’برطانیہ افغان قیدیوں کو ہمارے حوالے کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لندن کی ایک عدالت نےگزشتہ دنوں قیدیوں کو 96 گھنٹے سے ذیادہ قید رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا

افغان حکومت نے کہا ہے کہ برطانیہ ہلمند اور قندھار میں برطانوی فوجوں کی زیرِ نگرانی جیلوں میں بند قیدیوں کو اِن کے حوالے کریں۔

افغان تحقیقات کے مطابق ہلمند اور قندھار میں برطانوی فوجوں کی زیرِ نگرانی جیلوں میں 23 قیدی بند ہیں جن میں سے ایک قیدی کو 31 ماہ سے بند رکھا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جب تفتیش کاروں نے امریکہ کے زیرِ نگرانی جیلوں کا دورہ کیا تو وہاں ایک بھی قیدی موجود نہیں تھا۔

افغانی حکومت کایہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب لندن کی ایک عدالت نےگزشتہ دنوں قیدیوں کو 96 گھنٹے سے زیادہ قید رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Massoud Hossaini AFP Getty Images
Image caption ایک قیدی کو 31 ماہ سے بند رکھا گیا ہے

افغانی صدر حامد کرزئی کے لیے افغانی قیدیوں کو بند رکھنے کا معاملہ ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ واضع رہے کہ برطانوی فوجیں کچھ ہی عرصے میں افعانستان چھورنے والی ہیں اور اس وقت ملک میں نئی حکومت کے لیے انتخابات جاری ہیں تاہم کرزئی نے اپنی تقریروں میں غیر ملکی فوجوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

افغان تحقیقاتی کمیٹی میں شامل حکومتی تفتیش کار عبدالشکور دادراس نے کہا کہ ’ افغانی قانون کے تحت کسی بھی غیر ملکی کو افغانستان میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہے اور غیر ملکی کسی بھی انسان کو ایک دن کے لیے تو کیا ایک گھنٹے کے لیے بھی قید نہیں کر سکتے‘۔

عبدالشکور دادراس نے مزید کہا کہ کیمپ بیستین میں موجود 17 قیدیوں میں سے ایک بھی قیدی کو ایک مہینے سے کم مدت کے لیے نہیں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکام نے ان کو بتایا کہ 31 ماہ سے بند نور احمد ایک خطرناک آدمی ہے اور اسے رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاہم عبدالشکور کا کہنا تھا کہ نور احمد ایک خطرناک آدمی ہے یا نہیں اس کا تعین کرنا افغان حکام پر چھوڑ دینا چاہیے اور کوئی بھی مقامی یا بین القوامی قانون قیدیوں کو اتنے زیادہ عرصے کے لیے بند رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسی بارے میں