کشمیر: حکمران اتحاد کو شکست

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محبوبہ مفتی نے بھی اپنی نشست جیت لی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اپوزیشن جماعتوں بی جے پی اور پی ڈی پی نے حکمران اتحاد نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بھارتی پارلیمنٹ کی تمام (چھ) نشستوں پر تاریخی شکست سے دوچار کردیا ہے۔ حکمران نیشنل کانفرنس کو 37 سال میں پہلی بار سرینگر کی نشست پر شکست ہوئی ہے جبکہ کانگریس رہنما غلام نبی آزاد کی شکست بھی مبصرین کے لیے حیران کن ہے۔

سولہ برس قبل وجود میں آنے والی پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی نے سرینگر، اننت ناگ اور بارہ مولہ کی تین جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پونچھ، ادھمپور اور لداخ کی تین نشستوں پر واضح اکثریت کے ساتھ بھارتی پارلیمنٹ میں داخلہ پالیا ہے۔

وزیراعلی عمرعبداللہ نے ٹوٹر پر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابی مہم میں پی ڈی پی نے صحیح نعرے دیے جبکہ ہم سے چوک ہوگئی۔‘

دریں اثنا علیحدگی پسندوں نے بھی نریندر مودی کی فتح کو کشمیریوں کے لیے غیرمتعلق قرار دیا ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے بی جے پی اور کانگریس کو ’ایک جیسا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس نہ صرف بابری مسجد کے انہدام کی ذمہ دار ہے بلکہ سب سے زیادہ مسلم کش فسادات کانگریس کے ہی دور اقتدار میں ہوئے ہیں۔

میرواعظ عمرفاروق ، جو حریت کانفرنس ع کے سربراہ ہیں، نے کہا ہے کہ اقتدار پر چاہے کسی کا بھی قبضہ ہو، کشمیر میں حالات تب تک بہتر نہیں ہوں گے جب تک حکومتِ ہند کشمیریوں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل نہِیں کرتی۔

فاروق عبداللہ کو تیس ہزار ووٹوں سے شکست دینے والے طارق حمید قرّہ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں نے دکھا دیا ہے کہ مغرور سیاستدانوں کو حتمی سزا دینے کا اختیار محض ان کے پاس ہے۔‘

کشمیر کی چھ نشستوں کے لیے پانچ مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی جس کے دوران علیحدگی پسندوں نے بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کی مہم چلائی، لیکن پولیس نے علیحدگی پسندوں کو نظربند کیا اور قریب دو ہزار نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ اس کے باوجود کشمیر میں 30 فیصد کے قریب ووٹنگ شرح رہی۔

کشمیر کا لداخ خطہ چین کی سرحد پر واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ کشمیر اور جموں سے بڑا ہے لیکن یہاں تین لاکھ سے بھی کم لوگ رہتے ہیں۔ یہاں پارلیمنٹ کی ایک نشست ہے جسے بی جے پی کے تھمپسن ژوانگ نے محض 36 ووٹوں سے جیت لیا ہے۔ نریندر مودی نے جموں اور لداخ میں انتخابی مہم کے دوران ریلیوں سے خطاب کیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اگرچہ انتخابی سیاست کو ابھی تک عوامی اعتبار حاصل نہیں ہے، زمینی سطح پر لوگوں میں روایتی ہند نواز سیاست بےحد غیرمقبول ہوچکی ہے۔ تجزیہ نگار اور سماجی کارکن عبدالقیوم شاہ کا کہنا ہے: ’عمرعبداللہ نے نریندر مودی کو کشمیر میں بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔ جموں اور پونچھ میں بھی انہوں نے لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کیا۔ اب لوگوں نے یہ خطرہ رضاکارانہ طور پر مول لیا ہے، شاید اب انہیں پچھتاوا ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران اپنے سیاسی نظریات کی بجائے کانگریس کی ڈوبتی نیّا کو بچانے کی کوشش ایک بے وقوفی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی مہم میں ہم سے چوک ہوگئی: عمر عبداللہ

دریں اثنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوٹر پر بھی اکثر کشمیری نوجوانوں نے حکمران نیشنل کانفرنس کی شکست پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے تو اس واقعہ کو آدھی آزادی سے تعبیر کیا ہے۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں فیس بک پر انسانی حقوق کی پامالیوں پر تبصرہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاون جاری رہا۔

کشمیر کی مقامی اسمبلی کی معیاد اس سال دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق اس مدت سے چھ ماہ قبل بھی کشمیر میں انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ الیکشن میں دندان شکن شکست کے بعد حکمران اتحاد نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو اب اسمبلی انتخابات میں بھی سیاسی خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں