نریندر مودی متنازع شخصیت کے مالک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارلیمانی انتخابات میں مودی کی قیادت میں بی جے پی نے ابھی تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

نریندر دامودر داس مودی متنازع شخصیت کے مالک ہیں اور ان کے چاہنے والے اور انھیں ناپسند کرنے والے دونوں ہی اپنی محبت اور نفرت میں حد سے گزر جاتے ہیں۔

مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں، جبکہ چاہنے والوں کے لیے ان کے کئی اوتار ہیں، کہیں وہ ہندوتوا کے پوسٹر بوائے ہیں، تو کہیں تبدیلی اور اقتصادی ترقی کی علامت، یا پھر ایک ایسے مضبوط رہنما جو ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

مودی کی سیاسی زندگی جتنی سرخیوں میں رہی ہے، ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں لوگ اتنا ہی کم جانتے ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں لیکن ہمیشہ اکیلے رہے ہیں۔ ان کے تین بھائی بھی ہیں، اور والدہ بھی حیات سے ہیں، لیکن وہ اپنے خاندان سے زیادہ واسطہ نہیں رکھتے۔

ان کے ایک بھائی نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی’قوم کے نام وقف کر دی ہے۔‘

ابتدائی زندگی

مودی کا جنم 17 ستمبر 1950 کو گجرات کے مہسانہ ضلعے میں ایک غریب خاندان میں ہوا تھا۔ ان کے والد دامودر داس ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتے تھے اور والدہ ہیرا بین گزر بسر میں مدد کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں۔

بچپن میں خود نریندر مودی اپنے والد کے ساتھ ٹرینوں میں چائے بیچا کرتے تھے۔ اس الیکشن میں انھوں نے اپنے ’غریب بیک گراؤنڈ‘ کا بھرپور فائدہ اٹھایا، یعنی ایک چائے بیچنے والا جو ایک ’شہزادے‘ (راہل گاندھی) کو چیلنج کر رہا ہے۔

ان کے سوانح نگار کے مطابق بچپن میں ان کے ذہن میں سنیاسی بننے کا بھی خیال آیا تھا اور وہ کچھ دن راماکرشن مشن میں بھی جا کر رہے۔ 17 سال کی عمر میں جشودا بین سے ان کی شادی ہوئی لیکن دونوں کبھی ساتھ نہیں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption انتخابات کے دوران نریندر مودی کو اچھے منتظم کے طور پر پیش کیا گيا ہے

انھوں نے جوانی میں ہی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور 70 کی دہائی سے پرچارک یا تنظیم کے مبلغ کے طور پر کام کر نا شروع کر دیا۔ ان کی سیاسی تربیت آر ایس ایس میں ہی ہوئی لیکن اب ان کے کاروبار نواز اقتصادی نظریے اور آر ایس ایس کے ’سودیشی‘ کے تصور میں براہِ راست تضاد ہے۔ وہ کئی بڑے صنعتی گھرانوں کے قریب مانے جاتے ہیں اور اس الیکشن میں کارپوریٹ انڈیا نے ان کی زبردست حمایت کی ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس الیکشن میں آر ایس ایس نے بھی ان کی بھرپور حمایت کی۔

آمرانہ شخصیت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مودی کے سر ریاست گجرات میں مسلم کش فسادات میں جان بوجھ کر غفلت برتنے کا الزام ہے

مودی کو شروع سے ہی بی جے پی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور انھی کی مدد سے وہ سنہ 2001 میں پہلی مرتبہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے۔ سنہ 1991 میں جب رام مندر کی تعمیر کے لیے مسٹر اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا نکالی تھی تو اس کا انتظام نریندر مودی نے ہی سنبھال رکھا تھا۔

لیکن مودی کے وزیر اعظم بننے کے چند ہی مہینوں بعد فروری 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جو آج تک ان کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ فسادات میں سینکڑوں مسلمان مارے گئے اور مسٹر مودی پر الزام ہے کہ انھوں نے خونریزی روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ فسادات روکنے میں ناکامی کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی چاہتے تھے کہ مسٹر مودی استعفی دے دیں لیکن ایل کے اڈوانی نے ان کی کرسی بچائی۔

اسی سبب امریکہ نے انھیں ہمیشہ ویزا جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption نریندر مودی نے انتخابات میں ترقی کے پیغام کے ساتھ ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کی

لیکن جب سے مسٹر مودی نے وزیر اعظم کی کرسی کے لیے اپنے عزائم کا عندیہ دیا، تو اڈوانی سے ان کے تعلقات بگڑنا شروع ہوگئے۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی آمرانہ شخصیت کی جھلک پیش کرتے ہوئے مسٹر اڈوانی، سشما سوراج اور مرلی منوہر جوشی جیسے سینیئر رہنماؤں کو کنارے کر دیا۔

یہ الیکشن بھی بے جے پی کے نام پر نہیں، مودی کے نام پر لڑا گیا اور اس کا مرکزی نعرے تھے: ’اب کی بار، مودی سرکار۔‘ ’مودی کو ووٹ دیجیے، بی جے پی کو نہیں،‘ ’اچھے دن آنے والے ہیں، اور اچھے دن صرف مودی لا سکتے ہیں۔‘

پوری انتخابی مہم کے دوران ان کے ساتھ سٹیج پر پارٹی کا کوئی دوسرا لیڈر نظر نہیں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور اسی لیے بہت سے سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ایک سیکیولر ملک میں سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ملک کے جمہوری اداروں اور روایات کا احترام کرنا ہی ان کی سب سے بڑی آزمائش ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption مودی کی حمایت میں آر ایس ایس کے ساتھ ملک کا کاروباری طبقہ بھی پیش پیش رہا ہے

خود نریندر مودی کے خلاف تو مذہبی فسادات کے سلسلے میں کبھی کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا لیکن فسادات سے متعلق ایک کیس میں ان کی وزیر مایا کوڈنانی عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان کے سب سے قریبی معتمد اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کو پولیس کے فرضی مقابلوں کے سلسلے میں قتل کے الزامات کا سامنا ہے اور وہ فی الحال ضمانت پر رہا ہیں۔

امت شاہ ہی اتر پردیش میں پارٹی کی انتخابی مہم کے انچارچ تھے اور الزام یہ ہے کہ انھوں نے انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے الیکشن کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر مودی کے سامنے دو بڑے چیلنج ہوں گے۔ بلندو بانگ وعدوں کو کیسے پورا کیا جائے اور مذہبی تفریق کو کیسے ختم کیا جائے۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کریں گے؟

پہلے چیلنج سے عوام کی توقعات وابستہ ہیں دوسرے سے ملک کا مستقبل۔

اسی بارے میں