائح ایک لحاظ سے جماعت کے کرشماتی اور متنازع رہنما نریندر مودی کی ذات کی بطور رہنما زبردست توثیق ہیں جنھوں نے ان انتخابات کو صدارتی انتخاب بنا دیا اور اپنی اس شہرت کے بل بوتے پر جیتے کہ وہ بھارت میں ترقی اور مضبوط قوم پرست خیالات والے رہنما ہیں جو زیادہ باتیں نہیں کرتے بلکہ کام کرتے ہیں۔

انتخابی مہم کے آخری روز جب میں وارانسی سے واپس آ رہا تھا تو دورانِ پرواز میں نے بی جے پی کے رہنماؤں سے پوچھا کہ انھیں کتنی نشستیں جیتنے کی امید ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا خیال تھا کہ وہ 240 اور 250 کے درمیان نشستوں پر کامیاب ہوں گے۔

مشہور تـجزیہ کار سواپن داس گپتا کا کہنا ہے کہ اتنی نشستوں پر کامیابی بی جے پی کی اپنی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ہے: ’یہ فتح مسٹر مودی کی فتح ہے۔ وہ مودی جسے بھارت کے انگریزی بولنے والے امیر طبقے نے طرح طرح کے القابات سے نواز کر ٹکٹکی پر چڑھا رکھا تھا کہ جیسے ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی، وہی مودی ان انتخابات میں ایک امید کے طور پر سامنے آئے ہیں۔‘

دوسری جانب کانگریس کو اپنی سب سے بری انتخابی کارکردگی کی سامنا ہے۔ اس کے لیے ان نتائج کے ذریعے عوام نے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مہنگائی اور بدعنوانی پر قابو پا سکی ہے بلکہ وہ ملک بھر میں ایک نئی نوجوان سیاسی قیادت کو تیار کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے۔

لگتا ہے کہ آج کے بےصبر اور ترقی کی خواہشات سے بھرپور انڈیا میں نہروگاندھی خاندان کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔

مودی کی شخصیت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مودی کی سیاسی زندگی جتنی سرخیوں میں رہی ہے، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں لوگ اتنا ہی کم جانتے ہیں

نریندر دامودر داس مودی متنازع شخصیت کے مالک ہیں اور ان کے چاہنے والے اور انھیں ناپسند کرنے والے دونوں ہی اپنی محبت اور نفرت میں حد سے گزر جاتے ہیں۔

مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں، جبکہ چاہنے والوں کے لیے ان کے کئی اوتار ہیں، کہیں وہ ہندوتوا کے پوسٹر بوائے ہیں، تو کہیں تبدیلی اور اقتصادی ترقی کی علامت، یا پھر ایک ایسے مضبوط رہنما جو ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

مودی کی سیاسی زندگی جتنی سرخیوں میں رہی ہے، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں لوگ اتنا ہی کم جانتے ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں لیکن ہمیشہ اکیلے رہے ہیں۔ ان کے تین بھائی بھی ہیں، اور والدہ بھی حیات سے ہیں، لیکن وہ اپنے خاندان سے زیادہ واسطہ نہیں رکھتے۔

ان کے ایک بھائی نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی’قوم کے نام وقف کر دی ہے۔‘

مودی کا جنم 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے مہسانہ ضلعے میں ایک غریب خاندان میں ہوا تھا۔ ان کے والد دامودر داس ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔

بچپن میں خود نریندر مودی اپنے والد کے ساتھ ٹرینوں میں چائے بیچا کرتے تھے۔ اس الیکشن میں انھوں نے اپنے ’غریب بیک گراؤنڈ‘ کا بھرپور فائدہ اٹھایا، یعنی ایک چائے بیچنے والا جو ایک ’شہزادے‘ (راہل گاندھی) کو چیلنج کر رہا ہے۔

ان کے سوانح نگار کے مطابق بچپن میں ان کے ذہن میں سنیاسی بننے کا بھی خیال آیا تھا اور وہ کچھ دن راماکرشن مشن میں بھی جا کر رہے۔ 17 سال کی عمر میں جشودا بین سے ان کی شادی ہوئی لیکن دونوں کبھی ساتھ نہیں رہے۔

انھوں نے جوانی میں ہی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔ ان کی سیاسی تربیت آر ایس ایس میں ہی ہوئی لیکن اب ان کے کاروبار نواز اقتصادی نظریے اور آر ایس ایس کے ’سودیشی‘ کے تصور میں براہِ راست تضاد ہے۔ وہ کئی بڑے صنعتی گھرانوں کے قریب مانے جاتے ہیں اور اس الیکشن میں کارپوریٹ انڈیا نے ان کی زبردست حمایت کی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس الیکشن میں آر ایس ایس نے بھی ان کی بھرپور حمایت کی۔

مودی کو شروع سے ہی بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور انھی کی مدد سے وہ سنہ 2001 میں پہلی مرتبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے۔ سنہ 1991 میں جب رام مندر کی تعمیر کے لیے مسٹر اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا نکالی تھی تو اس کا انتظام نریندر مودی نے ہی سنبھال رکھا تھا۔

لیکن مودی کے وزیر اعظم بننے کے چند ہی مہینوں بعد فروری 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جو آج تک ان کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ فسادات میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے اور مسٹر مودی پر الزام ہے کہ انھوں نے خونریزی روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ فسادات روکنے میں ناکامی کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی چاہتے تھے کہ مسٹر مودی استعفی دے دیں لیکن ایل کے اڈوانی نے ان کی کرسی بچائی۔

اسی سبب امریکہ نے انھیں ہمیشہ ویزا جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔

لیکن جب سے مسٹر مودی نے وزیر اعظم کی کرسی کے لیے اپنے عزائم کا عندیہ دیا، تو اڈوانی سے ان کے تعلقات بگڑنا شروع ہوگئے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی آمرانہ شخصیت کی جھلک پیش کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی، سشما سوراج اور مرلی منوہر جوشی جیسے سینیئر رہنماؤں کو کنارے کر دیا۔

یہ الیکشن بھی بے جے پی کے نام پر نہیں، مودی کے نام پر لڑا گیا اور اس کا مرکزی نعرے تھے: ’اب کی بار، مودی سرکار۔‘ ’مودی کو ووٹ دیجیے، بی جے پی کو نہیں،‘ ’اچھے دن آنے والے ہیں، اور اچھے دن صرف مودی لا سکتے ہیں۔‘

پوری انتخابی مہم کے دوران ان کے ساتھ سٹیج پر پارٹی کا کوئی دوسرا لیڈر نظر نہیں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور اسی لیے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ایک سیکیولر ملک میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ملک کے جمہوری اداروں اور روایات کا احترام کرنا ہی ان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔

خود نریندر مودی کے خلاف تو مذہبی فسادات کے سلسلے میں کبھی کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا لیکن فسادات سے متعلق ایک کیس میں ان کی وزیر مایا کوڈنانی عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان کے سب سے قریبی معتمد اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کو پولیس کے فرضی مقابلوں کے سلسلے میں قتل کے الزامات کا سامنا ہے اور وہ فی الحال ضمانت پر رہا ہیں۔

امت شاہ ہی اتر پردیش میں پارٹی کی انتخابی مہم کے انچارچ تھے اور الزام یہ ہے کہ انھوں نے انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے الیکشن کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر مودی کے سامنے دو بڑے چیلنج ہوں گے۔ بلندو بانگ وعدوں کو کیسے پورا کیا جائے اور مذہبی تفریق کو کیسے ختم کیا جائے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے؟

پہلے چیلنج سے عوام کی توقعات وابستہ ہیں دوسرے سے ملک کا مستقبل۔

اسی بارے میں