مودی: بھارتی معیشت کے نجات دہندہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نریندر مودی کے وزیرِاعظم کی دوڑ میں شامل ہونے سے ایک سال پہلے ہی ملک کی بڑی کاروباری شخصیت انیل انبانی نے انھیں ’بادشاہوں کا بادشاہ‘ کا لقب دے دیا تھا۔

اور اب انتخابات میں ان کی زبردست کامیابی کے بعد ممبئی کی کاروباری برادری اپنے بازو کھولے نریندر مودی کا استقبال کرنے کو تیار ہے۔ انھیں امید ہے کہ ان حالات میں کہ جب معاشی ترقی کی شرح ڈگمگا رہی ہے، سرمایہ کاری کم ہوتی جا رہی اور خریداروں کی طلب میں بھی کمی ہو رہی ہے تو مودی ہی ان کے نجات دہندہ ہو سکتے ہیں۔

مودی گذشتہ بارہ سال سے زیادہ عرصے سےگجرات کے وزیرِ اعلیٰ چلے آ رہے ہیں اور ان برسوں میں گجرات کی معیشت تقریباً 10 فیصد سالانہ ترقی کرتی رہی اور یہ ریاست سرمایہ کاروں کے لیے ایک مقناطیس بن گئی۔

من موہن کی حکومت کے آخری برسوں کے برعکس وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت میں نریندر مودی نے اپنی شہرت ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر تسلیم کروا لی جو کاروباری دنیا کا حامی ہے، فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خود سے کام کرنا جانتا ہے۔ ایس آر ای آئی کے نائب چیئرمین سنیل کنوریا کے بقول ’صنعتی دنیا ایک ایسی مضبوط قیادت کی تلاش میں ہے کہ جو صاف صاف بات کرے اور اعتماد دے۔ اور وہ قیادت نریندر مودی ہیں۔‘

یہ صرف کاروباری برادری کا ہی خیال نہیں کہ مودی ہی وہ شخص ہیں جو معیشت کو ٹھیک کر سکتے ہیں، بلکہ بھارتی رائے دہندگان کی ایک غالب اکثریت کو بھی اس بات پر یقین ہے اور اسی لیے انھوں نے انتخابات میں پچھلی حکومت کی چھٹی کرا دی۔

انتخابی مہم کے دوران بھی مودی نے گجرات میں اپنی معاشی کارکردگی کو اپنا مرکزی نکتہ بنایا۔

لیکن جن ہم بھارت کی معیشت کا رخ موڑنے کی بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ کے اس امیدوار کو چند بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

ملازمتوں میں تیز اضافہ

مودی کے انتخابی وعدوں میں ایک بڑا وعدہ ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ رہنما کی حکمت عملی آمرانہ ہوتی ہے یا وہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے: ماہر

انڈیا کی نصف سے زیادہ آبادی کی عمر 25 سال سے کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ہر سال ایک کروڑ نئے لوگوں کے لیے ملازمتوں کا بندوبست کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انڈیا کو سالانہ سات سے آٹھ فیصد کی شرح نمو حاصل کرنا ہے۔ گذشتہ حکومت یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2004 اور 2012 کے درمیان بھارت محض پانچ کروڑ 30 لاکھ ملازمتیں پیدا کر سکا تھا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بھارت کو ایک دو جہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایک جانب صنعتی شعبے کو بڑے پیمانے پر بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس کےساتھ ساتھ ملک کو ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس سے درمیانے اور چھوٹے کاروباروں کے حوصلہ افزائی ہو۔

اگر اس قسم کا امتزاج کام کرتا ہے تو اس سے ملازمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

معاشی ڈھانچے میں بہتری

انڈیا میں معاشی ترقی کی را ہ میں ایک سب سے بڑی رکاوٹ ملک کا ڈھانچہ یا انفراسٹرکچر ہے۔

سنہ 2004 اور سنہ 2012 کے دوران ہونے والی دیوانہ وار ترقی کا مطلب یہ تھا کہ اس دوران انڈیا کو مسلسل اپنے ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا تھی جس کا فائدہ یہ ہوتا کہ شرح نمو میں کمی کی صورت میں بھی یہ ڈھانچہ معیشت کو سنبھالے رکھتا۔ لیکن ہوا اس کے برعکس اور سرکاری دفاتر کی سست روی اور ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے بہت سے منصوبے مکمل نہ ہو سکے۔

حتیٰ کہ سنہ 2013 میں حکومت کو وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی سربراہی میں ان مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینا پڑی، لیکن حکومت نے یہ قدم اٹھاتے اٹھاتے اتنی دیر کردی کہ اس کے کوئی خاطر خواہ نتائح نہ آئے۔

اگرچہ فروری 2014 تک حکومت نے ایک سو ارب ڈالر مالیت کے 310 منصوبے منظور کیے لیکن اب بھی اس سے کہیں زیادہ منصوبے حتمی منظوری کے منتظر ہیں۔ اگر نئی حکومت اس پر تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے تو ان میں سے کچھ منصوبے آئندہ چند ماہ میں مکمل ہو سکتے ہیں۔

’زیادہ پُراثر منصوبوں کی نشاندھی کرنا بھی ایک فن سے کم نہیں۔‘ انڈیا میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ماہر معاشیات سمیرن چکرورتی کا کہنا ہے کہ ’ اگر آئندہ چند ماہ میں نئی حکومت اس قسم کے 20 منصوبے منتخب کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کے دُور رس اثرات ہوں گے۔‘

مہنگی اشیائے خورد و نوش

انتخابات میں گذشتہ حکومت کی اتنی بُری شکست کی ایک بہت بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔

گذشتہ برسوں میں سود کی شرح کو بلند سطح پر برقرار رکھ کر انڈیا کا مرکزی بینک مہنگائی کے خلاف جنگ کرتا رہا ہے لیکن ملک کو اس حکمت عملی کی قیمت شرح نمو میں کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑی ہے۔

گزشتہ نومبر میں خوراک کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس اچانک اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاشی ترقی کی را ہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سےایک ملک کا ڈھانچہ ہے۔

دیہی علاقوں میں لوگوں کی آمدن میں اضافے کی وجہ سے گذشتہ برسوں میں انڈوں اور دودھ کی طلب بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ بارشوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے جس سے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں مذید اضافہ ہو گیا۔

اگر حکومت خوراک ذخیرہ کرنے کی نظام میں بہتری لا سکے تو اس سے خوراک کی قیمتوں کو بڑی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ذخیرہ کرنے کی سہولیات کی حالت زار کی وجہ سے موسمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی دوسری بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے۔ بہت سے تاجر خوراک ذخیرہ کر کے قیمتوں میں اضافے کا انتظار کرتے ہیں اور حکومت پر تنقید کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے ذخیرہ اندزوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

غیر ملکی سرمیاہ کاری کی حوصلہ افزائی

گذشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاری، دونوں میں کمی ہوئی ہے۔اگرچہ سنہ 2013 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا لیکن انڈیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود رہے۔

حالیہ برسوں میں انڈیا نے ایسے کچھ اقدامات کیے جنھیں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً ’ووڈا فون‘ کے ساتھ ٹیکس کے جگھڑے اور پھر پالیسی میں ہر دوسرے دن تبدیلیوں نے سرمایہ کاروں کو ڈرا دیا ہے۔ اور یہ بھی نہ بھولیں کہ انڈیا کو مسلسل ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جہاں کاروبار کرنا بہت مشکل ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی بینک نے ’ایسے ممالک جہاں کاروبار کرنا آسان ہے‘ کی فہرست میں بھارت کو 134ویں نمبر پر رکھا ہے۔

گودرج گروپ کے چیئرمین ادی گودرج کہتے ہیں کہ ’ حکومت کی فوری ترجیح یہ ہونی چاہئیے کہ بھارت میں کاروبار کو آسان بنائے۔‘

آئندہ چیلنج

تو کیا مودی یہ سب کچھ کر پائیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ حکومت کی فوری ترجیح یہ ہونی چاہئیے کہ بھارت میں کاروبار کو آسان بنائے۔‘

انفراسٹکچر کے ماہر مسٹر کنوری کہتے ہیں کہ ہمیں ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو کام کر کے دکھائے۔

’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ رہنما کی حکمت عملی آمرانہ ہوتی ہے یا وہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اور مودی ہی وہ رہنما ہیں جو یہ کر سکتے ہیں۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی کو بہت بڑا چیلیج درپیش ہے۔

لیکن کاروباری برادری پُر اعتماد ہے کہ معیشت کو ٹھیک کرنے اور انھیں روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے کا گُر مودی کے پاس ہے۔