مودی کے دور میں افغان بھارت تعلقات کیسے ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption افغانستان اور بھارت کے تعلقات روایتی طور پر دوستانہ اورگہرے رہے ہیں

ہندوستان کے حالیہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کے بعد اب سب کی نظریں نومنتخب وزیراعظم کی قیادت میں آنے والی حکومت کے علاقائی تعلقات پر جمی ہیں۔

افغانستان اور پاکستان خطے کے وہ ممالک ہیں جو بھارت میں آنے والی نئی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

پاکستان افغانستان کا جڑواں بھائی جبکہ بھارت بڑا دوست

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ مستقبل میں تعلقات نہ صرف اندرونی عوامل پر منحصر ہیں بلکہ 2015 کے علاقائی واقعات کے ساتھ بھی منسلک ہوں گے کیونکہ یہاں سے غیر ملکی افواج نکل چکی ہوں گی۔

امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں استحکام لانے اور بھارت کی طرف سے پاکستان کی تشویش کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی لیکن اس سال کے آخر تک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ شاید یہ صورت حال بدل جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان ہمیشہ بھارت اور پاکستان کے لیے سٹریٹجک اہمیت حامل رہا ہے اور افغانستان میں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری تشدد کے کچھ عوامل کا تعلق بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات سے ہے۔ اب بھی بعض تجزیہ کاروں کی پیشنگوئی ہے کہ شاید افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ افغانستان میں بھارت اور پاکستان اپنا سٹریٹجک اثر و رسوخ بڑھانے کی زیادہ کوششیں کریں۔

افغانستان کی مالی امداد

Image caption بھارت افغانستان کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

افغانستان سے 2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد دہلی اور کابل کے درمیان تعلقات میں توسیع دیکھنے میں آئی ہے اور اس دوران بھارت نے افغانستان کو اچھی خاصی ترقیاتی امداد فراہم کی ہے۔

جس میں افغان پولیس، سفارت کاروں کی تربیت، سڑکوں، صحت، تجارت اور معیشت کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تاہم ان سب سے اوپر بھارت افغانستان کو علاقائی استحکام کے لیے سٹریٹجک اتحادی مانتا ہے اور دونوں ممالک نے ایک سٹریٹجک معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت افغان فوج کی ضرورت کے لیے روس سے بھاری ہتھیار خریدنے اور بعد میں افغانستان کو یہ اسلحہ مہیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان اطلاعات پر پاکستان کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی روایتی طور پر پاکستان کے بارے میں زیادہ سخت موقف رکھتی ہے اور پارٹی کے بعض اراکین نے خبردار کیا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی حالت میں 2009 میں ہوئے ممبئی حملے کی طرح حملوں کو برداشت نہیں کرے گی۔

اسی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نہ صرف افغانستان کی امداد جاری رکھے گی بلکہ اس کی حکومت کی طرف سے افغانستان کو دی جانے والی فوجی اور ترقیاتی امداد میں اضافہ کا امکان بھی ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ چند ماہ بعد افغانستان کی مستقبل کی حکومت کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی لیکن صدارتی انتخابات کے دوسرے دور کے دونوں رہنما عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی بھارت کے ساتھ مضبوط رشتے کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔

پاکستان کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بھارت اور پاکستان دونوں ہی اس پر اپنا اثر بڑھانے کے لیے کوشاں رہے ہیں

پاکستان پر بار بار افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا گیا ہے اور شاید بھارت پاکستان کے اس مقصد کے حصول میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

کہا جاتا ہے کہ بھارت نے 1990 دہائی کے وسط میں افغانستان میں پاکستان کے ملوث ہونے کو نظر انداز کیا اور اس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان کو ان عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا جو بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اس کے خلاف لڑتے تھے۔ا گرچہ پاکستان نے ہمیشہ اس طرح کے الزامات کو رد کیا ہے اور اس کے برعکس بھارت پر بلوچی علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

بھارت نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس تجربے کو دہرانے سے بچنے کے لیے حامد کرزئی کی قیادت میں افغان حکومت کے ساتھ مضبوط تعلقات بنائے۔

افغانستان اور بھارت کے تعلقات پر پاکستان قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور انھیں یقین ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں افغانستان میں بھارت کے اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2011 میں افغان صدر حامد کرزئی نے دو بار بھارت کا دورہ کیا تھا

تاہم پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے حال ہی میں برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے اس اندیشے کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کی تعمیرِنو کے منصوبوں میں بھارت کے کردار کے بارے میں فکر مند نہیں ہے لیکن اگر’بھارت ایک یا دوسرے گروہ کی حمایت کر کےافغانستان میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے تو مسائل ہمارے پالیسی سازوں کے لیے پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔‘

سرتاج عزیز کے مطابق ’بھارت اور افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے پاکستان کی پالیسی، اقتصادی مواقع کی بنیاد پر مبنی ہے اور یہ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے علاقائی تجارتی تعلقات کے ساتھ منسلک کرنے کے مواقع ہیں۔‘ سرتاج عزیز کے مطابق یہ وہ مواقع ہیں جنھیں ہم کھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان میں بھارت کے سٹریٹیجک مفادات کے تناظر میں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے نریندر مودی کی قیادت میں اس ملک کی نئی حکومت، جمہوریت کو برقرار رکھنے اور انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں میں اس ملک کی تباہی کی روک تھام کے لیے افغان حکومت کی حمایت کی خاطر سابق بھارتی حکومت کی پالیسی کی پیروی کرے گی۔

اسی بارے میں