بھارتی انتخابات میں کامیاب اور ناکام سیاست دان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی نے 278 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے

بھارتی پارلیمانی انتخابات کو دنیا کا سب سے بڑا جمہوری عمل کہا جاتا ہے۔ اس میں نو مرحلوں میں 543 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔

ان انتخابات کے نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

ان انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی سمیت دیگر رہنماؤں نے اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی وہیں کئی بڑے رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کون کون جیتا

نریندر مودی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے وڈودرا انتخابی حلقے سے کانگریس کے امیدوار کو پانچ لاکھ 70 ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے

بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی ریاست گجرات کے حلقے ودوڈرا اور اترپردیش کے حلقے وارانسی سے جیت گئے ہیں۔

مودی دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہے تھے اور دونوں سے کامیابی کے بعد انھیں ایک سیٹ خالی کرنا پڑے گی۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی ودوڈرا سیٹ چھوڑ دیں گے اور وارانسی سیٹ اپنے پاس رکھیں گے۔

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال بھی وارانسی کے حلقے سے نریندر مودی کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہی تھے اور اسی وجہ سے یہ حلقہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔

ایل کے ایڈوانی

ریاست گجرات کے گاندھی نگر حلقے سے بی جے پی کے سابق صدر ایل کے اڈوانی نے انتخاب جیتا ہے۔ سینیئر سیاست دان ایل کے اڈوانی نے پہلی بار یہاں سے 1991 میں سیٹ جیتی تھی۔

راج ناتھ سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption اٹل بہاری واجپائی اپنے دور میں پاکستان دوستی بس لے کر آئے تھے اور اس کے بعد کارگل جنگ ہوئی تھی

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ اترپریش میں لکھنو کے حلقے سے انتخاب جیتے ہیں۔ بے جے پی کے لیے اس نشست کی کافی اہمیت تھی کیونکہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اس حلقے سے 1991 سے 2004 کے عرصے میں پانچ بار منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے۔

سونیا گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماضی کے برعکس اس بار راہل زیادہ فرق کے ساتھ نہیں جیت سکے

کانگریس پارٹی کو انتخابات میں شکست کا سامنا ہے لیکن جماعت کی صدر سونیا گاندھی نے اترپردیش کے حلقے رائے بریلی سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سونیا گاندھی کی جیت کو کانگریس کے لیے حالیہ انتخابات میں اچھے لمحات کہا جا سکتا ہے۔

راہل گاندھی

کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بھارتی ووٹرز کو متاثر کرنے میں ناکام رہے لیکن امیٹھی کے حلقے میں کامیاب رہے۔ ریاست اترپردیش کے اس حلقے کو ایک عرصے سے گاندھی نہرو خاندان کا گھریلو انتخابی حلقہ کہا جاتا ہے۔

راہل گاندھی اس سے پہلے 2004 اور 2009 انتخابات میں اس حلقے سے واضح برتری سے منتخب ہو چکے ہیں۔ اس بار بی جے پی کے رہنما سمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے کمار وشواس راہل گاندھی کے مدمقابل تھے۔ اس بار راہل گاندھی ماضی کے برعکس معمولی برتری سے کامیاب حاصل کر سکے۔

ہیما مالنی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہیما مالنی نے واضح فرق کے ساتھ انتخاب میں کامیابی حاصل کی

بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوار ہیما مالنی نے ریاست اتر پردیش میں متھرا کے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مقابلے میں علاقائی جماعت بہوجن سماج پارٹی کے یوگش دیوای تھے۔

ششی تھرور

کانگریس کے رہمنا اور وزیر ششی تھرور جنوبی ریاست کیرلا کے حلقے ترونتپرم سے دوسری بار کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے مقابلے میں بی جے پی کے سینیئر رہمنا راجا گوپال تھے۔

اور کس کس کو شکست ہوئی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption کپل موجودہ حکومت میں وزیرِ قانون کے عہدے پر فائز ہیں

کپل سبل

انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس جماعت کی حکومت کے وفاقی وزیر کپل سبل دہلی کے چاندنی چوک حلقے سے بے جی پی کے امیدوار ہرش وردن سے ہار گئے ہیں۔ اس حلقے میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔ اس نشست پر بھی کافی توجہ تھی کیونکہ بے جے پی کے امیدوار ہرش ریاستی انتخابات میں اسی حلقے سے دہلی کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تھے۔

نندن نلکانی

کانگریس کے ارب پتی رہنما نندن نلکانی جنوبی ریاست کرناٹک کے حلقے بنگلور ساؤتھ کی نشست پر بی جے پی کے امیدوار اور سابق وفاقی وزیر آننتھ کمار سے ہار گئے ہیں۔نلکانی بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک انفو سیس کے شریک بانی اور ارب پتی سابقہ سی ای او ہیں۔

سلمان خورشید

کانگریس کی حکومت میں وزیر خارجہ سلمان خورشید ریاست اترپردیش کے حلقے فرخ آباد سے ہار گئے ہیں۔ دو بار اس حلقے سے کامیابی حاصل کرنے والے سلمان خورشید کو علاقائی جماعت سماجوادیپارٹی کے امیدوار رامشور سنگھ نے شکست دی۔

اروند کیجریوال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اروند کیجریوال نے انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی مودی کے خلاف انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا تھا

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو اترپردیش کے حلقے وارانسی(بنارس) میں وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی سے شکست ہوئی۔ عام پارٹی کو انتخابات میں صرف چار نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ اس جماعت نے عام انتخابات میں پہلی بار حصہ لیا تھا۔

فاروق عبداللہ

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی علاقائی جماعت نیشنل کانفرس کے رہنما فاروق عبداللہ کو سری نگر کے حلقے سے 30 ہزار ووٹوں سے پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے طارق حمید قرّہ نے شکست دی ہے۔

حکمران نیشنل کانفرنس کو 37 سال میں پہلی بار سرینگر کی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں