’پاکستان پرامن افغان صدارتی انتخاب کے لیے تعاون پر تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ MoD
Image caption جنرل راحیل شریف نے افغان وزیرِ دفاع بسم اللہ محمدی سے بھی ملاقات کی

افغانستان نے ملک میں صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کے موقع پر سکیورٹی انتظامات میں مدد کے لیے پاکستان سے درخواست کی ہے۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس معاملے میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ پیر کو کابل میں افغانستان، پاکستان اور نیٹو کے سہ فریقی اجلاس میں اٹھایا گیا۔

اس اجلاس میں افغان بری فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈینفرڈ شریک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ افغانستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی اور دو طرفہ تعاون سمیت دیگر معاملات زیرِغور آئے۔

Image caption پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد افغانستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں نیٹو افواج کے انخلا کے پیش نظر ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج کو سونپنے کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحدی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اس اجلاس کے بعد افغانستان کے قائم مقام صدر یونس قانونی اور وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی سے بھی ملاقات کی۔

قائم مقام صدر اور وزیر دفاع کے ساتھ جنرل راحیل شریف کی ملاقاتوں میں باہمی امور پر بات جیت ہوئی۔

یہ سہ فریقی اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہوا ہے جب ایک جانب صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں امن و امان کا قیام افغان حکام کی ترجیح ہے وہیں دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں کسی حد تک اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک افغان فوجی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا۔

افغانستان میں صدارتی انتخاب کا پہلا پرامن رہا تھا اور اب دوسرے دور میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

ابتدائی دور میں طالبان نے بڑے پیمانے پر سکیورٹی میں خلل ڈالنے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن افغان سکیورٹی فورسز ان کے ارادوں کو ناکام بنانے میں بڑی حد تک کامیاب رہی تھیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار پاکستان میں موجود شدت پسند گروپ الیکشن کے دوسرے مرحلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور پاکستان ان پر قابو پانے کے سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

افغان حکام کا موقف رہا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کے ٹھکانے سرحد پار پاکستانی علاقوں میں ہیں اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل در آمد کرے۔

پاکستان کی سرحد سے افغانستان کے صوبے کنڑ میں راکٹ فائر کیے جانا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے افغان حکومت نے ہمیشہ پاکستان پر تنقید کی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلو میٹر طویل سرحد ہے جس کی اب تک واضح نشاندہی اور حد بندی نہیں کی جا سکی ہے۔

افغان حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود طالبان گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت کا افغانستان پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو پناہ دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں